صدرجمہوریہ طلاق ثلاثہ بل پر دستخط کرنے کے بجائے نظرِ ثانی کے لیے اسے پارلیمنٹ بھیج دیں :دارالعلوم دیوبند

دیوبند: 31؍جولائی: ملک کے ایوانِ بالا میں تین طلاق بل کی منظوری کے بعد سے علماء کرام اور عمائدین ملت اس سلسلہ میں متفکر ہیں‘ اور اس بل کو جمہوریت کا قتل قرار دے رہےہیں وہیں دارالعلوم دیوبند نے عملی اقدام اٹھاتے ہوئے صدر جمہوریۂ ہند رام ناتھ کووند کے نام خط ارسال کیا جس میں یہ لکھا کہ :’’ دارالعلوم دیوبند نے راجیہ سبھا کے ذریعہ پاس کیے گئے طلاقِ ثلاثہ بل کو دستورِ ہند کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند عزت مآب جناب رام ناتھ کووند سے اپیل کی ہے کہ بل پر حتمی منظوری کے دستخط کرنے کے بجائے نظر ثانی کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھیج دیا جائے۔دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا کہ حکومت ہند کے ذریعہ پارلیمنٹ میں منظور شدہ طلاق ثلاثہ بل شریعت اسلامی میں کھلی مداخلت ہے‘ ہمارے نزدیک یہ بل ناقابل قبول ‘ ناپسندیدہ اور حقوق نسواں کے بھی خلاف ہے انہوں نے کہا کہ یہ قانون جمہوری نظام اور دستورِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کے بھی منافی ےہ‘ محض عدد قوت کی بنیاد پر یہ غیر مطلوبہ بل منظور کرالیا گیا‘ جب کہ ملک کی ہزاروں مسلم خواتین نے اس قانون کے خلاف دستخطی مہم کے ذریعہ صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم پیش کیا تھا‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مسلم خواتین کی بڑی اکثریت کی آواز کو نہیں سنا اور اپنی عددی قوت کے زور پر اس کو منظور کرالیا‘ اس لیے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور صدر جمہوریوہ جناب عزت مآب رام ناتھ کووند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دستور ہند کی روح ‘ مذہبی آزادی اور جمہوریت کی بقا کے پیش نظر اس بل پر حتمی منظوری کے دستخط مفتی ابو القاسم نعمانی نے کہا کہ ملی تنظیموں کو بھی اس سلسلہ میں لائحہ عمل طے طرنا چاہیے اور غور و فکر کرنا چاہیے کے جو قانون جبرا تھوپا جارہا ہے اس کو روکنے کی کیا آئینی اور دستوری صورت اخیتار کی جاسکتی ہے‘ انہوں نے اس کو ایک نہایت حساس مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں کو اس کی مضرت سے با خبر اور ہوشیار رہنا چاہیے ‘ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ کے ذمہ داران کو اس بات کا خیال رکھنا چأہیے کہ یہ قانون ہمارے مسلم معاشرہ پر منفی اثر نہ ڈال سکے۔ ،،
کرنے کے بجائے نظر ثانی کے لیے اس کو واپس پارلیمنٹ بھیج دیا جائے۔
#TRIPLETALAQBILL#DEOBAND#AIMPLB

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *