Voter’s Choice An Intellectual Opinion!

حریف نہیں حلیف سمجھیں……
بھارت میں مسلمانوں کا طرز عمل الیکشن کے تعلق سے کیا ہو؟ اس میں اختلاف رائے ہے. ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ جمہوری سسٹم ایک نظام باطل ہے، ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے اور کسی طرح کی بھی شرکت تعاون علی الإثم کے زمرے میں میں ہوگی جس کی شرعا گنجائش نہیں ہے. ہمیں دعوت و اصلاح کے کام پر ہی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اعلائے کلمة الله و قیام نظام خلافت کیلئے انتھک جدوجہد کرنی چاہیے.
دوسرا موقف یہ ہے کہ دعوت و اصلاح کی کوششوں کے ساتھ ملک کے حالات پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے. ملک میں دو طرح کی طاقتیں ہیں، ایک فسطائیت پسند اور آمرانہ ذہنیت کی حامل ہیں اور آزادیوں کو سلب کرنا چاہتی ہیں، اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت تمام باشندوں پر بجبر نافذ کرنا چاہتی ہیں، ہندو مسلم تعلقات کو خراب کرنے کے درپے ہیں. ایک ملک ایک تہذیب کا نعرہ بلند کرتی ہیں اور مذہبی آزادی کو ختم کرنا چاہتی ہیں. دوسری طرف کھلے ذہن کے افراد ہیں جو شہریوں کی آزادی کی برقراری کی علمبردار ہیں، آزادی رائے کا تحفظ چاہتی ہیں، مذہبی آزادی کی طرفدار ہیں، ملک میں بھائی چارہ چاہتی ہیں اور ایک تکثیری سماج کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے، تمام مذہبی اقلیتوں کو مکمل تحفظ، اپنے مذہب پر عمل اور اس کے تحفظ و اشاعت کا حق دستور کے مطابق بلا تفریق دینا چاہتی ہیں.
حکمت و مصلحت اور دانش مندی کا تقاضہ ہے کہ ثانی الذکر طاقتوں کا ساتھ دیا جائے اور فسطائی عناصر کو شکست دینے کیلئے انصاف پسند طاقتوں کو مضبوط کیاجائے تاکہ ملک میں بھائی چارہ قائم رہے، تمام لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی حاصل رہے.
ان دونوں مواقف کے حاملین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بننا چاہیے، جو لوگ عادلانہ نظام خلافت کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ دوسرے فریق کو اپنا حریف نہیں بلکہ معاون و حلیف سمجھیں، کیونکہ آزادی باقی رہے گی تو کام کے مواقع باقی رہیں گے اور آپ کے مشن کی تکمیل کی راہ آسان ہوگی. یہ صحیح کہ کام تو ہر حال میں کرنا ہے، مکہ جیسے سخت ترین حالات میں بھی کرنا ہے لیکن حتی الامکان میسر مواقع کی بقا کی کوشش بھی جاری رکھنی ہے. فراست ایمانی کا تقاضا ہے کہ مصیبت کو دعوت نہ دی جائے اور جب آہی جائے تو صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا جائے. متفق علیہ امور میں تعاون و اشتراک اور مختلف فیہ امور میں ایک دوسرے کی رائے کا احترام ضروری ہے. نئے حالات میں نئی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے جس کیلئے مقاصد شریعت پر نظر اور مصالح و مفاسد کے درمیان موازنہ لازمی ہے. فقہ الواقع ایک اہم سبجیکٹ ہے جس سے واقفیت صحیح موقف اختیار کرنے کیلئے ضروری ہے.
طاہر مدنی، 29 اپریل 2019

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *