علم التجوید- ilmut Tajweed

  1. علم التجویدتجوید لفظ کا مطلب ہے ۔۔ عمدہ کرنا ، سُتھرا کرنا ، کھرا کرنا ۔اصطلاح میں اس سے مراد ہے ۔
    حروف کو ان کے مخارج مقررہ سے تمام صفاتِ لازمہ اور صفاتِ عارضہ کے ساتھ بغیر کسی تکلّف کے ادا کرنا ۔※※※※※※※※※※غرض و غایتہر علم کو سیکھنے کی کوئی وجہ ہوتی ہے ۔ علم التجوید سیکھنے سے حروف کو صحیح طور پر ادا کرنا آ جاتا ہے ۔
    اصل غرض اور وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے کی اس ادا اور تلفظ پر قدرت حاصل کرنا جس طرح رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سیکھا اور حاصل کیا گیا ۔
    اور اس علم کے سیکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ کلام الله کو عمدہ طریقہ سے درست درست پڑھنے پر الله کریم کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے ۔※※※※※※※※※※※
    علم التجوید کا موضوع :-علم التجوید کا موضوع حروفِ ھجائیہ ا۔۔۔ ب۔۔ ت۔۔۔ ث وغیرہ ہیں ۔
    حروف ھجائیہ کی تعداد انتیس ہے اور انہی سے پورا قرآن مجید مرتب ہے ۔※※※※※※※※※※قرآن مجید الله کریم کی وہ خاص کتاب ہے جس نے گمراہ انسانوں کو سیدھا راستہ دکھایا ۔ اسی کتاب کی بدولت الله تعالی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا انکار کرنے والے دنیا کے عظیم ترین راہنما بن گئے ۔ آج جب کہ انسانیت پر لا دینیت چھا رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کیا جائے ۔ تاکہ لوگ تعلیمات قرآن مجید پر عمل کرکے اچھی اسلامی زندگی گزار سکیں ۔
    قرآن مجید کی سمجھ اور شعور پیدا کرنے کے لئے اس کو صحیح طور پر پڑھنا ضروری ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جب ہم اسکو صحیح پڑھ نہیں سکیں گے تو اس کے معانی اور مطالب پر غور کیسے کریں گے ۔ اور جب سمجھ نہیں آئے گی تو عمل کرنے کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ حاصلِ کلام یہ کہ سب سے پہلے قرآن مجید کا صحیح پڑھنا ضروری ہے ۔ کیونکہ غلط پڑھنے سے معنی اور مطلب بدل جاتے ہیں ۔ جس سے نماز بھی فاسد ہو جاتی ہے ۔
    مثال کے طور پر ۔قُلْ ھُوَ الله ُ اَحَدٌکہہ دیجئے کہ الله ایک ہے ۔ اگر ” قل ” کو ” کل ” پڑھ دیا تو اس کا مطلب ہے ۔ کھا لو الله ایک ہے ۔( نعوذ بالله ) ۔※※※※※※※※※
    علم التجوید سیکھنے کا حکمعلم التجوید سیکھنا جس سے حروف کی درست ادائیگی ہو ۔ اور قرآن مجید کے معنی نہ بدلیں فرض عین ہے ۔ اور اس سے زیادہ علم قراءت و تجوید فرض کفایہ ہے ۔پس قرآن مجید کے حروف کا اس حد تک صحیح پڑھنا کہ اس سے حروف میں کمی زیادتی ، تبدیلی اور اعراب کی غلطی پیدا نہ ہو اور قرآن مجید کے معنی نہ بگڑیں ۔ ہر حرف دوسرے سے الگ نمایاں ، مستقل معلوم ہو ہر مسلمان پر فرض عین ہے ۔مرد ہو خواہ عورت ہو ، عربی ہو یا عجمی ہو ۔ سفید ہو سرخ ہو یا گندمی ۔ نماز کے اندر ہو یا باہر ۔ حفظ پڑھے یا ناظرہ ۔ تھوڑا پڑھے یا زیادہ ۔ جلدی جلدی حدر سے پڑھے یا ٹہراؤ سےیا درمیانہ رفتار سے ۔ مجمع میں پڑھے یا اکیلا ۔ بہر صورت ہر وقت ہر حال میں اس حد تک قرآن مجید کا صحیح پڑھنا ہر عاقل و بالغ کے لئے فرضِ عین ہے ۔ اور غیر صحیح طریقہ پر تلاوت کرنے والا مرتکبِ حرام اور گناہ گار ہے ۔ اور اس کی ضرورت اور فرضیت کا انکار کرنے والا سخت گنہگار ہے ۔اس سے زیادہ اس علم کے قاعدوں کو یاد کرنا فرضِ کفایہ ہے ۔ کہ اڑتالیس میل کی حد کے اندر ایک ماہر تجوید و فن و عالِم فن قارئ قرآن کا ہونا ضروری ہے ورنہ سب کے سب گنہگار ہوں گے ۔※※※※※※※※※※※※ام اویس‏جنوری 31, 2019#1
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3 
    • زبردست زبردست × 2
  2. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed[​IMG]ام اویس‏جنوری 31, 2019#2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2 
    • زبردست زبردست × 1
  3. عرفان سعیدمحفلینمراسلے:6,702جھنڈا:Finlandموڈ:Mellowیہ بات تو بدیہی ہے کہ علم التجوید کا جب نام لیا جاتا ہے تو ذہن فورا قرآن مجید کی قرات کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔ عربی زبان قرآن کے نزول سے بھی پہلے موجود ہے اور حروف کو درست مِخارج سے ادا کرنا تب بھی ضروری ہوتا ہو گا۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم التجوید قرآن کے نزول سے پہلے بھی موجود تھا؟ اس علم کی تاریخ کے بارے کیا آپ کے پاس کچھ معلومات ہیں؟عرفان سعید‏جنوری 31, 2019#3
  4. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedعرفان سعید نے کہا: یہ بات تو بدیہی ہے کہ علم التجوید کا جب نام لیا جاتا ہے تو ذہن فورا قرآن مجید کی قرات کی طرف مبذول ہو جاتا ہے۔ عربی زبان قرآن کے نزول سے بھی پہلے موجود ہے اور حروف کو درست مِخارج سے ادا کرنا تب بھی ضروری ہوتا ہو گا۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ علم التجوید قرآن کے نزول سے پہلے بھی موجود تھا؟ اس علم کی تاریخ کے بارے کیا آپ کے پاس کچھ معلومات ہیں؟علم التجوید در حقیقت قرآن مجید کو ترتیل سے پڑھنے کا نام ہے اس لیے نزول قرآن سے قبل اس علم کا موجود ہونا ممکن نہیں
    فن تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری ہجری صدی کے نصف سے ہوا۔جس طرح حدیث وفقہ پر کام کیا گیا اسی طرح قرآن مجید کے درست تلفظ وقراءت کی طرف توجہ کی گئیام اویس‏فروری 1, 2019#4
    • زبردست زبردست × 1 
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedعلم التجوید قرآن مجید کو درست طریقے سے پڑھنے کا علم ہے اور اجماع صحابہ ؓ سے ثابت ہے۔اس علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خود صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو وقف و ابتداء کی تعلیم دیتے تھے جیسا کہ حدیث ابن ِعمرؓ سے معلوم ہوتا ہے۔
    ابن ِعمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے زمانے میں ایک طویل مدت تک اسی طرح زندگی گزارتے رہے کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن حاصل کرنے سے پہلے ہی ایمان لے آتااور نبی ﷺ پر کوئی سورت نازل ہوتی تو ہم سب آپ ﷺسے اس کے حلال وحرام کی تعلیم حاصل کرتے اور ان مقامات کو معلوم کرتے کہ جہاں وقف کرنا چاہیے ۔ جس طرح آج کل تم قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہو ۔بے شک آج ہم بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جو ایمان لانے سے قبل قرآن کی تلاوت کرتے ہیں وہ سورۃالفاتحہ سے سورۃالناس تک قرآن پڑھ لیتے ہیں مگرانہیں اس چیز کا ادراک نہیں ہوتا کہ قرآن کا امر کیا ہے اور زجر کیاہے اور نہ ہی معلوم کرتے ہیں کہ قرآن پڑھتے ہوئے کون کون سے مقامات پروقف کرنا چاہیے ۔ام اویس‏فروری 1, 2019#5
  6. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedتجوید کا واجب ہوناعلم التجوید کا سیکھنا واجب ہے ۔ اور اس کا وجوب قرآن مجید ۔ سنت رسول صلی الله علیہ وسلم ۔ اجماع وقیاس ۔ فقہ و اقوال علماء سبھی سے ثابت ہے ۔قرآن مجید میں الله کریم کا فرمان ہے ۔الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَسورہ بقرہ ۔ آیہ ۱۲۱جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کو نہیں مانتے وہی خسارہ پانے والے ہیں۔امام غزالی رحمہ الله فرماتے ہیں ۔ حقِ تلاوت یہ ہے کہ زبان و عقل اور دل تینوں شریک ہوں ۔پس زبان کا حصہ حروف کی درست اور عمدہ ادائیگیعقل کا حصہ معنی و مطالب کی تفسیراور دل کا حصہ اطاعت اور عمل کی کوشش ہے ۔فرمان الله جل جلالہ ہے ۔وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًامزمل ۔ ۴اور قرآن کو اچھی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو۔بیضاوی رحمہ الله فرماتے ہیں ۔اَیْ جَوِّدِ الْقُرْآنَ تَجْوِیْداًیعنی قرآن مجید کو تجوید کی خوبصورتی کے ساتھ مزین کرنا ۔اور حضرت علی رضی الله عنہ کا فرمان ہے ۔اَلتَّرتِیْلُ ھُوَ تَجْوِیْدُ الْحُرُوْفِ وَ مَعْرِفَۃُ الْوُقُوْفیعنی ترتیل سے پڑھنا نام ہے حروف کو تجوید کے ساتھ ادا کرنا اور وقف و ابتداء کی جگہ اور طریقہ پہچاننے کا ۔حدیث مبارکہ میں فرمان رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا : قرآن کا ماہر ان ملائکہ کے ساتھ ہوگا جو فرشتوں کے سردارہیں اور جو شخص قرآن شریف کو اٹکتا ہوا پڑھتا ہے اور اس میں دقت اٹھاتا ہے اس کے لئے دوہر ا اجر ہے۔بخاری ومسلمحضرت عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قرآن والو!قرآن سے تکیہ نہ لگاؤ اور شب وروز اس کی ویسے تلاوت کرو جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے ۔ قرآن کی اشاعت کرو اسے اچھی آواز سے پڑھو ۔ اس کے معانی میں تدبرکرو تا کہ تم فلاح پاجاؤ اور اس کا صلہ (دنیا ہی میں )طلب نہ کرو کیونکہ اس کا (آخر ت میں) عظیم صلہ ملے گا (اور اعمال کا صلہ ملنے کی اصل جگہ تو آخرت ہی ہےبیھقی فی شعب الایمانابن مسعود رضی الله تعالی عنہ ایک شخص کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے ۔ اس نےاِنَّما الصَّدَقَاتُ لِلفُقَرَآءِ کو بغیر مد کے پڑھا ۔ آپ نے فرمایا مجھے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس طرح نہیں پڑھایا ۔ملا علی قاری شرح مقدمہ جزریہ میں فرماتے ہیں ۔ کہ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ تجوید کے قواعد کا جاننافرض کفایہ ہے ۔ اور ان کے موافق عمل کرنا ہر قراءت و روایت میں فرض عین ہے ۔ اگرچہ خود تلاوت قرآن مجید مسنون و مستحب ہے ۔ نہ کہ فرض و واجب ۔قرآن مجید لفظ و معنی دونوں کا نام ہے ۔ چنانچہ معنی کی طرح الفاظ کی تصحیح بھی ضروری ہے ۔ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے ۔ کیونکہ غلط پڑھنے سے بعض اوقات معنی اس حد تک بدل جاتے ہیں کہ نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اور اس بارے میں خود اس کا اپنا خیال معتبر نہیں بلکہ محقق اور ماہر قاری کی گواہی ضروری ہوگی ۔ اور اگر حروف کی درست ادائیگی کی کوشش نہ کرے تو نماز ادا نہ ہو گی ۔حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ الله وَ رَتِّلِ الْقُرآنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔لغت کی رو سے ترتیل ” کے معنی واضح اور صاف پڑھنا ہے ۔ اور شریعت میں ان سات چیزوں کی رعایت رکھنے کا نام ترتیل ہےہر حرف کو اسکی صحیح جگہ سے ادا کرنا ۔۔۔۔ وقف اور ابتداء کا لحاظ کرنا ۔۔۔ تینوں حرکتوں کو صاف ادا کرنا ۔۔۔ آواز کا قدرے بلند کرنا ۔۔۔ آواز کا عمدہ بنانا ۔۔۔ تشدید اور مدّ کا خیال رکھنا ۔۔۔ ترہیب اور عذاب کی آیات پر دعا اور استغفار اور ترغیب و ثواب کی آیات پر سوال جنت کرنا ۔و با لله التوفیق ۔۔۔ام اویس‏فروری 1, 2019#6
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedعلم التجوید کی ضرورتتجوید کے خلاف قرآن مجید پڑھنا یا غلط پڑھانا یا بے قاعدہ پڑھنا لحن کہلاتا ہے ۔ جس کا معنی غلطی ہے ۔لحن کی دو قسمیں ہیں ۔لحن جلی ~~~لحن خفی ~~~لحن جلی ※※※ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف۔ پڑھ دیا ۔۔۔ الحمد ۔۔۔۔ الھمدث ” کی جگہ س” پڑھ دیاذ” کی جگہ ز” پڑھ دیاص ” کی جگہ س” پڑھ دیاض” کی جگہ ذ” یا ظ ” یا ز” پڑھ دی ۔ع” کی جگہ ء ” پڑھ دیااور ایسی غلطیوں میں اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی مبتلا ہیں ۔کسی حرف کو بڑھا دیا ※※※جیسے۔ الحمد لله ” میں د” کو کے پیش کو اور ہ” کے زیر کو اس طرح کھینچ کر پڑھا ۔۔۔ الحمدو للھیکسی حرف کو گھٹا دیا ※※※جیسے لَمّ یُوْلَدْ ” میں واؤ کو ظاہر نہ کیا ۔ اور اس طرح پڑھا لم یُلَد “کسی حرکت کو بدل دیا ※※※زبر ، زیر اور پیش ، جزم میں ایک کو دوسرے کی جگہ پڑھ دیا ۔جیسے اِیَّاکَ کے کاف” پر زیر پڑھ دیا ۔ یا اِھْدِنَا” میں الف کے اوپر زبر پڑھ دیا ۔ یا اَنْعَمْتَ ” کی ت” پر پیش پڑھ دیا ۔ان غلطیوں کو لحن جلی کہتے ہیں ۔ جلی کا مطلب ہے واضح ، روشن کھلی ہوئی ۔لحن جلی کا حکملحن جلی حرام ہے ۔ بعض جگہ اس سے مطلب بدل جاتا ہے اور نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔لحن خفی چھوٹی غلطییہ ایسی غلطی تو نہیں لیکن حروف کے حسین ہونے کے جو قاعدے مقرر ہیں ان کے خلاف پڑھا ۔جیسے ر” پر جب زبر یا پیش ہو اسے پُر یعنی منہ بھر کر پڑھتے ہیں ۔ الصّرَاط کا ر” مگر باریک پڑھ دیا ۔ اس کو لحن خفی کہتے ہیں ۔ یہ غلطی پہلی غلطی سے ہلکی ہے ۔لحن خفی کا حکمایسی غلطی مکروہ ہے ۔ اس سے بچنا بھی ضروری ہے ۔ام اویس‏فروری 1, 2019#7
  8. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedسبق نمبر 3
    مخارج کا بیانتجوید سیکھنے کے لئے پانچ چیزوں کا جاننا ضروری ہے ۔
    مخارج
    صفاتِ لازمہ
    صفاتِ عارضہ
    وقف کہاں کریں
    سانس ٹوٹنے پر وقفمخارجمنہ کے جن حصوں یا جگہوں سے الفاظ ادا ہوتے ہیں ان کو مخارج کہتے ہیں ۔عربی زبان میں کُل حروف ھجائیہ کی تعداد اُنتیس ہے ۔ اور یہ حروف منہ کے سترہ حصوں سے ادا ہوتے ہیںچنانچہ حروف کے مخارج کُل سترہ ہیںمخرج نمبر 1
    جوف دھن
    جوف دھن یعنی منہ کے اندر کا خلا
    اس سے تین حروف ادا ہوتے ہیں ۔
    واو ۔۔۔ یا ۔۔۔ الف
    جب یہ حروف مدّہ ہوں ۔
    حروف مدّہ
    واو ۔۔۔ یا ۔۔۔ الف ۔۔ جب یہ خود ساکن ہوں اور ان سے پہلے حرف کی حرکت ان کے موافق ہو ۔
    واو کی موافق حرکت پیش” ہے ۔ یعنی جب واؤ خود ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف پر پیش ہو تو اسے واؤ مدّہ کہیں گے
    جیسے ۔۔۔ اَعُوْذُ ۔۔۔ کی واو
    یا کے موافق حرکت زیر” ہے ۔ یعنی جب یا خود ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہو ۔ تو اسے یا مدّہ کہیں گے ۔
    جیسے ۔۔۔۔اَلرَّحِیْم ۔۔۔ کی یا
    الف کی موافق حرکت زبر” ہے ۔
    جب الف خود ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف پر زبر” ہو تو اسے الف مدّہ کہیں گے ۔جیسے ۔۔ اَلرَّحْمَان ۔۔ کا الفیاد رہے کہ الف وہ ہوتا ہے جس کے اوپر کسی طرح کی کوئی حرکت نہ ہو ۔ اور اس کو جھٹکے کے بغیر پڑھتے ہیں ۔ایسا الف جس پر کوئی حرکت مثلا زیر ” ۔ زبر” ۔ پیش ” یا جزم ” ہو وہ الف نہیں بلکہ ھمزہ کہلاتا ہے ۔اگرچہ عام لوگ اس کو بھی الف کہتے ہیں ۔ خوب ذہن نشین کر لوجیسے ۔۔ اَلْحَمْدُ کا الف ” یا بَأْسَ کے درمیان میں جو الف ہے حقیقت میں ھمزہ ہے ۔ان حروف کو یعنی واؤ۔۔۔ الف ۔۔ اور یا کو اس حالت میں جب کہ وہ مدّہ ہوں ۔ حروفِ مدّہ اور حروفِ ھوائیہ بھی کہتے ہیں ۔مدّہ اس لئے کہ کبھی ان پر مدّ بھی ہوتی ہے ۔ اور ہوائیہ اس لئے کہ یہ حروف ہوا پر ختم ہوتے ہیں ۔※※※※※※※مخرج معلوم کرنے کا طریقہ ۔
    جس حرف کا مخرج معلوم کرنا ہو اس کو ساکن کرکے اس سے پہلے ھمزہ متحرک لگاتے ہیں ۔
    ادا کرتے ہوئے جس جگہ آواز ختم ہو گی وہی اس حرف کا مخرج ہو گا ۔
    مثلا اگر ت” کا مخرج معلوم کرنا ہو تو اسے ساکن کرکے اس سے پہلے ھمزہ متحرک لگائیں گے
    آتْ ۔۔۔ جس جگہ آواز ختم ہو گی وہی ت” کے ادا ہونے کا موقع اور جگہ ہو گی ۔
    اسی طرح ۔۔۔ اَجْ ۔۔۔ اَمْ ۔۔۔ اَنْ ۔۔۔ وغیرہام اویس‏فروری 1, 2019#8
  9. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر~~~ 2~~~3~~~4اقصیٰ حلقیعنی حلق کا پچھلا حصہ ۔ سینے کی طرف والا ۔اقصی کا مطلب ہے جڑ” ۔اس سے دو حروف ادا ہوتے ہیں ۔ہمزہ ۔۔ ھامثلا ۔ اَنُؤْمِنُاِھْدِنَامخرج معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس حرف کا مخرج معلوم کرنا ہو اس کو ساکن کریں اور اس سے پہلے اَ” لگا دیں ۔جس جگہ آواز رکے گی وہ ہی اس لفظ کو ادا کرنے کی صحیح جگہ ہو گی ۔ءْاس سے پہلے اَ” لگایا تواَءْاَہْاور ہمزہ زیر ، زبر ، پیش اور جزم والے الف” کو کہتے ہیں ۔ جب اس پر جزم یا سکون کی علامت ہو تو اسے جھٹکے سے ادا کرتے ہیں ۔یُؤْمِنُوْنَمیں واؤ ” کو ہلکا سا جھٹکا دے کر پڑھیں گے ۔مخرج نمبر 3وسطِ حلقیعنی حلق کا درمیان والا حصہاس سے یہ حروف ادا ہوتے ہیںعین ۔۔۔ حابغیر نقطے والےاَعْاَحْاَعُوْذُ ۔۔۔ اَلْحَمْدُیہ دونوں حروف عربی کے ساتھ مخصوص ہیں اور دوسری زبانوں میں فصیح اور صحیح نہیں ہیں ۔اس لئے ان کی درستی اور مشق میں خوب محنت کی ضرورت ہے ۔پس ان کو نہایت نرمی ، لطافت اور عمدگی سے ادا کرنا چاہئیے ۔ اس طرح کہ نہ گلا گُھٹے اور نہ شدت اور سختی ہوخوب مشق کر لینی چاہئیے ۔مخرج نمبر 4ادنٰی حلقیعنی حلق کا وہ حصہ جو منہ کی طرف ہے ۔گلے کا ہونٹوں سے نزدیکی کنارا جو زبان کی جڑ کے پاس ہےاس سے یہ حروف ادا ہوتے ہیں ۔غین ۔۔۔ خانقطے والے حروفاَغْاَخْغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ ۔۔۔ خَسِرَ ۔۔۔ یُخْرِبُوْنَان چھ حروف *ء ” ہ” ع” ح” غ” خ” کو حروف حلقی کہتے ہیں ۔کیونکہ یہ حلق سے ادا ہوتے ہیںام اویس‏فروری 1, 2019#9
  10. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed[​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#10
  11. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed[​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#11
  12. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~5~~~6لہات
    لہات ۔۔۔ یعنی کوّے کے متصل زبان کی جڑ جب اوپر کے تالو سے ٹکرائےاس سے قاف” ادا ہوتا ہے ۔اَ قْاَلْمُسْتَقِیْممخرج نمبر 6کافقاف کے مخرج کے ساتھ ہی منہ کی جانب ذرا نیچے ہٹ کراور اس سےکاف ” ادا ہوتا ہےاَکْمَالِکِان دونوں قاف” کاف” کو لہاتیہ کہتے ہیں[​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#12
  13. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~ 7وسط زبان اور اس کے مقابل اوپر کا تالواس سے یہ حروف ادا ہوتے ہیںجیم ” ۔۔۔ شین” ۔۔۔ یا” جبکہ مدہ نہ ہویا متحرک ہو اور یا ” لین ہولِین ۔۔۔ ایسی یا کو کہتے ہیں جو خود ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف پر زبر ہواَلْحُسْنَیَیْنِ ۔ یَھْدِیاَلْحُسْنَیَیْن ۔۔۔ میں یا ” متحرک اور یا” لین دونوں شامل ہیںمدّہ ۔۔ ایسی یا کو کہتے ہیں جو ساکن ہو اور اس سے پہلے حرف کے نیچے زیر ہواور یا مدہ کا مخرج ۔۔۔ جوفِ دھن ہےان حروف کو حروف شجریہ ” کہتے ہیں ۔اور ان کا مجموعہ جَیْشٌ” ہے ۔جیم ۔۔۔۔ حاجَجْتُمْشین ۔۔۔ اَلشَّیْطَان
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#13
  14. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedدانتوں کے نامآگے جو مخارج ہیں ان میں دانت استعمال ہوتے ہیں ۔ اس لئے دانتوں کے نام جاننا ضروری ہیں ۔سامنے کے درمیان والے چار دانتوں کو ثنایا ” کہتے ہیںدو اوپر والے ثنایا علیا “اور دو نیچے والے ثنایا سُفلٰی “ان کے ساتھ ملے ہوئے چاروں دانتوں کو رُبَاعی ” اور قواطع ” کہتے ہیں ۔یعنی درمیان والے دو دانتوں کے ساتھ دائیں بائیں دو اوپر اور دو نیچے ۔قواطع ۔۔۔ یعنی کاٹنے والےپھر ان کے ساتھ ملے ہوئے چار دانت جو نوکدار ہوتے ہیں ان کو انیاب ” کہتے ہیں ۔انیاب کے ساتھ والے دائیں بائیں کے اوپر اور نیچے کے چار دانتوں کو ضواحک” کہتے ہیں ۔ضواحک ۔۔۔ ہنستے ہوئے ظاہر ہونے والی داڑھیںان کے ساتھ کی جو تین تین داڑھیں ہیں دائیں بائیں اور اوپر ، نیچے انہیں طواحن ” کہتے ہیں ۔طواحن ۔۔۔ غذا پیسنے والی ڈاڑھیں ۔ان کے بعد میں بالکل آخر میں ایک ایک ڈاڑھ جسے عام طور پر عقل ڈاڑھ کہتے ہیں ۔ عربی میں انہیں نواجذ ” کہتے ہیںان سب یعنی ضواحک ، طواحن اور نواجذ کو اضراس کہتے ہیں ۔ یعنی ڈاڑھیںیاد کرنے کے لئے کسی نے ان ناموں کو نظم میں بیان کر دیا ہےہے تعداد دانتوں کی کل تیس اور دوثنایا ہیں چار اور رباعی ہیں دو دوہے انیاب چار اور باقی رہے بیسکہ کہتے ہیں قرآء اضراس انہی کوضواحک ہیں چار اور طواحن ہیں بارہنواجذ بھی ہیں ان کے بازو میں دو دو۔[​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#14
  15. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedزبان کے حصےلسان یعنی زبان کے اوپر والے حصے یعنی جو تالو کی طرف ہوتا ہے اس کو ” ظَھْرِ لِسان ” کہتے ہیں ۔لسان کا نیچے والا حصہ جو نیچے جبڑے سے ملا ہوتا ہے اس کو ” بَطْنِ لسان” کہتے ہیںزبان کے اگلے حصہ یعنی نوک کو ” رأسِ لسان ” اس کے دونوں طرف کے تھوڑے تھوڑے حصے کو ” ناحیة اللسان ” کہتے ہیںاور زبان کے دونوں جانب کے کنارے کے بعد سے اخیر تک کے سارے حصے کو “حافۂ لسان ” کہتے ہیں یعنی زبان کی کروٹ ۔اسی کروٹ کا وہ حصہ جو حلق کی طرف ہے اور ڈاڑھوں کے مقابل ہے اس کو اقصائے حافہ اور جو اگلا حصہ نوک کی طرف ہے اسے ادنائے حافہ کہتے ہیں ۔اور دونوں قسم کے حافات میں سے دائیں طرف والے حافہ کو “حافۂ یمنی” اور بائیں طرف والے کو “حافۂ یُسرٰی” کہتے ہیں ۔اور زبان کا وہ آخری حصہ جو حلق کی طرف ہے اس کو ” اقصائے لسان ” کہتے ہیںظہر لسان کے درمیان والے حصہ کو وسط لسان کہتے ہیں ۔خوب سمجھ لو اور یاد رکھو ۔
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#15
  16. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed*مخرج نمبر ~~~8**ضاد کا ہے*حافۂ لسان۔ یعنی زبان کی کروٹ دائیں یا بائیں اضراسِ عُلیا یعنی اوپر والی ڈاڑھ کی جڑ سے لگائیں تو ” ضاد ” ادا ہوتا ہےاور بائیں طرف سے ادا کرنا آسان ہے اور دونوں طرف سے ایک وقت نکالنا بھی صحیح ہے لیکن بہت مشکل ہے ۔اس کو ” حافیہ ” کہتے ہیںضاد” کی ادائیگی میں اکثر لوگ بہت غلطی کرتے ہیں ۔ اس لئے کسی ماہر قاری سے اس کی مشق کرنا ضروری ہے ۔ضاد” حرف “دال” پُر یا باریک کے مشابہ نہیں ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں پڑھنا چاہئیے ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔
    اور نہ ہی خالی ظا” کی طرح پڑھا جاتا ہے ۔ اگر ضاد” کو اس کے صحیح مخرج سے صحیح طور پر نرمی کے ساتھ آواز کو جاری رکھ کر اور تمام صفات کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کریں تو اس کی آوازسننے میں “ظا کی آواز سے بہت زیادہ مشابہ ہوتی ہے ۔ دال کے مشابہ بالکل نہیں ہوتی ۔ تجوید و قراءت کی کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہے ۔*مخرج معلوم کرنے کا طریقہ*یہ ہے کہ *ضاد” کو ساکن کر کے اس سے پہلے ھمزہ متحرک لگا دیں ۔” آضْ ” ۔ ادا کریں تو ” ضاد کا مخرج معلوم ہو جائے گا ۔ کہ زبان کا کنارہ اوپر والی ڈاڑھوں کی جڑ کو لگےثقیلُ الصَّوت ۔۔۔ مشکل آواز
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#16
  17. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~9لام کا ہےزبان کا کنارہ مع کچھ حافہ ( یعنی زبان کی کروٹ ) جب ثنایا اور رباعی اور انیاب اور ضواحک کے مسوڑھوں سے کسی قدر تالو کی طرف مائل ہو کر ٹکر کھائے تو لام ادا ہوتا ہے ۔
    خواہ منہ کے دائیں طرف سے یا پھر بائیں طرف سے اور دائیں طرف سے ادا کرنا آسان ہے ۔
    اور دونوں طرف سے ایک دفعہ نکالنا بھی صحیح ہے
    لام کا مخرج وسیع ترین ہے ۔ اور کسی قدر تالو کی طرف۔ مائل ہونے کا مطلب ہے کہ لام ” کا مخرج مسوڑھوں کا وہ حصہ ہے جو کچھ اوپر تالو کی جانب ہے نہ کہ وہ حصہ جو دانتوں کی جانب ہے ۔
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#17
  18. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر~~~10نون ” کا ہےزبان کا کنارہ مع کچھ حصہ حافہ جب ثنایا رباعی اور انیاب کے مسوڑھوں سے کسی قدر تالو کی طرف مائل ہو کر ٹکر کھائے تو نون ” ادا ہوتا ہے ۔
    لام” اور نون” کے مخرج میں دو فرق ہیںاول یہ کہ ۔۔۔ لام ” میں چار دانتوں کے مسوڑھوں کا دخل ہے ۔ اور ” نون میں تین دانتوں کے مسوڑھوں کا ۔۔ پس نون ” میں ضواحک کے مسوڑھوں کا دخل نہیں ۔دوم یہ کہ ۔۔۔ نون” میں زبان دانتوں کی جڑ کی طرف والے مسوڑھوں سے لگتی ہے اور لام ” میں زبان تالو کی جانب والے مسوڑھوں سےآلْ ۔۔۔ آَنْ
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#18
  19. عرفان سعیدمحفلینمراسلے:6,702جھنڈا:Finlandموڈ:Mellowمعلومات کا بہت شکریہ!
    دوسری صدی ہجری کے نصف میں اس علم کا آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ اگر علم میں ہو تو ضرور بتائیے گا۔ مصر میں قرأت کے علم کو منتہائے کمال پر پہنچا دیا گیا، اس سے میرا غالب گمان ہے کہ اس کا آغاز مصر سے ہوا تھا۔ آپ کے پاس زیادہ صحیح معلومات ہوں تو ضرور مہیا کریں۔مزید یہ دریافت کرنا چاہوں گا کہ جیسا کہ آپ نے بتایا:
    ام اویس نے کہا: ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری ہجری صدی کے نصف سے ہوا۔اس کے بعد ذیل میں فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کے احکامات فقہا کے اخذ کردہ ہیں۔ قرآن و سنت میں براہ راست کوئی تصریح اس معاملے میں نہیں ہے؟
    ام اویس نے کہا: علم التجوید سیکھنے کا حکم

    علم التجوید سیکھنا جس سے حروف کی درست ادائیگی ہو ۔ اور قرآن مجید کے معنی نہ بدلیں فرض عین ہے ۔ اور اس سے زیادہ علم قراءت و تجوید فرض کفایہ ہے ۔

    پس قرآن مجید کے حروف کا اس حد تک صحیح پڑھنا کہ اس سے حروف میں کمی زیادتی ، تبدیلی اور اعراب کی غلطی پیدا نہ ہو اور قرآن مجید کے معنی نہ بگڑیں ۔ ہر حرف دوسرے سے الگ نمایاں ، مستقل معلوم ہو ہر مسلمان پر فرض عین ہے ۔

    مرد ہو خواہ عورت ہو ، عربی ہو یا عجمی ہو ۔ سفید ہو سرخ ہو یا گندمی ۔ نماز کے اندر ہو یا باہر ۔ حفظ پڑھے یا ناظرہ ۔ تھوڑا پڑھے یا زیادہ ۔ جلدی جلدی حدر سے پڑھے یا ٹہراؤ سےیا درمیانہ رفتار سے ۔ مجمع میں پڑھے یا اکیلا ۔ بہر صورت ہر وقت ہر حال میں اس حد تک قرآن مجید کا صحیح پڑھنا ہر عاقل و بالغ کے لئے فرضِ عین ہے ۔ اور غیر صحیح طریقہ پر تلاوت کرنے والا مرتکبِ حرام اور گناہ گار ہے ۔ اور اس کی ضرورت اور فرضیت کا انکار کرنے والا سخت گنہگار ہے ۔

    اس سے زیادہ اس علم کے قاعدوں کو یاد کرنا فرضِ کفایہ ہے ۔ کہ اڑتالیس میل کی حد کے اندر ایک ماہر تجوید و فن و عالِم فن قارئ قرآن کا ہونا ضروری ہے ورنہ سب کے سب گنہگار ہوں گے ۔مزید نمائش کے لیے کلک کریں۔۔۔عرفان سعید‏فروری 1, 2019#19
  20. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~ 11را ” کا ہے ۔یعنی زبان کی نوک اور اس کا کنارہ اور صرف دو دانتوں ( ثنایا اور رباعی ) اور اس کے مسوڑھوں کا وہ حصہ جو تالو اور جڑ کے درمیان یعنی دانتوں کی جڑوں سے کسی قدر اوپر ہے اور پشت زبان کا سرا اور تالو ۔۔
    ان حصوں کے آپس میں ملنے سے را”۔ پُر اور باریک ادا ہوتی ہے ۔
    را” پُر میں زیادہ ٹکاؤ پشت زبان کے سرے پر
    اور را” باریک میں زیادہ اعتماد نوک زبان پر ہوتا ہے ۔
    اور را” کا مخرج نون ” کے مخرج کے قریب ہے ۔ مگر اس میں پشت زبان بھی شامل ہے ۔
    نون” اور را ” کے مخرج میں تین فرق ہیں ۔
    اول ۔۔۔ نون میں تین دانتوں کے مسوڑھوں کا دخل ہے ۔ جبکہ را” میںفقط دو دانتوں کے مسوڑھے ہیں ۔
    دوم ۔۔۔ نون” میں زبان زبان دانتوں کی جڑ کی طرف والے مسوڑھوں سے لگتی ہے ۔ اور را” میں زبان مسوڑھوں کے اس حصہ سے لگتی ہے جو لام” اور نون ” دونوں کے مخارج ( تالو اور جڑ کی طرف والے دو حصوں ) کے درمیان ہے ۔
    سوم ۔۔۔ یہ کہ را” میں پشت زبان کا سرا اور اس کے بالمقابل تالو کا بھی دخل ہے ۔ اور نون میں ان دونوں کا دخل نہیں ۔
    خوب سمجھ لو ۔۔
    ان تینوں یعنی۔ “لام “۔ نون ” را” کو ” طرفیہ ” اور “ذلقیہ ” کہتے ہیں
    یعنی زبان کی تیز نوک سے ادا ہونے والے حروف
    [​IMG]
  1. مخرج نمبر ~~~ 12
    طا”۔۔۔۔ دال” ۔۔۔ تا” ۔۔۔ کا ہے ۔زبان کی نوک جب ثنایا علیا ( اوپر والے دو دانت ) کی جڑ کو لگے تو یہ حروف ادا ہوتے ہیں” آطْ ۔۔۔ آَدْ ۔۔۔ آَتْ
    ان تینوں حروف کو ” نطعیہ ” کہتے ہیں
    اس لئے کہ یہ نطع ( کُھردری جگہ ) کے پاس سے اداہوتے ہیں۔
    نطع ” تالو کی غار ( چھت ) اور مسوڑھوں کے درمیان وہ کھردری جگہ اور کھال ہے جس میں چٹائی جیسی لکیریں ہیں ۔اور یہ جگہ انگلی سے محسوس ہو سکتی ہے ۔
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#21
  2. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر~~~13ظا ۔۔۔ ذال ۔۔۔ ثا ۔۔۔ کا ہےزبان کی نوک جب ثنایا علیا ( اوپر والے دو دانت ) کی نوک سے لگے تو یہ حروف ادا ہوتے ہیں ۔آظْ ۔۔۔ آَ ذْ ۔۔۔ آَثْان تینوں حروف کو ” لِثویہ ” کہتے ہیں ۔”لِثہ ” کےمعنی مسوڑھے کے ہیں ۔چنانچہ ” لِثویہ” مسوڑھوں کے پاس والے اندرونی کنارے سے نکلنے والے حروف ہیں ۔ نہ کہ اس نیچے والی نوک سے جو مسوڑھوں سے دور ہے
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#22
  3. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ۔ 14صاد ۔۔۔ زا ۔۔۔ سین ۔۔۔ کا ہےزبان کا سرا ثنایا سفلی ( نیچے والے دو دانت ) کا کنارہ مع کچھ اتصال ثنایا علیا ( اوپر والے دو دانت ) کے ہے
    ان کو حروف ” صفیر ” کہتے ہیںیاد رکھو یہاں اتصال سےمراد ثنایا علیا کا زبان کے سرے سے تعلق و اتصال مراد نہیں ہے ۔ بلکہ ثنایا علیا کا ثنایا سفلی سے قُرب و اتصال مراد ہے ۔
    پس ان حروف کو ادا کرتے وقت زبان کی نوک کو صرف نیچے کے اگلے دو دانتوں کے کنارے سے لگانا چاہئیے اس طرح کہ اوپر کے دو دانتوں سے جدا رہے ۔ کیونکہ اگر زبان کی نوک اوپر کے دو دانتوں سے لگ جائے گی تو حروف اپنی اصلی صفت کے ساتھ ادا نہ ہو سکیں گے ۔صفیرمرغ یعنی چڑیا کی آواز کو کہتے ہیں ۔ چونکہ ان حروف کی آواز مشابہ اس آواز کے ہوتی ہے ۔ اس لئے ان کو حروف صفیر ” کہتے ہیں
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#23
  4. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~ 15فا” کا ہے ۔ثنایا علیا کے کنارے جب نیچے کے ہونٹ کا شکم سے لگیں تو فا” ادا ہوتا ہے ۔اور یاد رکھو فا” کے ادا کرتے وقت نیچے کے ہونٹ کے اندرونی نرم و باطنی حصہ کو ثنایا علیا کی نچلی نوکوں سے نہایت سہولت اور نرمی سے لگاؤ ۔ نہ کہ اس قدر سختی اور زور کے ساتھ کہ فا” کی آواز کے ساتھ ایک۔ پھوکار سی نکلے جس سے گال بھی ہل جائیں ۔
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#24
  5. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedمخرج نمبر ~~~ 16دونوں ہونٹ ہیں ۔ اور ان سے یہ حروف ادا ہوتے ہیں ۔با” ۔۔۔ میم ” ۔۔۔ اور واؤ ” جبکہ مدہ نہ ہو ۔یعنی واؤ متحرک” اور واؤ لین ” ۔ان تینوں میں فرق یہ ہے کہ ۔۔۔ با” دونوں ہونٹوں کے اندرونی تر حصہ کو قوت سے اور پوری طرح ملانے اور بند کرنے سے نکلتی ہے ۔ اس لئے اس کو بحری ” کہتے ہیں یعنی تری ” والیاور میم ” دونوں لبوں کے بیرونی تر حصے کو جو خشکی والے حصہ سے ملا ہوا ہے کسی قدر نرمی سے پوری طرح بند کرنے سے ادا ہوتی ہے ۔ اسی لئے اس کو برّی ” کہتے ہیں ۔یعنی خشکی کے پاس والے تر حصہ سے ادا ہونے والی نہ کہ میم ” خود خشک حصہ سے ادا ہوتی ہے کیونکہ یہ خلاف ادا ہے ۔۔۔ خوب اچھی طرح سمجھ لواور واؤ” دونوں ہونٹوں کو گول کر کے ناتمام ملنے سے نکلتا ہے ۔پس واؤ” انضمام شفتین سے اور با” اور میم ” انطباق شفتین سے ادا ہوتے ہیں ۔فا” ۔۔۔ با” ۔۔ میم” ۔۔۔ واؤ “کو حروف شفویہ” کہتے ہیں کیونکہ یہ شف” ( ہونٹ ) سے ادا ہوتے ہیں ۔
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#25
  6. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed[​IMG] مخرج نمبر~~~ 17خیشومیعنی ناک کا بانسہ ۔۔۔اس سے غنّہ نکلتا ہے ۔یعنی اخفا والا نون” ساکن اور نون” تنوین ۔۔۔ام اویس‏فروری 1, 2019#26
  7. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedنقشہ مخارج الحروف
    [​IMG]ام اویس‏فروری 1, 2019#27
  8. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed*حروف کی صفات*صفات صفت کی جمع ہے ۔ اور صفت کا مطلب ہے حرف کی وہ کیفیت اور حالت جو مخرج سے ادا ہوتے وقت اس میں موجود ہوتی ہے ۔ جیسے کہ آواز کا اونچا یا نیچا ہونا ، سخت یا نرم ہونا ، پُر یا باریک ہونا ، غنہ وغیرہ ہونا ۔حروف میں صفات دو طرح کی ہوتی ہیں ۔1. صفات لازمہ2. صفاتِ عارضہ*صفاتِ لازمہ*حروف کی وہ صفات جو اگر ادا نہ ہوں تو حرف حرف ہی نہ رہے گا ۔ ان کو حروف کی ذاتی اور لازمی صفات کہتے ہیں ۔ اور یہ صفات لازمہ ، ممیزہ اور مقومہ کہلاتی ہیں ۔ یعنی ایک حرف کو دوسرے سے الگ کرنے والی اور اس کی ذات کو قائم کرنے والی ۔
    یہ صفات ہر حرف کے ساتھ لازم ہیں ۔ خواہ وہ ساکن ہو یا متحرک ، موقوف ہو یا موصول کسی حال میں اس سے جُدا نہیں ہوتیں ۔اگریہ صفات ادا نہ کی جائیں تو حرف بگڑ جائے گا ۔ یا تو وہ وہی حرف نہ رہے گا ۔ یا پھر اس میں کچھ کمی یا زیادتی ہو جائے گی ۔صفاتِ لازمہ کُل سترہ ہیں اور دو قسم کی ہیں ۔ایک وہ جن کے مقابل بھی ایک صفت ہے اور اس کا نام بھی ہے ۔ انہیں صفات لازمہ متضادہ کہتے ہیں ۔ یہ دس ہیں جس سے پانچ جوڑے بنتے ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک دوسری صفت کی متضاد ہے ۔اور دوسری قسم صفات لازمہ غیر متضادہ ہیں جو کہ سات ہیں ۔ اور ان کے متضاد صفات موجود نہیں ہیں ۔ام اویس‏فروری 1, 2019#28
  9. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedصفات لازمہ متضادہپہلا جوڑا ۔-1۔ ہمس -2 جہرہمسایسے حروف کی ادائیگی میں آواز کمزور ، پست اور کم ہوتی ہے اور سانس مخرج میں دیر تک ٹہرا رہتا ہے
    ان حروف کو مہموسہ کہتے ہیں ۔ اور یہ دس حروف ہیں ۔ جن کا مجموعہ یہ ہے ۔فَحَثَّه، شَخْصٌ سَكَتَجہرایسے حروف کی ادائیگی میں آواز بلند ، قوی اور زیادہ ہوتی ہے اور آواز میں ایک قسم کی بلندی کی وجہ سے سانس مخرج میں کم ٹہرتا ہے ۔
    ان حروف کو مجہورہ کہتے ہیں ۔ اور مہموسہ حروف کے علاوہ باقی سب حروف مجہورہ ہیں ۔مجموعہ ان حروف کا یہ ہے ۔عَظُمَ وَزْنُ قَارٍئٍ ذِىْ غَضٍ جَدٍ طَلَبٍہمس اور جہر ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ام اویس‏فروری 1, 2019#29
  10. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxed*دوسرا جوڑا ۔*3- شدّت -4 رخوت – توسط*شدّت*ان حروف کو ادا کرتے وقت ان کا تعلق مخرج سے اس قدر مضبوط ، سخت اور قوی ہو کہ آواز مخرج میں پوری قوت کے ساتھ ٹہر جائے ۔ اور کوشش کے باوجود دوبارہ جاری نہ ہو سکے ۔ سانس آہستہ ہو یا بلند آواز مکمل طور پر بند ہو اور رُک جائے ۔
    جن حروف میں یہ صفت پائی جائے ان کو حروفِ شدیدہ کہتے ہیں ۔ اور ان کا مجموعہ یہ ہے*اَجِدُکَ کَتَبْتُ**رخوت*رخوت کا لغوی معنیٰ ہے نرم و ملائم ہونا ۔
    جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہے ان میں آواز اپنے مخرج میں ایسی نرمی اور ملائمیت کے ساتھ ٹہرے کہ پورے مخرج میں پھیل جائے ، خوب جاری رہے ، بند نہ ہو اور اگر اس کو کھینچنا چاہیں تو لمبا بھی کر سکیں ۔ایسے حروف کو مجہورہ کہتے ہیں ۔مجہورہ حروف کا مجموعہ ہے ۔*خُذْ غَثَّ حَظٍ فُضَّ شَوْصٍ زِیَّ سَاہٍ*ہمس اور جہر کی طرح شدّت اور رخوت بھی ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ لیکن ان دونوں کے درمیان ایک اور صفت بھی ہے جسے توسط کہتے ہیں ۔*توسط*جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہے ان میں آواز اپنے مخرج میں نہ تو پوری طرح بند ہوتی ہے اور نہ پوری طرح جاری رہتی ہے ۔ یعنی آواز اپنے مخرج میں قدرے سخت اور قدرے نرم ہو کر اس طرح ٹہرے کہ کچھ جاری رہے اور کچھ بند ہو جائے ۔
    جن حروف میں یہ صفت پائی جاتی ہیں ان کو متوسطہ کہتے ہیں ۔حروف متوسطہ کا مجموعہ ہے ۔*لِنْ عُمَر*توسط الگ صفت شمار نہیں کی جاتی ۔ کیونکہ اس میں کچھ شدّت ہے اور کچھ رخوتایک شبہ ۔حروف “تا ” اور ” کاف ” میں صفت ہمس پائی جاتی ہے ۔ اور ان میں صفت شدّت بھی پائی جاتی ہے ۔ لیکن ان دونوں حروف میں شدّت قوی ہے اور ہمس ضعیف
    اسی لئے شدّت کی وجہ سے آواز بند ہوجائے گی اور ہمس ہونے کی وجہ سے سانس جاری رہے گا ۔ لیکن سانس کے جاری رہنے میں یہ احتیاط کرنی چاہئیے کہ اس دوران آواز جاری نہ ہو ۔ اگر آواز جاری ہو گی تو ان حروف میں صفت رخوت آجائے گی ۔ جبکہ ان کی صفت لازمہ ہمس ہے ۔
    چنانچہ “کاف اور “تا کی صفت یہ ہے کہ پہلے اس میں صفت شدّت ادا ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے آواز مخرج میں ٹہر جاتی ہے ۔
    پھر صفت ہمس کی ادائیگی کی وجہ سے سانس سمیت آواز میں نرمی اور پستی پیدا ہونے سے ہی دونوں حروف اپنی مکمل صفات سے ادا ہوتے ہیں ۔
    کچھ لوگ ان دونوں حروف کی صفت ہمس میں اس قدر زیادتی کرتے ہیں کہ سانس کے ساتھ آواز جاری ہونے سے ” ہا ” سے متشابہ ہو جاتی ہے ۔
    اور ک” کی بجائے ” کھ ” اور ت” کی بجائے ” تھ ” کی آواز بن جاتی ہے ۔ اور قرآن مجید میں ان حروف کی گنجائش نہیں ۔ اس غلطی سے بچنے کے لئے دونوں حرف کی ادائیگی میں احتیاط سے کام لینا چاہئیے ۔
    مثلا ۔۔۔ کَان ۔۔۔۔ کھان اَنْعَمْتَ ۔۔۔۔۔ اَنْعَمْتَھایّاکَ ۔۔۔۔ اِیّاکھَ اَلْمَوْتْ ۔۔۔۔ اَلْمَوتھام اویس‏فروری 1, 2019#30
  11. ام اویسمحفلینمراسلے:2,032جھنڈا:Pakistanموڈ:Relaxedدراصل یہ سب میری محنت ہے ۔ جی پلس پر کلیکشن بنائی تھی ۔ اور جی پلس ختم ہو رہا ہے بہت سی کلیکشنز بنائی ہوئی ہیں ۔
    ابھی میں ملک سے باہر ہوں سمجھ نہیں آرہی موبائل سے سب کچھ کہاں محفوظ کروں ۔
    فی الحال جتنا میرا اپنا کام ہے وہ یہاں شئیر کر رہی ہوں ۔
    ویسے تو جو دوسروں کی جو تحریریں شئیر کی تھیں وہ بھی زبردست تھیں ۔ لیکن خیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *