Vote ki Ahamiyat par “Fatwa”!

دار العلوم دیوبند کا فتوی ھندوستان میں ووٹ ڈالنا شرعی فریضہ ہے. ووٹ نہ ڈالنا حرام ہے
DARUL ULOOM DEWBAND KA FATWA INDIA ME VOT DALNA SHAREE FAREEZA HAI VOT NA DALNA HARAAM HAI

Indiaسوال # 43094
ہندوستان میں جمہوری نظام نافذ ہے اس کے تحت اس جمہوری نظام کو چلانے کے لئے کوئی بھی ہندوستانی انتخابی الیکشن لڑسکتا ہے ۔الیکشن لڑنے والے افراد مسلمان بھی ہوسکتا ہے اور غیر مسلم بھی ۔ایسے موقعہ پر تمام امید وار اپنی حقانیت کے وعدے کرتے ،لیکن عوام جانتی ہے کہ یہ انتخابی پرو پیگنڈہ یہ تمام امید وار جھوٹ بولتے ہیں تو برئے مہربانی یہ بتائیں۔
(1) کیا مسلمانوں کو الیکشن میں کھڑا ہونا چاہئے؟
(2) کیا مسلمانوں کو ووٹ ڈالنا چا ہئے؟
(3) ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
برائے مہربانی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جوب دیں ۔
Published on: Jan 1, 2013 جواب # 43094
بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 93-38/L=2/1434

(۱) مسلمان کے لیے الیکشن میں کھڑا ہونا شرعاً ناجائز نہیں ہے۔ قوم وملت کی خدمت کرنے کی ترغیب خود احادیث کثیرہ میںآ ئی ہے۔ البتہ مسلمان لیڈر کو چاہیے کہ وہ الیکشن میں کھڑے ہوکر جائز وناجائز کی پرواہ کیے بغیر عمل نہ کرے، جھوٹ فریب دھوکہ اور جھوٹے وعدے سے کلی اجتناب کرے، محض مالی منفعت، دنیاوی لذت،نیز جاہ طلبی کے جذبہ سے کھڑا نہ ہو، کسی سے دب کر غیر اسلامی طریقہ کو اختیار نہ کرے، فرقہ پرست عناصر اور بدکردار لوگوں سے گٹھ جوڑ نہ رکھے، اس کا مقصد صرف اور صرف قوم وملت کی خدمت کرنا، مظلوموں کی امداد کرنا، ناجائز مقدمات میں پھنسے لوگوں کو باعزت بری کرانا ہو وغیرہ۔
(۲) (۳) ووٹ کی شرعی حیثیت کم ازکم شہادت کی ہے، اس کو محض سیاسی ہارجیت کا ذریعہ قرار دینا سخت نادانی ہے، قرآن وسنت کی رو سے واضح ہے کہ نااہل، ظالم، فاسق اورغلط آدمی کو ووٹ دینا گناہِ عظیم ہے، اسی طرح ایک اچھے نیک اور قابل آدمی کو ووٹ دینا ثواب بلکہ ایک فریضہ شرعی ہے، قرآن کریم میں جیسے جھوٹی شہادت کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح سچی شہادت کو واجب اور لازم فرمایا ہے، ارشاد باری ہے کُونُوا قَوَّامِینَ لِلَّہِ شُہَدَاء َ بِالْقِسْطِ اور دوسری جگہ ہے کُونُوا قَوَّامِینَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء َ لِلَّہِ ان دونوں آیتوں میں مسلمانوں پر فرض کیا کہ سچی شہادت سے جان نہ چرائیں، اللہ کے لیے ادائیگی شہادت کے لیے کھڑے ہوجائیں، تیسری جگہ سورہٴ طلاق میں ارشاد ہے وَأَقِیمُوا الشَّہَادَةَ لِلَّہِ یعنی اللہ کے لیے سچی شہادت قائم کرو، ایک آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی شہادت کا چھپانا حرام اور گناہ ہے، ارشاد ہے: وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَةَ وَمَنْ یَکْتُمْہَا فَإِنَّہُ آَثِمٌ قَلْبُہُ یعنی شہادت کو نہ چھپاوٴ اور جو چھپائے گا اسکا دل گنہ گار ہے۔ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو ووٹ ضرور ڈالنا چاہیے، البتہ ووٹ ڈالنے جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال رہا ہے اس کے حق میں گویا یہ خود ہی گواہی دے رہا ہے کہ یہ امیدوار میرے علم کے مطابق سب سے زیادہ مستحق اور دیانت دار ہے، اس لیے چند امور اس کو ملحوظ رکھنے چاہئیں:
(۱) ووٹ ڈالنے میں احتیاط سے کام لے، غلط جگہ مہر وغیرہ نہ لگے، اس کا خیال رکھے ورنہ اس کا ووٹ ضائع ہوجائے گا جو کہ بڑا نقصان ہے۔
۲) باہم مشورے سے خوب سوچ سمجھ کر ووٹ دے، محض اپنے تعلقات یا غیرشرعی دباوٴ سے متأثر ہوکر ہرگز ووٹ نہ دے۔
۳) جو امیدوار اس کے علم کے مطابق ووٹ کا زیادہ مستحق ہے دیانةً اسی کو اپنا ووٹ دے۔
۴) جس امیدوار سے نقصان پہنچنے کا غالب اندیشہ ہو اس کو ہرگز ووٹ نہ دے۔
۵) اگر تمام امیدواروں کے حالات یکساں ہوں تو پھر جس سے زیادہ فائدہ کی امید اور کم نقصان کا اندیشہ ہو اس کو ووٹ دے۔
۶) روپیہ یا کوئی مال لے کر کسی کو ووٹ نہ دے یہ بدترین رشوت اور حرام فعل ہے۔
۷) ووٹ کی حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں:

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *