KYC – negative and positive

آپ کا بینک اکاونٹ اور لاکر(bank locker) NPR کی مکمل زد میں۔ کبھی بھی آپ محروم کئے جا سکتے ہیں۔۔
. . . مودی حکومت نے NPR سے متعلق فرمان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ حسب معمول مردم شماری یعنی جن گڑنا(CENSUS) کا عمل ہے جو ہر دس سال پر ہوتاہے لیکن پہلے کا CENSUS نہایت آسان اور غیر متنازع تھا جب کہ NPR کا موجودہ ضابطہ نہایت ہی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہونے کے واضح ترین اسباب درج ذیل ہیں۔۔
نمبر 1- ماضی کا مردم شماری فارم 5 خانہ پر مشتمل صرف فیملی ممبر کا نام اور عمر کے اندراج پر مبنی تھا جب کہ این پی آر (NPR) کا فارم 31 سوالوں کے ساتھ 31 خانہ پر مشتمل ہے۔۔
نمبر 2- NPR کے دستاویزی تصدیق کے لئے مقامی رجسٹرار کو خاص پاور دیاگیا ہے کہ وہ % 100 درست دستاویز کو بھی مشکوک قرار دیکر مسترد کر سکتا ہے۔جب کے ماضی کے عمل میں ایسا نہیں تھا
. نمبر3- ماضی کے مردم شماری کے عمل میں آپ کسی سند کے پابند نہیں تھے لیکن اب NPR کے عمل میں دستاویز جمع کرنے کے بعد NPR سے اگر آپ کو قبولیت کا letter حاصل یوتا ہے تو اس ملک کے شہری ہیں اور آپ کی املاک و جائیداد اور voting right محفوظ ہے اور اگر نہیں ملا تو آپ کا کچھ بھی نہیں۔ حکومت آپ کا سب کچھ کبھی بھی ضبط کر لیگی۔۔
. نمبر 4- ماضی کی مردم شماری کا کوئ تعلق آپ کے بینک اکاونٹ سے نہیں تھا لیکن آپ موجودہ حکومت کا فریب اور سازش دیکھیں کہ 10 جنوری 2020 کو NPR کا نوٹیفیکیشن ہوا ہے لیکن نہایت سازش کے تحت پہلے ہی بینک کے KYC form میں letter of NPR کا اضافہ کرا دیا گیا ہے جس کا علم آپ کو نہیں ہے جب کہ ثبوت کے لئے درج بالا KYC form پیش نظر ہے۔۔
نمبر 5- NPR کے عمل میں خصوصی طور پر مسلمانوں کے دستاویز پلاننگ کے تحت (reject ) یعنی رد کیا جائیگا اور جب رد ہو جائیگا تو شہریت کی تصدیق کا لیٹر بھی نہیں ملیگا اور جب آپ بینک جائینگے تو بینک آپ سے KYC کے لئے NPR lettter طلب کریگا جو آپ نہیں دے پائینگے اور آپ کے اکاونٹ میں جمع رقم اور locker میں رکھے سامان و زیورات ایک جھٹکے میں سرکار کا ہو جائیگا۔۔۔
. . . . . اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ اپنے وجود و بقاء کی جنگ کو آخری انجام تک پہنچانے کے لئے میدان میں آئینگے یا خاموش تماشائ اور بزدل بن کر خود کو تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھنا چاہینگے۔۔
. . نوٹ : آپ سب پہلی فرصت میں بینک سے اپنا اثاثہ اور رقم اپنی دسترس میں کر لیں اس سے قبل کہ آپ کو اپنے مال و اسباب سے ہاتھ دھونا پڑے۔۔

کیاہے KYC میں NPR Letter کی حقیقت؟

ازقلم فداءالمصطفی قادری مصباحی
خادم الافتاء شرعی عدالت سنکیشور کرناٹک

کل 14 جنوری سے ایک تحریر سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے گردش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے جس کے ساتھ اسٹیٹ بینک کا ایک KYC فارم بھی منسلک ہے۔ اس تحریر کے ذریعہ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ اب بینک سے روپے لینے دینے کے لیے KYC میں NPR Letter لازمی ہوگا۔ بطور حوالہ اسٹیٹ بینک کے فارم میں NPR Letter کا کالم انڈر لائن کرکے پیش کیا گیاہے جسے دیکھ کر بہتوں کے حواس باختہ ہوگیے، ایسا لگ رہاہےکہ سوشل میڈیا پر ایک ماتم کا ماحول بن گیاہے، کیونکہ اگر بینک نے “این پی آر لیٹر” کو لازم کردیا تو ہرشخص کے لیے “این پی آر” کروانا ضروری ہوجائے گا اگر “این پی آر” نہ کروایا گیا تو بینک کے پیسے ضبط ہوجائیں گے، بینک لاکر کھولنے کی اجازت نہیں ملےگی بلکہ بینک سے کسی بھی طرح کا لین دین بند ہوجائےگا اور اگر ان سب کے پیش نظر “این پی آر” کروالیا گیا تو جس NRC کی بلا سے ہم لوگ بھاگ رہے ہیں اسی میں بری طرح پھنس جائیں گے۔

حقیقت کیاہے؟
اس کی حقیقت جاننے کے لیے میں نے Google پر سرچ کرنا شروع کیا تو ایک ویب سائٹ میرے سامنے آیا جس میں KYC میں NPR Letter کے لازم ہونے کا یوں ذکر کیا گیا تھا:

The list of KYC documents that is sought included the NPR letter. Those who fail to submit the details connot withdraw /transfer money

یعنی KYC کی شناختی فہرست میں اب NPR Letter کو بھی شامل کرلیاگیاہے جو بھی ان تفصیلات کو دینے سے قاصر رہےگا نہ وہ بینک سے پیسے نکال سکتاہے اور نہ ڈال سکتاہے۔

کیاہے KYC؟
سردست بتاتا چلوں کہ KYC میں شناخت کارڈ کا مطالبہ کیاجاتا ہیں اس کافول فارم ہے “Know your Customer” یعنی اپنے خریددار کو پہچانیے۔ بینک میں “کے وائی سی” کی ضرورت چند مخصوص امور کے لیے پڑتی ہے مثلا کھاتہ کھولنے، FD کرنے، بیما کروانے، mutual fun خریدنے وغیرہ کے لیے۔ وہ بھی اس لیے یہ ضرورت پڑتی ہے تاکہ کوئی کسی طرح کا غیر قانونی کام نہ کرسکے مگر اوپر کی تحریر یہ بتاتی ہے کہ پیسوں کے لین دین میں بھی KYC کی ضروت پڑےگی جس میں NPR Letter دینا لازم ہوگا جوکہ سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے۔ اگر پیسوں کے لین دین میں بھی KYC لازم ہوجائے تو انسان کا جینا دوبھر ہوجائے گا کیونکہ “کے وائی سی” میں ایک عدد تصویر اور کچھ شناختی کارڈ کا نمبر یا لیٹر درکار ہوتاہے ایسی صورت میں انسان جب بھی پیسہ نکالے یا ڈالےگا اسے اپنی تصویر اور شناختی کارڈ دینے پڑیں گے جوکہ بہت مشکل ہے۔

کہیں کوئی نیا حکم تو نہیں؟
میں نے چاہا کہ اس کی مزید تحقیق کرلوں ہوسکتاہے کہ کوئی نیا حکم جاری کیاگیاہو؟ اور اسی ارادے سے RBI ویب سائیٹ پر گیا تو معلوم ہوا کہ اس بارے میں کوئی نیا حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بینک سے متعلق سارے احکام RBI ہی جاری کرتاہے۔
پھر میں نے SBI ویب سائیٹ پر KYC کی تفصیل دیکھی کہ کہیں واقعی NPR Letter کا کوئی ذکر تو نہیں؟ (اس کی تحقیق کے لیے میں SBI کی ویب سائیٹ پر اس لیے گیا کیونکہ سوشل میڈیا پر جو فارم گردش کررہاہے اس پر SBI لکھاہوا ہے) جیسے میں نے تفصیل طلب کی تو یہ تحریر سامنے آئی:

identity/address)
Passport
Voter’s Identity Card
Driving Licence
Aadhaar Letter/Card
NREGA Card
PAN Card.
Any one document towards proof of identity and proof of address (either permanent or current )
اس میں کہیں بھی NPR letter کا ذکر نہیں ہے۔ جب آر بی آئی اور ایس بی آئی نے ” این پی آر” کا ذکر نہیں کیا تو پھر یہ بات اٹھی کہاں سے؟ کون ہے جو اس طرح کی باتیں اڑا رہاہے؟ کسے ان چیزوں سے فائدہ ہوگا؟ کون چاہتاہے کہ ہرآدمی اپنا این پی آر کروائے تو اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے کہ یہ ساری چال بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہے، یہ سازش انہی کی رچی ہوئی ہے، یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح دباؤ میں آکر مسلمان “این پی آر” کروالیں پھر اگلا راستہ بالکل صاف ہوجائےگا۔ مگر افسوس ہے ان دوستوں پر جو بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کی اس چال میں آگیے اور اس میسیج کو خوب فاروڈ کیا، ایک گروپ میں دس دس لوگوں نے اس میسیج کو بھیجا۔ کیا آپ کو پتہ کہ اس سے کتنے لوگ گمراہ یوگیے ہوں گے؟ کتنے لوگوں نے “این پی آر” کروانے کا فیصلہ کرلیا ہوگا؟ ایک چھوٹی سی نادانی پورے ایک مہینے کے احتجاج اور ساری قربانیوں پر پانی پھیر دےگی، خدارا ایسی غلطیاں نہ کریں، ہرقدم پھونک پھونک کر رکھیں، ہرمعاملہ میں اعلی درجے کا احتیاط لازم جانیں۔

*آنکھ سے کاجل صاف چرالے یاں وہ چور بلاکے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے

چند شواہد
(1) گردش کررہے اسٹیٹ بینک فارم میں “این پی آر لیٹر” مانگا گیاہے اور جب ابھی تک “این پی آر” ہوا ہی نہیں تو اس کے لیٹر کا مطالبہ کیسا؟
(2) این پی آر کوئی شناختی کارڈ نہیں ہے جس کا نمبر یا لیٹر ہو یہ تو بس لوگوں کی ذاتی تفصیلات کا رجسٹر ہے اور رجسٹروں کے نمبرات نہیں دیے جاتے۔ 2011 میں بھی “این پی آر” ہوا تھا مگر کیا کسی کو اس کا نمبر یا لیٹر دیاگیا؟ بالکل نہیں کیونکہ این پی آر جیسی چیزوں کا لیٹر یا نمبر ہوتا ہی نہیں ہے۔
(3) جب KYC بینک کے مخصوص کاموں کے لیے ہی ہوتاہے تو بینک سے پیسے نکالنے اور ڈالنے کے لیے “کے وائی سی” اور اس میں “این پی آر لیٹر” کی ضرورت کیسے پڑجائے گی ؟
(4) میں نے جب NPR والے ویب سائٹ کی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ کسی نامعلوم شخص کا بنایا ہواہے یہ نہ تو RBI کاہے اور نہ SBI کا۔
(5) جب RBI اپنے پرانے کسی طریقے میں کوئی تبدیلی کرتاہے تو باضابطہ میڈیاکے ذریعے اس کا اعلان کیا جاتا ہے، مگر اتنی بڑی تبدیلی اور کوئی اعلان نہیں؟ تعجب ہے ۔ اور جب RBI نے کوئی اعلان ہی نہیں کیا تو SBI کا وہ KYC فارم کیسے گردش کرنے لگا جس میں NPR Letter مانگا گیاہے؟ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ سب مکمل جعل سازی ہے جو مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے رچی جارہی ہے۔
خدارا احتیاط کا دامن مضبوطی سے تھامے رہیں، بازاری افواہوں پر دھیان نہ دیں، کسی میسیج کو شیئر یا فاروڈ کرنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لیں ورنہ کہیں بعد میں اس شعر کے مصداق نہ بن جائیں۔

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے* *اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *