۔انسانی جان کی حفاظت شریعت اسلامی کا ایک اہم مقصد ہے۔ جان کا رسک لینا صرف اسی وقت جائز ہے

Some instruction on Covid situation

اللہ تعالیٰ رحم و کرم کا معاملہ فرمائے اورمرحومین کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے۔۔۔ ۔مہاراشٹر میں چار، گجرات میں پانچ اور دیگر جگہوں پر بھی ارکان جماعت کی اموات ہوئی ہیں۔۔۔کارکن بھی کئی شکار ہوئے ہیں۔۔۔ اس وقت حید رآباد میں وہی صورت حال ہے جو دلی میں رمضان کے آخری عشرے میں تھی۔۔وہاں بھی اسی طرح دواخانے بھرچکے تھے اور روزانہ اموات کی خبریں آرہی تھیں۔۔لیکن فرق یہ ہے کہ دلی میں نسبتاً حکومت بھی چوکس ہے اور عوام بھی محتاط ہیں۔۔۔یہاں حکومت نے کیوں اتنی چھوٹ دے رکھی ہے معلوم نہیں۔۔۔۔ملک کی ہر ریاست میں ریاست کے باہر سے خصوصاً ، زیادہ متاثر ریاستوں سے آنے والوں کو کوارنٹائن کیا جارہا ہے۔۔صرف تلنگانہ واحد ریاست ہےجہاں کوئی بندش نہیں ہے۔۔ہم نے دلی سے واپسی پر voluntarilyخود کو کوارنٹائن کرلیا تھا اور دس دن بعد ہی گھر سے باہر نکلے۔۔۔
یہاں دو انتہائیں نطر آرہی ہیں ۔۔کچھ لوگ بہت زیادہ ڈر خوف پیدا کررہے ہیں۔۔اور کچھ انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔۔بلکہ اسے غلط قرار دینے والے ویڈیوز بھی ابھی بھی گردش مین ہیں۔۔۔۔(کل ہی اکبر صاحب چارمینار نے ایک ویڈیو بھیجا ہے۔۔)ڈاکٹرز بھی لگتا ہے کہ ہسپتالوں کے مناظر سے زیادہ متاثر ہیں۔۔۔ڈر اور خوف بھی ان حالات میں بہت نقصاندہ ہے۔۔۔اس سے قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔۔۔جو احتیاطیں معتبر سائنسی ادارے تجویز کررہے ہیں سختی سے ان کی پابندی کرنی چاہیے اوراس کے بعد اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے نارمل زندگی گذارنی چاہیے۔۔۔ماسک، ہاتھوں کی بار بار صفائی اور سماجی دوری، عام لوگ ان تین چیزوں پر سختی سے عمل کرلیں تو کافی ہے۔۔۔لاک ڈاون ،یا سب کچھ بند کرکے گھروں میں بیٹھے رہنا ، وبا کے اس مرحلہ میں، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، یہی اب تک کی سائنس کہتی ہے۔۔۔۔۔ذاتی احتیاط اور وبا کے پیش نظر لائف اسٹائل میں ضروری تبدیلی کر لیں یہی کافی ہے۔
جنازوں میں بھی بہت بے احتیاطی ہورہی ہے۔۔۔حساس مسئلہ ہے لیکن ذمہ داروں کو اس بات سے واقف رہنا چاہیے کہ کووڈ۱۹ کے وائرس کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ وہ پہلے سے موجود بعض بیماریوں میں اچانک شدت پیدا کرکے موت کا سبب بن رہا ہے۔ اس لئے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے ، یا فلاں مرض سے موت ہوئی ہے۔۔لیکن جب تک ٹسٹ نہ ہو، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔۔۔۔دلی وغیرہ میں ایسی اموات کی صورت میں ہسپتال لازما ٹسٹ کرارہے ہیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ایسی صورت مین جنازوں میں ضروری احتیاط ہونی چاہیے ۔۔۔۔۔اصل مسئلہ بزرگوں کا ہے۔۔
پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ان کا آفسوں میں آکر کام کرنا یا مسجدوں میں نماز کے لئے جانا، یا بازار میں جانا، یا جنازوں میں شریک ہونا یہ سب بالکل نامناسب ہے اور جان پر کھیلنا ہے۔ ۔۔۔۔مرکز میں اور مسجد میں آنے والے ہر آدمی کا درجہ حرارت ٹسٹ کیا جارہا ہے۔۔۔سینیٹائز کیئے بغیر اور ماسک بغیر اندر جانے نہیں دیا جارہا ہے۔۔۔ان سب باتوں کی یہاں بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔۔یہ مرض سیریس عام طور پر بزرگوں میں ہی ہورہا ہے۔ بزرگوں کو سختی سے روکنا نہایت ضروری ہے۔ جن گھروں میں بزرگ ہیں ، وہاں کے جوانوں کو بھی بعض اضافی احتیاطی تدبیریں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔میرا خیال ہے آپ حضرات کو اس سلسلہ میں خصوصی کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔
جماعت کے لوگوں کو غلط باتیں اور گمراہ کن ویڈیوز وغیرہ کی ترسیل سے سختی سے روکنا چاہیے۔۔اس کے ذریعہ ہم کسی کی موت کے ذمہ دار بنتے ہیں تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔۔انسانی جان کی حفاظت شریعت اسلامی کا ایک اہم مقصد ہے۔ جان کا رسک لینا صرف اسی وقت جائز ہے جب دوسروں کی جان بچانے کا معاملہ ہو یا کوئی بڑا اجتماعی دینی یا انسانی مفاد درپیش ہو۔۔۔چھوٹی موٹی باتوں کو لے کر جان پر کھیلنا اور اپنی اور دوسروں کی جانوں کو خطرہ مین ڈالنا شجاعت نہیں حماقت ہے جو بڑا گناہ بھی بن سکتی ہے۔۔۔۔
میں نے تفصیل سے یہ باتیں اس لئے لکھیں کہ یہ سب یہاں شدت سے محسوس ہورہا ہے اور جماعت کے ذمہ داروں کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *