April, 2019

now browsing by month

 

Ramadhan

Innalhamda Lillah

إِنَّ الْحَمْدَ لِلّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا
مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ
وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ

Baca selengkapnya https://muslim.or.id/1904-donasi-dakwah-website-muslim-dan-muslimah.html

Hyderabad City Tour

Voter’s Choice An Intellectual Opinion!

حریف نہیں حلیف سمجھیں……
بھارت میں مسلمانوں کا طرز عمل الیکشن کے تعلق سے کیا ہو؟ اس میں اختلاف رائے ہے. ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ جمہوری سسٹم ایک نظام باطل ہے، ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے اور کسی طرح کی بھی شرکت تعاون علی الإثم کے زمرے میں میں ہوگی جس کی شرعا گنجائش نہیں ہے. ہمیں دعوت و اصلاح کے کام پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اعلائے کلمة الله و قیام نظام خلافت کیلئے انتھک جدوجہد کرنی چاہیے.
دوسرا موقف یہ ہے کہ دعوت و اصلاح کی کوششوں کے ساتھ ملک کے حالات پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے. ملک میں دو طرح کی طاقتیں ہیں، ایک فسطائیت پسند اور آمرانہ ذہنیت کی حامل ہیں اور آزادیوں کو سلب کرنا چاہتی ہیں، اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت تمام باشندوں پر بجبر نافذ کرنا چاہتی ہیں، ہندو مسلم تعلقات کو خراب کرنے کے درپے ہیں. ایک ملک ایک تہذیب کا نعرہ بلند کرتی ہیں اور مذہبی آزادی کو ختم کرنا چاہتی ہیں. دوسری طرف کھلے ذہن کے افراد ہیں جو شہریوں کی آزادی کی برقراری کی علمبردار ہیں، آزادی رائے کا تحفظ چاہتی ہیں، مذہبی آزادی کی طرفدار ہیں، ملک میں بھائی چارہ چاہتی ہیں اور ایک تکثیری سماج کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے، تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ، اپنے مذہب پر عمل اور اس کے تحفظ و اشاعت کا حق دستور کے مطابق بلا تفریق دینا چاہتی ہیں.
حکمت و مصلحت اور دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ ثانی الذکر طاقتوں کا ساتھ دیا جائے اور فسطائی عناصر کو شکست دینے کیلئے انصاف پسند طاقتوں کو مضبوط کیاجائے تاکہ ملک میں بھائی چارہ قائم رہے، تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی حاصل رہے.
ان دونوں مواقف کے حاملین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بننا چاہیے، جو لوگ عادلانہ نظام خلافت کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ دوسرے فریق کو اپنا حریف نہیں بلکہ معاون و حلیف سمجھیں، کیونکہ آزادی باقی رہے گی تو کام کے مواقع باقی رہیں گے اور آپ کے مشن کی تکمیل کی راہ آسان ہوگی. یہ صحیح کہ کام تو ہر حال میں کرنا ہے، مکہ جیسے سخت ترین حالات میں بھی کرنا ہے لیکن حتی الامکان میسر مواقع کی بقا کی کوشش بھی جاری رکھنی ہے. فراست ایمانی کا تقاضا ہے کہ مصیبت کو دعوت نہ دی جائے اور جب آہی جائے تو صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا جائے. متفق علیہ امور میں تعاون و اشتراک اور مختلف فیہ امور میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام ضروری ہے. نئے حالات میں نئی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے جس کیلئے مقاصد شریعت پر نظر اور مصالح و مفاسد کے درمیان موازنہ لازمی ہے. فقہ الواقع ایک اہم سبجیکٹ ہے جس سے واقفیت صحیح موقف اختیار کرنے کیلئے ضروری ہے.
طاہر مدنی، 29 اپریل 2019

Vote ki Ahamiyat par “Fatwa”!

دار العلوم دیوبند کا فتوی ھندوستان میں ووٹ ڈالنا شرعی فریضہ ہے. ووٹ نہ ڈالنا حرام ہے
DARUL ULOOM DEWBAND KA FATWA INDIA ME VOT DALNA SHAREE FAREEZA HAI VOT NA DALNA HARAAM HAI

Indiaسوال # 43094
ہندوستان میں جمہوری نظام نافذ ہے اس کے تحت اس جمہوری نظام کو چلانے کے لئے کوئی بھی ہندوستانی انتخابی الیکشن لڑسکتا ہے ۔الیکشن لڑنے والے افراد مسلمان بھی ہوسکتا ہے اور غیر مسلم بھی ۔ایسے موقعہ پر تمام امید وار اپنی حقانیت کے وعدے کرتے ،لیکن عوام جانتی ہے کہ یہ انتخابی پرو پیگنڈہ یہ تمام امید وار جھوٹ بولتے ہیں تو برئے مہربانی یہ بتائیں۔
(1) کیا مسلمانوں کو الیکشن میں کھڑا ہونا چاہئے؟
(2) کیا مسلمانوں کو ووٹ ڈالنا چا ہئے؟
(3) ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
برائے مہربانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوب دیں ۔
Published on: Jan 1, 2013 جواب # 43094
بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 93-38/L=2/1434

(۱) مسلمان کے لیے الیکشن میں کھڑا ہونا شرعاً ناجائز نہیں ہے۔ قوم وملت کی خدمت کرنے کی ترغیب خود احادیث کثیرہ میںآ ئی ہے۔ البتہ مسلمان لیڈر کو چاہیے کہ وہ الیکشن میں کھڑے ہوکر جائز وناجائز کی پرواہ کیے بغیر عمل نہ کرے، جھوٹ فریب دھوکہ اور جھوٹے وعدے سے کلی اجتناب کرے، محض مالی منفعت، دنیاوی لذت،نیز جاہ طلبی کے جذبہ سے کھڑا نہ ہو، کسی سے دب کر غیر اسلامی طریقہ کو اختیار نہ کرے، فرقہ پرست عناصر اور بدکردار لوگوں سے گٹھ جوڑ نہ رکھے، اس کا مقصد صرف اور صرف قوم وملت کی خدمت کرنا، مظلوموں کی امداد کرنا، ناجائز مقدمات میں پھنسے لوگوں کو باعزت بری کرانا ہو وغیرہ۔
(۲) (۳) ووٹ کی شرعی حیثیت کم ازکم شہادت کی ہے، اس کو محض سیاسی ہارجیت کا ذریعہ قرار دینا سخت نادانی ہے، قرآن وسنت کی رو سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے: وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے، اس لیے چند امور اس کو ملحوظ رکھنے چاہئیں:
(۱) ووٹ ڈالنے میں احتیاط سے کام لے، غلط جگہ مہر وغیرہ نہ لگے، اس کا خیال رکھے ورنہ اس کا ووٹ ضائع ہوجائے گا جو کہ بڑا نقصان ہے۔
۲) باہم مشورے سے خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دے، محض اپنے تعلقات یا غیرشرعی دباوٴ سے متأثر ہوکر ہرگز ووٹ نہ دے۔
۳) جو امیدوار اس کے علم کے مطابق ووٹ کا زیادہ مستحق ہے دیانةً اسی کو اپنا ووٹ دے۔
۴) جس امیدوار سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو اس کو ہرگز ووٹ نہ دے۔
۵) اگر تمام امیدواروں کے حالات یکساں ہوں تو پھر جس سے زیادہ فائدہ کی امید اور کم نقصان کا اندیشہ ہو اس کو ووٹ دے۔
۶) روپیہ یا کوئی مال لے کر کسی کو ووٹ نہ دے یہ بدترین رشوت اور حرام فعل ہے۔
۷) ووٹ کی حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

عدلیہ کے شیر کو بلی بنانے کی ناکام

آج کا کالم

عدلیہ کے شیر کو بلی بنانے کی ناکام  کوشش

سلیم خان  28/04/2019 0306Google+WhatsAppTelegramای میل کے ذریعے شیئر کیجیےپرنٹ کیجیے

ڈاکٹر سلیم خان

ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار پچھلے سال جب سپریم کورٹ کے ججوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو  نریندر مودی حکومت سکتہ میں آگئی۔   اپنے تقرر سے صرف ۹ ماہ  قبل حکومت سے پنگا لے لینا چیف جسٹس رنجن گگوئی کاکوئی معمولی اقدام نہیں  تھا۔ کبر سنی میں انسانی قویٰ مضمحل ہوجاتے ہیں۔  ملازمت کے آخری مراحل میں انسان خطرات سے گھبرانے لگتا ہے کیونکہ  مستقبل کی فکر ستانے لگتی ہے۔   ایسے میں ارباب سیاست  سے ٹکرانے کی جرأت کم ہی لوگ کرپاتے ہیں اور اگر مسند اقتدار پر منموہن سنگھ کی مانند نرم خو انسان  کے بجائے نریندر مودی کی طرح کا کینہ پرور شخص فائز ہو تب تو اچھے اچھوں کے ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔  سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس  دیپک مشرا کے بعد سینئر ترین جسٹس جستی چلمیشور،  جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس کورین جوزف نے عدالت عظمیٰ  میں انتظامی ضابطوں کی خلاف ورزی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصف اعظم کی  عدالتی بنچوں کے من مانے ڈھنگ سے الاٹ کرنے سے عدلیہ کی  اعتباریت پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔

اس پنڈورا بکس کے کھلنے کی بنیادی وجہ جسٹس لویا کا معاملہ تھا۔ عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس  کے ساتھ اختلافات اس وقت ناقابلِ برداشت ہوگئے جب  سہراب الدین جعلی مذبھیڑ  کی تحقیقات کرنے والے جسٹس بی ایچ لویا کی پراسرار موت کا معاملہ ایک جونیئر بینچ کے سپرد کردیا گیا۔  مذکورہ ججوں نے پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکر کیا کہ  اس بابت  دائر مفادِ عامہ کی عذرداری کو سماعت کے لیے پہلے چار بینچوں کے بجائے کورٹ نمبر دس کے سپرد کیا گیا تھا۔ ان حضرات  نے پریس میں آنے سے قبل  اپنی گزارشات جسٹس دیپک مشرا کے سامنے پیش کیں لیکن جب  قائل لرنے میں ناکام رہے تو مجبوڑاً  میڈیا کے سہارے  قوم کومخاطب کرناپڑا۔ جج حضرات نے بتایا کہ  اگر عدلیہ غیر جانبدار نہیں رہے گی تو ملک سے جمہوریت کا خاتمہ ہو جائے گا۔یہ بات چیف جسٹس دیپک مشرا بھی سمجھتے تھے لیکن چونکہ جسٹس لویا  کے معاملے شک کی سوئی امیت شاہ کی جانب گھوم جاتی تھی اس لیے وہ احتیاط برت رہے تھے۔

اس تاریخی پریس کانفرنس میں جب  نامہ نگاروں نے سوال کیا کہ کیا چیف جسٹس کو ان کے منصب سے برطرف کر دیا جانا چاہیے؟ تو جواب ملا  قوم کو ان کے مواخذے کی بابت  فیصلہ کرنے دیا جائےلیکن اس بات پر چاروں کا اتفاق تھا کہ عدلیہ میں بہت سی ناپسندیدہ باتیں ہو رہی ہیں۔جسٹس رنجن گگوئی کا یہ جملہ طلائی حروف سے لکھنے کے قابل تھا کہ کہ عدلیہ کو عام لوگوں کی خدمات کے قابل بنائے رکھنے کے لیے اصلاحات نہیں  بلکہ انقلاب درکار ہے۔  اس پریس کانفرنس میں شریک ہوکر سب سے بڑا خطرہ جسٹس رنجن گگوئی نے مول لیا تھا اس لیے دیپک مشرا کے بعد ان  کا نمبر تھا۔ مرکزی حکومت سے قطعی توقع نہیں تھی کہ وہ جسٹس رنجن گگوئی کو منصف اعظم کے عہدے  پر فائز ہونے دے گی لیکن انہوں نے اس کی پرواہ نہیں کی۔ جسٹس کے ایم  جوزف کی تقرری کے معاملے میں حکومت نے زور لگا کر دیکھا کہ عدلیہ اس کے آگے کتنی جھکتی ہے؟ لیکن جب وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تو ہتھیار ڈال دیئے اور بادلِ ناخواستہ جسٹس رنجن گگوئی کے تقرر پر راضی ہوگئی۔

نئے منصف اعظم کی حلف برداری  سے قبل ان کی تقرری کو سپریم کورٹ میں  چیلنج کردیا گیا۔ عرضی گزارایڈوکیٹ آرپی لوتھرا نے ان کی  میڈیا سے بات چیت کا حوالہ دے کر انہیں نامناسب ٹھہراتے ہوئے اپیل کی  کہ “عدالت کے ۴ سب سے سینئرججوں کے اس عمل نے ملک کی نظام عدل کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نےعدالت کے اندرونی معاملات کو لے کرملک کے شہریوں کے درمیان ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی‘‘۔ مدعی نے  مرکزی حکومت اورچیف جسٹس آف انڈیا کی طرف سے ان چیزوں کو نظرانداز کرنے کی حیرانی جتائی۔  لوتھرا کو اعتراض  تھا کہ عدلیہ کے خلاف کئے گئے اس غیرقانونی عمل کے بعد جسٹس رنجن گگوئی کو پھٹکارلگائے جانے کے بجائے انہیں اگلا چیف جسٹس مقرر کیا جارہا ہے۔ اس درخواست کو مسترد ہونا تھا سو ہوا نیز ۳ اکتوبر ۲۰۱۸؁ کو جسٹس رنجن گگوئی نے ملک کے ۴۶ ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لے لیا۔

شمال مشرقی صوبہ آسام سے پہلی مرتبہ کوئی فرد  ۱۳ ماہ کے لیے اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوا تھا۔ نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے  سنگھ پریوار کی فسطائی ذہنیت پر پہلا بلاواسطہ  حملہ  تویہ کہہ کر کیا کہ ’’ شاید ہم مذہب اور ذات کی بنیادپر پہلے سی کہیں زیادہ بٹے ہوئے ہیں۔  ہمیں کیا پہننا چاہیے،  کیا کھانا چاہیے، کیا کہنا چاہیے، کیا پڑھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے یہ سب ہماری نجی زندگی کے چھوٹے اور غیر اہم سوال نہیں رہ گئے ہیں‘‘۔ ان کے آنے سے عدالت عظمیٰ کے ماحول میں جو تبدیلی آئی اس کا اندازہ معروف وکیل اور سابق اضافی سالیسیٹر جنرل  اندرا جئے سنگھ کی اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشرا جی کے زمانےکوئی اہم قضیہ جب عدالتِ عظمیٰ میں جاتا تو کہا جواب ملتا  پہلے ہائی کورٹ میں جائیں   لیکن اب شکایت کو سنا جاتا ہے اور اس پر فیصلےہوتے  ہیں۔ جسٹس رنجن گگوئی کے تیور کا اندازہ این آر سی کے آسام کو آرڈینٹر پرتیک ہجیلا کو دی گئی  سپریم کورٹ کی  پھٹکار  سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہجیلا کے اخباری انٹرویو  پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں یہ کہنے والے کہ تازہ ڈاکیومنٹ دیں؟ سپریم کورٹ نے ہجیلا سے پوچھا کہ آپ کو عدالت کی توہین  کرنے کے لیے جیل کیوں نہ بھیجا جائے؟ سپریم کورٹ نے خبردار کیا کہ مستقبل میں ہوشیار رہیں۔ ہم آپ کو جیل بھیج سکتے تھے۔ لیکن ہم نے خود کو روکا ہے۔ اس کے بعد  ہجیلا کومعافی مانگنی پڑی۔  نام نہاد  غیر ملکیوں کو جیل میں رکھنے پر بھی انہوں نے آسام کی بی جے پی حکومت کو بری طرح پھٹکارہ  اور شہریت بل  پر مرکز کی نیند حرام کردی۔

چیف جسٹس گگوئی نے جب سے ذمہ داری سنبھالی ہے وہ حکومتِ وقت کے لیے مصیبت بنے ہوئے ہیں۔  مظفرپور شیلٹر ہوم  کے معاملے میں انہوں نے سخت احکامات دیئے۔ سی بی آئی کے معاملے میں حکومت کی  غیر آئینی  دھاندلی کو مسترد کرکےآلوک ورما کو ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ اس کے بعد جب وزیراعظم مودی ان کے تبادلے پر اڑ گئے تو اس فیصلے سے خود کو دور رکھنے کے لیے دوسرے ساتھی کو بھیج دیا۔  مرکزی حکومت کے منظور نظر  سی بی آئی کے سابق عبوری سربراہ ناگیشور راؤ کو توہین عدالت کا قصوروار قرار دےکر شام تک عدالت کے کمرے میں بیٹھے رہنے کی سزا دی اور ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔  ناگیشور راو کو عدالت نے صرف روز مرہ کے انتظامی امور دیکھنے اور اہم فیصلے نہ کرنے کی تلقین کی تھی مگر انہوں نے سرکاری کی خوشنودی کے لیے ایک اہم کیس کی تفتیش کرنے والے اعلی اہلکار کا تبادلہ کر دیا۔ یہ سرکار کے منہ پر طمانچہ تھا حالانکہ اس پرسابق عبوری سربراہ نے اپنی غلطی تسلیم کرکےغیر مشروط معافی  بھی مانگی لیکن گگوئی  نہیں مانے اور  یہ کہاکہ  ‘عدلیہ کی شان اور اس کا وقار برقرار رکھنا ضروری ہے اور یہ توہین عدالت سے نہیں ہوتا۔’

رام مندر کے معاملے میں سنگھ پریوار کو جس طرح جسٹس گگوئی پھٹکارہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ یہ ہماری ترجیحات  شامل نہیں ہے اور اس کے بعد ثالثی شروع کروا کر بی جے پی کو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے سے محروم کردیا۔ رافیل کے معاملے میں کلین چٹ دیتے ہوئے اس رپورٹ کا ذکر کردیا جس کو سرکار نے بند لفافہ میں بنیاد بنایا تھا مگر  موجود ہی نہیں تھی۔  اس سے سرکار کی خوب سبکی ہوئی۔ رافیل کی دوبارہ سماعت کو روکنے کے لیے سالیسیٹر جنرل نے کاغذات کی چوری کا الزام لگا کر درخواست کوخارج  کرنے کا مطالبہ کیا مگر جسٹس گگوئی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔  الیکشن کمیشن کے دوہرے رویہ پر بھی سپریم کورٹ نے اس کے کان اینٹھے اور اس کے بعد یوگی اور دیگر رہنماوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا۔  وزیراعظم نریندر مودی کی زندگی پر بنی فلم پر روک لگائی گئی۔  راہل گاندھی کے سپریم کورٹ کی جانب سے نریندر مودی کو چور کہنے کی بات پر عدالت عظمیٰ کا ردعمل تھا ’کہا تو نہیں ہے‘ اس کا مطلب یہ بھی  ہوسکتا ہے کہ کہا نہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔

جسٹس گگوئی پر لگائے گئے  جنسی ہراسانی کے الزامات  کواس تناظر میں  دیکھا  جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کی ایک سابق    ملازمہ نے ۲۲ ججوں کو خط لکھ‌کر الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)جسٹس رنجن گگوئی نے گیارہ  اکتوبر ۲۰۱۸؁  کو اس پر دست درازی کی۔   اس  کی مخالفت کے بعد سے ہی اسے اوراہل خانہ  کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ ا۔خاتون نے جنسی ہراسانی اور تبادلوں کے علاوہ جو الزامات لگائے انہیں پڑھ کر ہنسی آتی ہے مثلاً دہلی پولس میں  زیر ملازمت شوہر اور اس کے بھائی برخواستگی۔  یہ بھلا سپریم کورٹ کیسے کرسکتا ہے؟  ۹ مارچ۲۰۱۹؁  کو راجستھان کے گاوں میں  دہلی  پولیس کا  دھوکہ دھڑی کے ایک معاملے میں تفتیش اوراس کو  ایک دن کے لئے تہاڑ جیل بھیجا جانا۔ ۔  یہ انتطامیہ کی ذمہ داری ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں اس کی ضمانت کا خارج ہونا۔  اس سے بھی چیف جسٹس کا کوئی سروکار نہیں ہے؟ جسٹس  گگوئی کے مطابق  اگلے ہفتے کئی اہم معاملات  کی سنوائی ہو نی ہے،  اس لئے جان بوجھ ایسے الزامات گھڑے  گئے۔  جس خاتون نے یہ الزامات لگائے،  وہ کسی شخص کو سپریم کورٹ میں نوکری دلانے کا جھانسہ دےکر روپئے لینے کےالزام میں ۴ دن کے لیے جیل جاچکی ہے۔ اس خاتون پر ملازمت میں آنے سے پہلے ہی معاملہ درج تھا۔ اس کے شو ہربھی ایسے ہی معاملات میں ملوث ہے۔

ان الزامات کی  سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل نے فرضی بتاتےقرار دے کر مسترد کردیا۔ انہوں نے خاتون اور اس کے شوہر کو کام میں بے اطمینانی کے سبب اصول کے مطابق برخاست کرنے کی بات کہی۔  انہوں نےکہا  کہ ان جھوٹے اور توہین آمیز الزامات کے پیچھے ‘سوچی-سمجھی حکمت عملی’ہےکیونکہ برخاستگی سے پہلے خاتون کی ایسی کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان جھوٹے الزامات کو قانونی کارروائیوں سے باہر نکلنے کے لئے دباؤ کی حکمت عملی کے طو رپر استعمال کیا جا رہا ہے۔  بہت ممکن ہے کہ ادارے کو بدنام کرنے کے ارادے سے ان سب کے پیچھے شاطر طاقتوں کا ہاتھ ہو۔ ‘وہ طاقتیں کون سی ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

یہ الزامات بظاہر بے بنیاد لگتے ہیں اس کے باوجود ان کے منظر عام پر آنے جسٹس گگوئی گھبرا گئے۔  انہوں چھٹی کے دن سپریم کورٹ کی  خصوصی سماعت کا اہتمام کرڈالااور اس کے لیے قائم کی جانے والی بینچ میں خود کو بھی شامل رکھا نیز میڈیا کو احتیاط برتنے کی نصیحت  کردی۔دراصل ان کو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ دودن بعد سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آتا  تو ان گھبراہٹ سامنے نہیں آتی۔ عدالت کا ایک اصول یہ ہے کہ انسان خود اپنے بارے میں جج نہیں بن سکتا اس لیے انہیں اس پینل سے دور رکھنا چاہیے تھا۔  جسٹس گگوئی  جرأتمند اور بیباک عدلیہ و صحافت کے علمبردار ہیں اس لیے اگروہ میڈیا کو کوئی تلقین نہیں کرتے تو اچھا تھا لیکن موجودہ سرکار نے میڈیا کی مدد سے جو ماحول بنایا ہے اس سے ہر عزت دار انسان خوفزدہ ہے۔ جسٹس گگوئی کو اس موقع پر کہنا پڑا کہ جج کے طور پر ۲۰ سال کی بےلوث خدمات کے بعد میرا بینک بیلنس ۸ء۶ لاکھ روپے ہے۔ کوئی مجھے پیسوں کے معاملے میں نہیں پکڑ سکتا، لوگ کچھ ڈھونڈنا چاہتے ہیں اور ان کو یہ ملا‘۔انہوں نے اعتراف کیا کہ  ‘اس کے پیچھے کوئی بڑی طاقت ہوگی، وہ سی جے آئی کے دفتر کو غیر فعال کرنا چاہتی  ہو لیکن میں اس کرسی پر بیٹھوں‌گا اور بلا خوف و خطر عدلیہ سے جڑے اپنا فرض پورا کروں‌گا۔ ‘سی جے آئی نے کہا، ‘میں نے آج عدالت میں بیٹھنے کا  غیر معمولی قدم اٹھایا ہے کیونکہ چیزیں بہت آگے بڑھ چکی ہیں۔ عدلیہ کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا سکتا۔ ‘عدالت نے اعتراف کیا کہ عدلیہ کی آزادی ‘بےحد خطرے ‘ میں ہے۔  یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ عوام اپنی آزادی کو محفوظ رکھنے کے لیے جس ادارے سے رجوع کرتے ہیں خود اسی آزادی خطرے میں ہے۔

اس  نازک معاملے کے چار دن بعد ایک اور موڑ آگیا۔  جسٹس ارون مشرا، آر ایف نریمن اور دیپک گپتا کی عدالت میں جسٹس رنجن گگوئی   کے خلاف سازش رچنے کا ایک مقدمہ درج ہوا۔  اس میں اتسو بینس نامی ایک وکیل نے حلف نامہ داخل کیا کہ انہیں مذکورہ  خاتون کا مقدمہ لڑنے کے لیےاجئے نام کے ایک شخص نے ڈیڑھ کروڈ رشوت کی پیشکش کی۔  پہلے تو وہ تیار ہوگئے لیکن تفصیلات کے تضاد نے انہیں چونکا دیا۔ انہوں نے وضاحت کی خاطر عورت سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو اجئے نے اسے گھر یا دفتر میں لانے سے انکار کردیا۔  اجئے اس عورت کے ساتھ اپنے تعلق کا بھی  اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔  تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ اجئے دلال ہے جو روپیوں کے عوض اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کا کام کرتا ہے۔ جسٹس گگوئی  نے چونکہ ایسے دلالوں کی کمر توڑ دی ہے اس لیے یہ سازش کی گئی ہوگی۔ یہ حقیقت ہے یا سرکار کو بچانے کے لیے کسی اجئے کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے کوئی نہیں جانتا لیکن وزیرخزانہ نے اس موقع پر عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کا بلاگ لکھ کریہ تسلیم کرلیا ہے کہ اگر یہ اقدام حکومت کے ایماء پر ہوا تھا تو اس نے اپنی شکست تسلیم کرکے رجوع کرلیا ہے۔ مودی جی کب تک اقتدار میں رہیں گے کوئی نہیں جانتا اور کسی کو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ جانے سے قبل کس کس ادارے کو تباہ و برباد کرکے جائیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔ 
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)

Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or

مزید پڑھیں ⇦ http://mazameen.com/?p=53124

Godi Media Exposed

Pay Property Tax Online

Ghmc

Property Tax Payment

Enter your PTIN/ASMT (Property Tax Identification Number) to check the Dues.

https://ptghmconlinepayment.cgg.gov.in/PtOnlinePayment.do

Baigusarayey


स्वराज इंडिया के अध्यक्ष और किसान नेता योगेंद्र यादव आज कन्हैया कुमार के प्रचार के लिए बेगूसराय पहुंचे. एबीपी न्यूज़ से बातचीत में योगेंद्र यादव ने कहा कि ये चुनाव सामान्य नहीं है, ये चुनाव भारत के भविष्य का है. पूंजीवाद और गरीब किसान के बीच की लड़ाई है. बेगूसराय का ये चुनाव देश के लिए भारत की आत्मा बचाने का एक प्रतीक बन गया है. कन्हैया कुमार की राजनीति विचार की लड़ाई है, कन्हैया सिर्फ भाषण अच्छे नहीं देते बल्कि विचार लेकर आए हैं. बेगूसराय की जनता देख रही है कि कन्हैया के लिए देश भर से पैसे देकर लोग नहीं बुलाये जा रहे, लोग जीत की इच्छा देख रहे हैं.

India Health Scheme

(ایک سرکاری اسکیم کے بارے میں ضروری معلومات تھوڑا وقت نکال کر ضرور پڑھیں اور لاکھوں بچائیں)

#ایوشمان_بھارت
(پردھان منتری جن آروگئے یوجنا)

سخت ترین محنت اور مشقت کے بعد مسلمان کچھ رقم جمع کر پاتے ہیں لیکن تجربہ اور مشاہدے سے یہ بات دیکھنے میں آ رہی ہے کہ بڑی بیماریوں میں مسلمانوں اور دیگر غریب طبقے کے لوگوں کی ساری کمائی یک مشت چلی جاتی ہے حتی کہ کئی لوگ مقروض بھی ہو جاتے ہیں –
ایسے غریب عوام کے لئے حکومت ہند کی طرف سے ایک اسکیم ایوشمان بھارت یا پردھان منتری جن آروگئے یوجنا کے نام سے چلائی جاتی ہے اگر اس کی صحیح معلومات ان افراد تک پہنچائی جائے تو بر وقت غریب عوام کو بہتر طبی سہولیات Hospital facilities فراہم کی جا سکتی ہے اور انہیں مقروض ہونے سے بچایا جا سکتا ہے –
اس اسکیم کے تحت پورے ہندوستان میں سالانہ دس لاکھ روپے تک کمائی کرنے والے دس کروڑ خاندان کو شامل کیا گیا ہے – ایک خاندان میں اگر پانچ افراد ہو تب بھی تقریباً پچاس کروڑ افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں – جس کے ذریعے سرکاری ہسپتال اور حکومت کے واسطے سے ریفر کئے گئے بڑے پرائیویٹ ہاسپٹل میں پانچ لاکھ روپے تک کا علاج مفت کیا جاتا ہے –
اس اسکیم کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایوشمان کارڈ جاری کئے گئے ہیں لیکن کسی وجہ سے یہ کارڈ ان تمام خاندانوں کو نہیں مل سکے جنہیں اب تک مل جانا چاہئے تھا –

کیا ہمارا خاندان اس اسکیم سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟اسے معلوم کرنے کے تین طریقے ہیں

1- mera.pmjay.gov.in
اس ویب سائٹ پر کلک کریں اور پھر دئیے گئے option میں اپنا موبائل نمبر اور کیپچا انٹر کریں فوراً آپ کے دئیے گئے موبائل نمبر پر ایک OTP جنریٹ ہو گا اسے انٹر کریں – اس کے بعد اپنے راشن نمبر یا نام یا موبائل نمبر کی مدد سے آپ کا خاندان اس یوجنا میں شامل ہے یا نہیں معلوم ہو جائے گا

٢ – 14555 اس ٹول فری نمبر پر کال کر کے بھی آپ معلومات حاصل سکتے ہیں –

٣- جن پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں یہ اسکیم لاگو کی گئی ہے وہاں ایوشمان متر आयुष्मान मित्र کے نام سے ایک سرکاری ملازم کو آ پائنٹ کیا گیا ہے آپ براہ راست اس سے مل کر بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں_

اوپر دی گئی تینوں صورتوں میں آپ کو ایک کارڈ جاری کیا جائے گا جس کا نام ایوشمان کارڈ ہے اس پر ایک QR CODE دیا گیا جس میں آپ کے پورے خاندان کی معلومات درج ہوگی – ایک بار یہ کارڈ حاصل کرنے کے بعد آپ اپنا اور اپنے خاندان کے دیگر افراد کا پانچ 5 لاکھ تک کا علاج مفت کروا سکتے ہیں –

ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی یہ بڑی بدنصیبی ہےکہ وہ ۹۰ فیصد سے زائد ایسی سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں، جس کی دو وجوہات ہیں، نمبر ۱ ۔ ان سے لاعلم ہونا ۔ نمبر ۲۔ حکومتی اسکیموں کو اپنے لیے ناقابل قبول سمجھنا ۔ جب کہ واقعہ یہ ہیکہ کسی بھی ملک میں سرکار خواہ کسی بھی پارٹی کی ہو، لیکن اس کی اسکیمیں بلا تفریق مستحق عوام کے لیے ہوتی ہیں، جن سے استفادے میں کسی بھی صورت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ اپنے آپ کو شدید مصائب و آلام سے بچاتے ہوئے ان اسکیموں کے ذریعے راحت حاصل کرنا عین عقلمندی اور باشعور طریقہ ہوگا، آجکل پچھڑے طبقات اس بابت بیدار ہورہےہیں لیکن مسلمان دھکے کھاتا پھر رہاہے
کاروان امن و انصاف کی مختلف ریاستی و ضلعی یونٹس سے سب سے پہلے اپیل کرتےہیں کہ وہ مسلمانوں میں ایسی سرکاری اسکیموں کے متعلق بیداری پیدا، کریں اور ان کی رہنمائی کریں ۔
ساتھ تمام ہی مسلم اداروں اور سماجی کارکنان سے گذارش ہے کہ وہ ملت کے غریب افراد کی اس ضمن میں رہنمائی کر کے انکے ایوشمان کارڈ بنوانے میں مدد کریں تا کہ بوقت ضرورت انہیں بہتر طبی امداد مل سکے –

یہی تقاضا ہے انسانیت کا اس دہر فانی میں
کسی کے کام آجائے تو اپنی زندگی دے دو

ڈاکٹر شاکر خان (جلگاؤں جامود)
رضا کار: کاروانِ امن و انصاف