گرائیں خود کےنشیمن پہ بجلیاں میں نے – ہندوتوا لابی کے نشانے پر : کون ہیں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان؟

گرائیں خود کےنشیمن پہ بجلیاں میں نے – ہندوتوا لابی کے نشانے پر : کون ہیں ڈاکٹر ظفر الاسلام خان؟

سمیع ‍‍‌ﷲ خان
7 مئی بروز جمعرات ۲۰۲۰

۲ مئی ۲۰۲۰ کو دہلی پولیس نے ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا، چھ مئی کی شام افطاری کے وقت دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، گرچہ بھاری عوامی دباؤ اور وکیل کی طرف سے مضبوط قانونی دفاع کی وجہ سے پولیس ڈاکٹر خان کو گرفتار نہیں کرسکی
اس دوران کئی احباب نے ڈاکٹر خان کے متعلق سوال کرکے مزید جاننا چاہا جس کے بعد میں ان کے متعلق یہ مضمون لکھ رہا ہوں، تاکہ قوم اپنے اس ہمدرد اور قیمتی فردِ ملت کو پہچان سکے جو آج ہندوتوا لابی کے نشانے پر ہے مجھے جاننے والے بہتر جانتے ہیں کہ میں موجودہ عہدِ ہند کی شخصیات کے متعلق بہت کم ہی بات کرتاہوں، لیکن ڈاکٹر خان کی شخصیت کا یہ حق ہے کہ ان کی خدمات کا تذکرہ کیا جائے_

ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھارت میں دارالسلام عمر آباد، مدرسۃ الاصلاح، دارالعلوم ندوۃ العلماء اور لکھنؤ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی پھر وہ بیرون ملک علم حاصل کرنے گئے اسلامی تاریخ کے موضوع پر قاہرہ یونیورسٹی اور مانچسٹر یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں انہوں نے تعلیم حاصل کی
ڈاکٹر خان نے قاہرہ ریڈیو ڈپارٹمنٹ، لیبیا کی وزارت خارجہ، مسلم انسٹیٹیوٹ لندن، انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اینڈ عرب اسٹڈیز نئی دہلی، امام یونیورسٹی ریاض سعودی عرب میں بحیثیت مہمان پروفیسر، ماہر لکچرار کی حیثیت سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسی طرح انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اور انسائیکلو پیڈیا آف اسلامی تاریخ قاہرہ، میں کام کیا اور بہترین خدمات انجام دیتے رہے، اس طرح انہوں نے بحیثیت مسلمان سعودی عرب، مصر، لندن اور لیبیا میں اپنی علمی خدمات سے قوم اور ملک کا نام روشن کیا_
ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے قلم سے کئی ایک قیمتی، مستند، چشم کشا فکر انگیز اور وقیع کتابیں دنیا میں آئی ہیں جو ان شاءالله رہتی دنیا تک علم و فکر کے شیدائیوں کو سیراب کرتی رہیں گی جن میں سے بعض کتابوں کے نام:
” دلیل الباحث ۔ اصول تحقیق جدید ریسرچ کے اصول و ضوابط “
” الامام ولی الله الدھلوی “
” اسلام میں ہجرت کا تصور (انگریزی) “
” Palestine Documents- دستاویزاتِ فلسطین. (Edited)”
“جدید اسلامی فکر پر مستشرقین کے اثرات یہ ترجمہ ہے مالک بن نبی کی شاندار کتاب کا “
” مغربی افریقہ کی تحریکِ جہاد۔ ڈاکٹر احمد محمد کی کتاب کا ترجمہ”
یہ ان کی چند گرانقدر علمی کاوشوں کا تذکرہ ہے اس کے علاوه انہوں نے فاروس میڈیا ہاوز کے ذریعے ہندوستان میں ہندوتوا اور ہندی مسلمانوں کی پسماندگی پر بیشمار قابل صد ستائش کام کروائے ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علمی، فکری اور تحقیقی ذخیرہ جو وہ چھوڑ کر جائیں گے وہ ایک سرمایہ رہےگا _
ان کا ایک اور تاریخی کارنامہ، آزاد بھارت کی تاریخ میں سب سے طویل اسلامی شناخت والا مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والا انگریزی اخبار ” ملّی گزٹ ” جاری کرنا ہے، انہوں نے یہ انگریزی اخبار راجدھانی دہلی سے سن ۲۰۰۰ میں شروع کیا تھا اور جو ۱۵ سال سے زائد پرنٹ ایڈیشن کی صورت میں نکل کر مسلمانوں کی بڑی ہی کامیاب نمائندگی کرتاتھا ان کے مسائل اور مظلومیت پر نہایت ہی بےلاگ آواز بلند کرتاتھا، بعد میں مالی بحران کی وجہ سے بالآخر انہیں یہ اخبار بند کرنا پڑا، لیکن ان کا یہ کام میری نظر میں آزادی کے بعد مسلم ایشوز کو بلند کرنے اور مین اسٹریمنگ میں ٹھوس انداز سے مسلمانوں کی آواز رکھنے میں، اس مسلم انگریزی جریدے کا ۱۵ سالہ سفر ایک تاریخ ہے، جو ہندوستانی مسلمانوں کے ليے ایک عملی نظیر ہیکہ اس ملک میں اردو تو درکنار اگر وہ ٹھان لیں تو اپنا انگریزی میڈیا ہاؤز بھی قائم کرسکتےہیں، میری نظر میں انگریزی اخبار جاری کرنا، اسے کئی سالوں تک چلانا ایک نظیر ہے، یہ نظیر قائم کرکے ۱۵ سال اس پر مسلمانوں کے لیے راجدھانی دہلی میں کام کردینا ایک عظیم کام ہے، جس کے ذریعے انہیں امت اسلامیہ ہندیہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائےگا، نیز یہ کام اس لیے بھی سبق آموز اور شفاف لگن کا جذبہ رکھنے والوں کے لیے راہ نما ہیکہ ڈاکٹر خان نے اپنی مسلم قوم کے تئیں جدوجہد اور تڑپ سے ایک انگریزی میڈیا ہاؤز کھڑا کردیا تھا جبکہ ان کے پاس کوئی بڑی مرکزی قیادت کی قوت نہیں تھی لیکن جن کے پاس مرکزی قیادت کی قوّت تھی اور جنہوں نے مسلمانوں کا میڈیا ہاؤز جاری کرنے کے نام پر مہم بھی چلائی تھی وہ آج تک مسلمانوں کے لیے مین اسٹریم میں ایک ورق یا ٹیلی کاسٹنگ کی ایک تار بھی کھینچ نہیں سکے جبکہ بعض مقرّر قائدوں کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے میڈیا ہاؤز کے نام پر فنڈ فراہمی کے لیے چندہ تک کیا تھا، لیکن پتا نہیں پھر کیا ہوا ۔ خیر یہاں مجھے ظفر الاسلام صاحب کی خدمات کا تذکرہ کرنا اصلاً مقصود ہے ان کے میڈیا ہاؤز کے قیام پر یہ موازنہ اس کام کی اہمیت کے بیان کے ليے ضروری تھا۔
ڈاکٹر خان نے ان خدمات کے علاوہ مسلم مجلس مشاورت جیسی کسی زمانے میں ‘ مسلم سیاسی تھنک ٹینک ‘ کا درجہ رکھنے والی جماعت کی صدارت بھی کی اور اس پلیٹ فارم سے بھی مسلمانوں کی ترقی، اور ان پر سسٹم و سیاست کے مظالم کے خلاف بہت جدوجہد کرتے رہے
انہوں نے مسلمانوں کی سیاسی ترقی کے لیے فکریں کیں، انہوں نے مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف بےباک آواز بلند کی، یہاں تک کہ وہ صراحت کے ساتھ کشمیریوں پر بھی ظلم و زیادتی کےخلاف بے لاگ صدائے احتجاج بلند کرتے رہے
انہوں مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی کام کیا
انہوں نے تقریباﹰ ہر نازک اور سنگین مسلم قضیے پر اپنی فہم و فراست اور عالمی سیاست کے تجربے کے ساتھ اپنی رائے قائم کی
انہوں نے مسلمانوں میں علمی، فکری شعوری و صحافتی ترقی کے لیے اپنا بہت خونِ دل جلایا ہے… ان کا بنیادی وصف دردِ امت اور علم دوستی انہیں ممتاز کرتاہے
وہ مشہور علمی اور تحقیقی ادارہ دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے ممبر بھی ہیں
ابھی وہ فاروس میڈیا، ملی گزٹ کے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز، چیریٹی الائنس کے ذریعے خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک حسّاس اور ذمہ دارانہ گورنمنٹ منصب پر دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کے طورپر خدمات انجام دے رہے ہیں
بحیثیت اقلیتی کمیشن چیئرمین انہوں نے دہلی حکومت، دہلی پولیس وغیرہ کو مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کی وجہ سے آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے اس دوران بھی دہلی فسادات، تبلیغی جماعت پر کارروائی اور کالے قوانین کےخلاف احتجاجی سرگرمیوں میں اپنی خدمات پیش کیں
ابھی انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران مسلمانوں پر ہندوتوائی اسلاموفوبیا کے حملوں کےخلاف بحیثیت دہلی اقلیتی کمیشن چیئرمین آواز اٹھائی اور ہندی مسلمانوں کے لیے صدا بلند کرنے والے عرب حضرات کا شکریہ ادا کیا جس نے سنگھی خیمے میں ہلچل مچادی اور پھر ان کے خلاف ہندوستان کی طوائف میڈیا نے اپنا طوائفانہ کردار ادا کیا، پھر مقدمہ ہوا اور پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا_
جس دن ان کے گھر پر پولیس کا چھاپہ مارا اس دن بھی ان کی مصروفیت اس سلسلے میں تھی کہ ستم رسیدہ بہادر مسلم بیٹی صفورا زرگر کو کس طرح انصاف دلائیں

یقینًا ڈاکٹر ظفر الاسلام خان سے اختلاف کے بھی کئی گوشے ہوں گے، اور لازمی ہوں گے، جن پر تنقید اور اظہارِ اختلاف بھی ہوتا رہےگا، البتہ اس وقت ان کی وہ خدمات سامنے آنا ضروری ہیں جو قوم کے سامنے رہیں…… ایک 72 سالہ شخص آج ہندوتوا لابی کے ٹارگٹ پر کیوں ہے؟ جس پر بغاوت کا مقدمہ، اور جس کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی ہورہی ہے… یقینا اس کے پیچھے ان کی زندگی بھر کی بے لوث خدمات قوم کے ليے جدوجہد، اسلام پسندی، ہندوتوا لابی کے خلاف کام کرنا، مسلم شناخت اور قومیت کی آواز بلند کرنا عالمی فورمز تک مسلمانوں کے مسائل پہنچانا، مسلمانوں کو عملی طورپر سکھانا کہ وہ انگریزی میڈیا ہاؤز قائم کرسکتے ہیں اور اب دہلی اقلیتی کمیشن کی چیئرمین شپ پر بیٹھ کر مسلمانوں کے لیے نڈر اور جراتمندانہ کام کرنا، یہ سب سنگھیوں کی نظر میں کھٹکا ہوا ہے، یہ ملکی سسٹم میں گھسا ہوا اسلامو فوبیا ہے، جسے گونگے بہرے اور زندگی کی سانسیں خریدتے ہوئے سرکاری مسلمان تو پسند ہیں لیکن اپنے ترقی پسند باضمیر اور بااصول دماغ کے ساتھ ایک باعزت مقام بناکر اس پر قائم رہنے والے مسلمان اس ہندوستانی سنگھی سسٹم کے لیے بہت پریشان کن ہیں لہذا ان کے ساتھ دردناک سلوک کیا جاتاہے تاکہ آئندہ کوئی مسلمان ایسے مقام تک نا پہنچے، انسانیت دشمن، متعصب سَنگھی سسٹم اور ہندوتوا لابی مسلمانوں کو پسماندہ و درمانده بنائے رکھنے کے لیے ظفرالاسلام خان جیسے باوقار انسان کا ٹرائل کروا رہے ہیں…… لیکن ڈاکٹر خان قائم رہیں گے وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے، ہم اور ہمارے جیسی بیشمار حریت پسند طبائع ان جیسی تھنکر شخصیات کو قوم میں بہت دیکھنا چاہتے ہیں، صد آفرین اور مبارکبادی ہے کہ ڈاکٹر خان سرکاری اور خود سپردگی ذہنیت والے سیکولر مسلمانوں سمیت بالآخر راست دشمن سے بھی نبردآزما ہوئے، یقینًا وہ سرخرو ہوں گے، ظالموں، فسطائی طاقتوں اور نسل پرستوں کی پوری ٹولی ایک انسان کی حقیقت پسند ہیبت سے خوفزدہ ہیں یہ ڈاکٹر خان کے نظریے ان کی دعوت اور ان کے مقصد کی جیت ہے، ہندوستان میں قاتل ہٹلر کے ماننے والے سَنگھی اپنے تانڈو میں سچ اور انصاف کی طاقت سے سہم گئے ہیں ان کا مسلم دشمن تعصب بالآخر ان کے ليے خودکار زہر ہی ثابت ہوتا جارہاہے _
یہ مصرعہ ڈاکٹر خان کے لیے:

اسی غرض سے کہ ٹوٹے میری حیات کا بت
گرائیں خود کے نشیمن پہ بجلیاں میں نے

ksamikhann@gmail.com

UNSUBSCRIBE : This multilingual Whatsapp broadcast aims to bring cutting edge content of high intellectual value and utility to the interested audience. You can UNSUBSCRIBE any time by simply replying “UNSUBSCRIBE” to discontinue receiving the messages. Please kindly inform if the message is sent multiple times.

SHARING IS CARING

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *