: ہم سب یہاں پرامن طریقے سے سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں۔

(١) سوال
آپ کس چیز کی مخالفت کر رہے ہیں؟

جواب:
ہم سب یہاں پرامن طریقے سے سی اے اے، این آر سی، اور این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں۔

(٢) سوال:
سی اے اے کا فل فورم کیا ہے؟

جواب:
سی اے اے کا پل فورم ہے
Citizenship Amendment Act
(شہریت ترمیمی قانون)
(नागरिकता संशोधन विधेयक)

(٣) سوال:
این آر سی کا فل فورم کیا ہے؟

جواب: این آر سی کا فل فورم ہے
National Ragister of Citizens

(شہریوں کے قومی رجسٹر)
(नागरिकों का राष्ट्रीय रजिस्टर)

(٤) سوال: این پی آر کا فل فورم کیا ہے؟

جواب:
این پی آر کا فل فورم ہے
National Population Ragister
(قومی مردم شماری رجسٹر)
(राष्ट्रीय जनगणना रजिस्टर)
(٥) سوال:
آپ سی اے اے، کے خلاف کیوں احتجاج کر رہے ہیں؟ یہ قانون تو شہریت دے رہا ہے، کسی کی شہریت تھوڑی نہ چھین رہا ہے۔

جواب:
پہلا پونٹ: ناگریکتا کن کو دی جا رہی ہے، ذرا ان کے نام بتائیے: پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ستائے ہوئے اقلیتوں کو جو ہندوستان میں 2014 سے پہلے پناہ لیے ہوئے ہیں، ان ہندو، سکھ، بودھسٹ، جین، پارسی، عیسائی، بھائیوں کو، مگر مسلمان، یہودی اور اتھیسٹ (جو کسی بھی معبود پر ایمان نہیں رکھتے) ان تینوں کو کیوں چھاٹ دیا گیا؟

دوسرا پونٹ:
ہم اس کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں،چونکہ سی اے اے، یعنی سٹیزنشپ ایمنڈمینڈ ایکٹ ہندوستان کے دستور کے دفع 14 کے مخالف ہے، جو کہ دستور ہند کے بنیادی حقوق میں سے ہے،دفع 14 کہتا ہے Equality before law and equal protection of laws

“مملکت کسی شخص کو بھارت کے علاقہ میں قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی”

یعنی قانون کی نظر میں تمام مذاہب کے لوگ برابر کے حق دار ہیں اور قانون میں مساوی تحفظ سب کو حاصل ہیں ۔

تیسرا پونٹ:
اسی طریقے سے دستور کے پریمبل میں مساوات کا تذکرہ آیا ہے،اور یہ کالا قانون مساوات کے خلاف ہے۔

چوتھا پونٹ:
پریمبل میں سیکولر کا لفظ آیا ہے۔ سیکولر ملک میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دیا جانا، یہ خود پریمبل کے خلاف ہے،جو ہمارے دستور کا بنیادی ڈھانچہ ہے، اور اس کی روح کی طرح ہے۔

پانچواں پونٹ: دستور ہند کے دفعہ 15 میں ہیں:
prohibition of discrimination on certain grounds it says that the state shall not discriminate against any citizen on grounds of religion, race, caste, sex or place of birth.

“مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس، مقام پیدائش یا ان میں سے کسی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں کرے گی”

چھٹواں پونٹ
مذہب کے نام پر شہریت دیا جانا، ہمارے آباء و اجداد اور مجاہدین آزادی کی کھلی توہین ہے۔ انہوں نے کبھی بھی مذہب کے نام پر شہریت دینا تو دور کی بات، ایسا تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ آزاد بھارت میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دیا جاسکتا ہے۔
کیا مودی جی اور امیت شاہ جی کی عقل اور سوچ گاندھی جی،مولانا ابوالکلام آزاد ، بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اور پنڈت جواہر لال نہرو وغیرہ سے بھی بڑھ کر ہے؟

ساتھوان پونٹ
ہندوستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے دستور ہند کے سیٹیزن شپ ایکٹ ١٩٥٥ کے تحت پانچ طریقے بتائے گئے ہیں۔
By birth
By descent
By registration
By naturalization
By incorporation of territory
پیدائش کی بنیاد پر شہریت
نسل کی بنیاد پر شہریت
رجسٹریشن پر شہریت
نیچرلائزیشن کی بنیاد پر شہریت
ٹریٹوری کی شرکت پر شہریت

ان پانچوں طریقوں میں سے کسی بھی طریقہ پر مذہب کو بنیاد نہیں بنایا گیا ہے۔‌مگر اب ان لوگوں نے تو پوری طریقے سے دستور کو ہی بدل دیا، جو اپنے آپ میں تعجب خیز ہے۔

اس جگہ مجھے علامہ اقبال کا “تصویر درد” سے وہ شعر یاد آتا ہے۔

رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں۔

(٦) سوال:
بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے آئیں ہوئے لوگوں کو شہریت دیے جانے کی بات کہی جارہی ہے، جن لوگوں پر وہاں پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، مذہب کی بنیاد پر بھید بھاؤ کیا گیا، اس لیے ان لوگوں کو یہاں شہریت دی جا رہی ہے۔
کیا ہندوستان میں ان مظلوموں کو پناہ نہ دیا جائے؟

جواب:
پہلا پونٹ: سیٹیزن شپ ایمنڈمینڈ ایکٹ میں کہیں بھی Religious persecution
یعنی مذہبی ظلم و ستم کا تذکرہ آیا ہی نہیں ہے، فقط ان چھ مذاہب کے اسماء مذکور ہیں۔

دوسرا پونٹ: اگر مظلوموں کو شہریت دیے جانے کی بات ہوتی تو ہندوستان میں اس قدر کہرام نہیں مجا ہوتا، ہم بھی تو اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ مظلوموں کو شہریت دی جائے، مگر مذاہب کا تذکرہ بیچ میں کہاں سے آ جاتا ہے۔ ہم اس لیے بھی اس کے خلاف ہیں کہ اس قانون میں مذاہب کا تذکرہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ بلکہ مظلوم کسی بھی دھرم سے تعلق رکھتا ہوں ان کو شہریت دی جانی چاہیے تھی۔ ایسا نہیں ہیں کہ اگر مظلوم کا تعلق غیر اسلام سے ہو تو ان کو ہندوستان کی شہریت دی جائے اور اسلام سے ہو، تو نہ دی جائے۔

تیسرا پونٹ: مجھے یہ کہنا ہے کہ سرکار صرف بنگلہ دیش اور پاکستان کی بات کرتا، تو سمجھ میں آتا چونکہ یہ دونوں ہندوستان میں شامل تھے ۔ مگر افغانستان کو کیوں بیچ میں لایا ؟
اگر افغانستان کو شامل ہی کرنا تھا، تو پھر نیپال، بھوٹان، مینمار چین اور سری لنکا وغیرہ کو کیوں نہیں شامل کیا گیا؟ وہ سب بھی تو پڑوسی ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟
اگر علی سبیل التنزل مان بھی لیا جائے کہ ان پر ظلم و تشدد کئے جارہے تھے،تو میں یہ کہتا ہوں کہ ظلم تو ظلم ہوتا ہے۔ مذہب کے نام پر ہو، یا سیاست کی وجہ ہو، خواہ کسی بھی طریقے سے ہو، بہر حال جو ظلم و زیادتی کے شکار ہوں،ان سب کو شہریت دیا جانا چاہیے تھا، پاکستان میں شیعہ اور روافض پر ظلم ہوتا ہے۔ شیعہ کو بھی دیا جائے۔ قادیانیوں کو بھی دیا جائے۔ اسی طریقے سے تامل لاڈو میں رہنے والے سری لنکا سے آئیں ہوئے ہندوؤں کو بھی دیے جائیں ۔ میانمار سے آئیں ہوئے ظلم و ستم سے دوچار ہونے والے لوگوں کو بھی شہریت دی جائیں تاکہ کوئی بھی بھید بھاؤ نہ رہے۔

(٧) سوال:
جو مذکورہ چھ مذاہب کے لوگ ہندوستان آئیں ہیں ان پر چونکہ وہاں پے ظلم و ستم ڈھائے جاتے تھے اس لئے آئیں ہیں۔ اور رہ گئے مسلمان وہ تو یہاں تجارت کرنے کی غرض سے آئیں ہیں،تو ان کو کیوں شہریت دی جائے؟

جواب:
یہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ جتنے بھی مسلمان ہوں گے وہ صرف اور صرف تجارت کی غرض سے آئیں ہوں گے ، اور جتنے ہندو ہوں گے وہ صرف اور صرف ظلم و ستم سے بچنے کے لیے آئیں ہوں ، ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ کچھ ہندو یہاں تجارت کی غرض سے آئیں ہوں ، یا پاکستان کی جاسوسی کے لیے آئیں ہوں ،اور کچھ مسلمان ایسے ہوں جن پر ظلم و ستم ڈھائے جارہے تھے، اس سے نجات کے لیے آئیں ہوں۔ اس کا تعین آپ نے کس تھرما میٹر سے کر لیا؟

(٨) سوال:
آپ این آر سی کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں این آر سی تو ابھی آیا نہیں ؟

جواب:
ہم این آر سی کی اس لیے مخالفت کر رہے ہیں کیوں کہ نو مرتبہ پارلیمنٹ میں لفظ NRC پر تذکرہ ہوچکا ہے۔ خود صدر جمہوریہ نے اپنی صدارتی خطبہ میں این آر سی نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ Cabinet کی منظوری کے بعد ہی صدر جمہوریہ کو صدارتی خطبہ پیش کیا جاتا ہے۔
اسی طریقہ سے وزیرداخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ہم این آر سی لانے والے ہیں۔ بنگال کے چناؤ پرچار میں اور مختلف ٹی وی چینل کے پروگراموں میں اس بات کو دوہرا یا تھا کہ ہم پہلے سی اے اے لانے والے ہیں اور اس کے بعد این آر سی لائیں گے۔
اب مجھے یہ نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ آخر پردھان منتری نے رام لیلا میدان میں کیسے یہ کہہ دیا کہ ابھی تک این آر سی پر کہیں بھی کوئی بھی تذکرہ نہیں ہوا ہے یہ تو کھلا جھوٹ ہے۔

دوسرا پونٹ: حکومت آخر اس بات کی وضاحت کیوں نہیں کر دیتی ہے کی وہ 2024 تک این آر سی نافذ نہیں کرے گی۔ اتنی بات کہنے میں آخر کون سی پریشانی لاحق ہو رہی ہے۔

(٩) سوال:
دنیا کے تمام ممالک میں اپنے اپنے شہریوں کے لیے کوئی خاص رجسٹر ہوتا ہے، تو یہاں پر کیوں شہریوں کا رجسٹر نہیں ہونا چاہیے؟

جواب:
پہلا پونٹ:
آسام میں این آر سی نافذ کیا گیا تھا اور وہاں پہ 1971 سے پہلے کے کاغذات طلب کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے درجنوں سے زیادہ لوگ شہریت ثابت کرنے کی چکر میں کاغذات درست کرانے کے لیے تگ و دو کی وجہ سے اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور ١٢٢٠ کروڑ سے زائد روپے خرچ ہوے، مگر اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا کہ 19 لاکھ لوگ این آر سی سے باہر ہوگئے جن میں سے سابق صدر جمہوریہ فخرالدین کے گھر والے،سابق وزیراعلی تیمورہ بیگم اور اسی طریقے سے کارگیل کی جنگ میں حصہ لینے والے ثناءاللہ اور ان جیسے ہزاروں لوگوں کے نام این آر سی سے چھٹ گیے.
کھودا پہاڑ نکلا چوہا،

اس ملک میں کتنے ایسے یتیم ملیں گے جو پیدا ہوتے ہی پھیک دیے گئے، مگر کسی نے ان کو پالا پوسا بڑا کیا، اور ان کے آباء و اجداد کا کچھ پتہ نہیں، تو وہ کہاں سے اپنی شہریت ثابت کر پائیں گے؟
اسی طریقہ سے وہ لوگ جن کے مکان جل گئے، ڈاکومنٹس خاکستر ہوگئے وہ اپنے ڈاکومنٹس کہاں سے دکھا پائیں گے؟
جہاں سیلاب کی وجہ سے ڈاکومنٹس تو درکنار پورے گھر کا گھر سیلاب میں بہہ جاتا ہے وہ کہاں سے ڈاکومنٹس دکھا پائیں گے؟
جس ملک میں پڑھے لکھے طبقہ حضرات اپنی مارکشیٹ نہیں دکھا پاتے ہیں اس ملک کے غریب عوام سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنا ڈاکومینٹس دکھا سکیں گے، جس ملک میں رافیل کی کاپی گم ہو جاتی ہو، اس ملک کے غریب عوام سے کاغذات کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔

میں امیت شاہ جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر این آر سی سے یہاں کے ہندو، سکھ، عیسائی بودھسٹ، جین اور پارسی چھٹ جائے تو ان کے ساتھ آپ کیا سلوک کریں گے؟
اگر آپ ان کو ناگرکتا نہیں دیں گے، یہ تو ناانصافی ہوگی کہ آپ نے تو مذکورہ تین دیشوں کے لوگوں کے لئے ہندوستان کا دروازہ کھلا چھوڑ دیے اور ان کو شہریت بھی دے دیں گے مگر اپنے ہی ملک میں سیکڑوں سالوں سے رہ رہے لوگوں کو ناگرکتا نہ دے کر Detention Camp میں بھیجیں گے، یہ تو تعجب خیز بات ہوگی۔اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے، تو بالیقین آپ ان کو شہریت دے دیں گے “سٹیزنشپ ایمنڈمین ایکٹ” کے ذریعہ سے، مگر بیچارے ان مسلمانوں کا کیا ہوگا جن کا نام این آر سی سے چھٹ جائے گا؟ کیا ان کو ڈیٹنشن کیمپ میں نہیں بھیجے جائیں گے ؟
کیا اس ملک کو ہزاروں علمائے کرام اور مسلمانوں نے اس لیے آزاد کرایا ہے کہ انکے ہی نسلوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے؟

کیا ہمارے آباء و اجداد نے اس چمن کو اس لیے خون جگر سے سینچا ہے کہ ان کو ہی چمن سے سے باہر کردیا جائے؟

(١٠)سوال:
آپ کیوں سی اے اے اور این آر سی کو آپس میں ملا کر دیکھتے ہیں؟ دونوں الگ الگ چیز ہے،جیسا کہ وزیر داخلہ نے اپنے انٹرویو میں بھی واضح کر دیا ہے کہ دونوں کا آپس میں کوئی سمبندھ نہیں ہے۔

جواب:
دیکھئے! دونوں کو ایک ساتھ جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے کیوں کہ جب این آر سی نافذ ہوگا تو اس وقت جتنے بھی غیر مسلم حضرات چھٹ جائیں گے، تو ان سب کے لئے ایک دروازہ کھلا رہے گا، وہ دروازہ ہے سی اے اے کا یعنی شہریت ترمیمی قانون اس قانون کے ذریعہ سے وہ ہندوستان کے شہری بن سکتے ہیں۔ انہیں ہندوستان کی شہریت مل جائے گی جیسا کہ موجودہ آسام کے وزیر خزانہ ہمنتو وشو شرما نے کہا بھی ہے،
مگر مسلمانوں کو کیا ملے گا ان کے لیے تو کوئی دروازہ ہے ہی نہیں، ان کے لیے تو صرف اورصرف ڈیٹینشن کیمپ کا دروازہ کھلا ہوگا۔
کیا یہی انصاف ہے؟
کیا یہ ہمارے دستورکے پریمبل کے خلاف نہیں ہے جس میں کہا گیا ہے justice ،equality liberty and fraternity

یہ سرکار بالکل ہی ہٹلر کے طرز عمل کو اپنا رہی ہے اور یہ ملک کی سالمیت کے لئے انتہائی مہلک اور خطرناک ہے۔

(١١)سوال:
آپ این پی آر کی کیوں مخالفت کر رہے ہیں؟حالانکہ اس سے پہلے بھی 2010میں ہوچکے ہیں، اور آزاد بھارت میں دیش کی آزادی کے بعد متعدد بار مردم شماری ہو چکی ہے، ہر دس سال کے بعد ہوتے رہتے ہیں ، پھر مخالفت کیوں؟ کیا اس وجہ سے کہ مودی جی مردم شماری کروا رہے ہیں ؟

جواب:
ارے سر ! مودی جی کے کرنے یا نہ کرنے کی بات نہیں، یہاں پر مسئلہ یہ ہے کہ
Citizenships Act 1955 and the Citizenship (Registration of Citizens and issue of National Identity Cards) Rules, 2003۔

یعنی این پی آر اور این آر سی دونوں سٹیزن شپ ایکٹ ١٩٥٥ کے تحت ہونگے، دونوں کے قوانین اور قواعد ایک ہی جیسے ہیں۔
اور اس بات کی وضاحت “منسٹری آف ہوم افیرس” کے سالانہ رپورٹ ٢٠١٧/١٨ کے چیپٹر نمبر ١٥ میں مذکور ہے NPR is the first step towards the creation for National Register of Citizens

یعنی این پی آر، این آر سی کا پہلا قدم ہے۔
اسی میں ہے کہ جب کوئی ادھیکاری گھر گھر جاکر این پی آر سے متعلق معلومات اکٹھا کریں گے، اگر شک و شبہ ہوا تو وہ اس کو
D Voter
یعنی مشکوک شہری کی لسٹ میں ڈال دیں گے، اس کے بعد ان لوگوں کے نام مشکوک شہریوں کے لسٹ میں آجائے گا. پھر ان سے کاغذات اور ڈاکومنٹس مانگے جائیں گے کہ وہ اپنی شہریت ثابت کرے،اگر ان ڈاکومنٹس سے وہ ادھیکاری مطمئن ہوگیا ، تو ٹھیک ہے ورنہ وہ این آر سی سے خارج ہوجائے گا۔پھر مقدمہ چلے گا اگر مقدمہ جیت لیا تو ٹھیک ہے، ورنہ غیر ملکی قرار پائے گا۔یہی تو این آر سی ہے۔

(١٢)سوال:
امیت شاہ جی تو کہہ رہے ہیں کہ این آر سی اور این پی آر کا آپس میں کوئی بھی لین دین نہیں ہے، وہ تو اسپشٹ کردیا ہے، پھر آپ ان کی باتوں پر کیوں نہیں یقین کر رہے ہیں؟

جواب:
ہمارے وزیر داخلہ چھوٹ کہہ رہے ہیں ۔یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم ہندوستان کی عوام کو جھوٹی بات بتا رہے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے رام لیلا میدان میں ببانگ دہل کہا تھا کہ “اس ملک میں کہیں بھی ڈی ٹینشن کیمپ نہیں ہے “
حالانکہ ڈیٹینشن کیمپ کا انکار کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی چلچلاتی دھوپ میں سورج کا مطلقاً انکار کر بیٹھے۔

اسی طرح وزیراعظم نے کہا تھا کہ “این آر سی پر کوئی بھی اور کہیں بھی کوئی تذکرہ نہیں ہوا ہے”
یہ بات بھی بالکل جھوٹ پر مبنی ہے ۔ ایک سو سینتیس کروڑ دیش واسیوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
اسی طریقے سے وزیر داخلہ یہ کہہ کر کہ این آر سی، کا این پی آر، سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ بھی کھلا جھوٹ ہے، جیسا کہ میں نے آپ کو ابھی حوالے کے ساتھ بتایا۔

(١٣)سوال:
اب تو سپریم کورٹ بھی مرکزی حکومت کو چار ہفتے کا وقت دے دیا ہے کہ اس کے اندر نوٹس کا جواب دے ،اور شہریت ترمیمی بل پر کوئی روک بھی نہیں لگایا ہے، تو ایسے میں آپ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اور حکومت بھی اس بات کی وضاحت کر چکی ہے کہ وہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔

جواب:
سپریم کورٹ کا اس قانون پر فی الحال روک نہ لگا نا ہمارے لئے تھوڑا سا مایوس کن ضرور ہے، مگر ہمیں سپریم کورٹ سے امید قوی ہے کہ وہ اس کالا قانون کو ضرور منسوخ کر یگا ۔11 دسمبر سے ہی ہندوستان کے اطراف و اکناف میں لاکھوں و کروڑوں کی تعداد میں بھارت کی عوام روزانہ اس کالا قانون کے خلاف احتجاج و مظاہرے کر رہے ہیں۔ لوگوں میں بے حد غصہ اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ پورے ملک کے منصف مجاز لوگوں کی نگاہیں صرف اور صرف سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹکی ہیں۔ در حقیقت یہاں جمہوریت ہی داؤ پر لگی ہوئی ہے، بس اسی سے ہماری امیدیں وابستہ ہیں۔۔اور ان شاء اللہ فیصلہ ہمارے حق میں ہی آے گا۔

دوسرا پونٹ
رہی بات حکومت کی تو یہ ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم بھارت کے عوام جس طریقے سے انہیں گدی نشیں کرا سکتے ہیں، اسی طریقہ سے انہیں گدی سے نیچے اتار بھی سکتے ہیں۔

انہیں یہ بل واپس لینا پڑے گا، مودی جی اور امت شاہ جی کی پالیسی “پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو” زیادہ دن ٹکنے والی نہیں ہے. اب ہندوستان کی عوام و خواص اچھی طرح سے سمجھ چکی ہیں۔

از قلم : محمد ابو سعید مصباحی
جامعہ صمدیہ دار الخیر پھپھوند شریف،اوریا، یوپی۔
٢٢/١/٢٠٢٠

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *