اصلاح معاشرہ: اخلاقی تصور اور اخلاقی حساسیت

 

اصلاح معاشرہ: اخلاقی تصور اور اخلاقی حساسیت

سید سعادت اللہ حسینی

گذشتہ شمارے میں اصلاحِ معاشرہ میں درپیش رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے چار اہم رکاوٹوں کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ان میں سے پہلی رکاوٹ ‘معاشرے میں در آئی غلط سوچ’ کو قرار دیا گیا تھا، یعنی مصلح جس چیز کو برائی سمجھ رہا ہے، معاشرہ اسے سرے سے برائی ہی نہیں سمجھتا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اُس برائی کا ازالہ مشکل ہوجاتا ہے۔ اِس مضمون میں اسی صورت حال کے ایک اہم پہلو کو قدرے تفصیل سے زیر بحث لایا جائے گا۔

مذکورہ صورت حال کے دو درجے ہیں۔ ایک درجہ تو یہ ہے کہ معاشرہ کسی برے عمل کو برا کہنے یا ماننے کے لیے ہی تیار نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں معلومات کی ترسیل اور معاشرے کی ذہن سازی کا کام مطلوب ہوتا ہے۔ یعنی دلائل کے ساتھ یہ بات عام کی جائے کہ یہ برا کام ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔ اس پر کچھ باتیں ہم گذشتہ شمارے میں لکھ چکے ہیں۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ برائی کو برائی تو مانا جاتا ہے لیکن اس کے برے ہونے کے سلسلے میں حساسیت (sensitivity) موجود نہیں ہوتی۔ اسے برا سمجھنے کے باجود، اس کے ارتکاب میں کوئی تکلف آڑے آتا ہے اور نہ ہی کسی کو اس کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ کر کوئی بے چینی ہوتی ہے۔

اخلاقی حساسیت (ethical sensitivity)

 قریبی زمانے میں مشہور ماہر نفسیات و سماجیات جیمس ریسٹ (وفات ۱۹۹۹) نے اخلاق اور اخلاقی رویوں پر سماجی نفسیات کے اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے بعض اہم نظریات پیش کیے ہیں۔ اس نے اپنے بعض ہم عصروں کے ساتھ مل کر اخلاقی رویوں کے ارتقا کا ایک نفسیاتی ماڈل تجویز کیا، جو اس وقت ساری دنیا میں ایک اہم عملی ماڈل مانا جاتا ہے۔[1] ریسٹ کے مطابق اخلاقی رویہ تشکیل پانے کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں۔ اس میں اخلاقی قوتِ فیصلہ (ethical judgment)، اخلاقی ترغیب (ethical motivation) اور اخلاقی جرأت (ethical courage) کے ساتھ، سب سے پہلی بات جو اس نے تجویز کی ہے، وہ اخلاقی حساسیت (ethical sensitivity) ہے۔ یعنی کسی اخلاقی مسئلے کو جذبے اور لاشعور کی سطح پر اخلاقی مسئلہ محسوس کرنا اور اس کے سلسلے میں حساس ہونا۔

یہ حقیقت ہے کہ اخلاقی حساسیت کے بغیر کوئی اخلاقی رویہ تشکیل نہیں پاسکتا۔

اخلاقی حساسیت کے لیے صرف معلومات یا تصور کا درست ہونا کافی نہیں ہے۔ مسلم معاشرے کے اخلاقی تصورات میں نظریے کی سطح پر کسی بڑے بگاڑ کا آنا آسان نہیں ہے۔ اس لیے کہ اخلاقی اصولوں کا دائمی سرچشمہ قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ بعض اخلاقی تصورات سوچ اور نظریے کی سطح پر باقی رہیں، لیکن عملاً ان کے حوالے سے حساسیت ختم ہوجائے یا کم ہوجائے۔ مسلم معاشرے کے جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے اخلاقی معاملات میں اخلاقی حساسیت زوال پذیر ہوئی ہے اوریہ معاشرے کے بگاڑ کا ایک اہم سبب ہے۔

اسلام کا تصورِ اخلاق

اسلام اخلاق کا ایک ہمہ گیر تصور دیتا ہے اور اس کے لیے ایمان و عقیدے کی نہایت مستحکم اور پائیدار بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ سورہ نحل کی آیت إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا، احسان کا اور اہل قرابت سے صلہ رحمی کا اور روکتا ہے بےحیائی، برائی اور سرکشی سے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ آیت: ۹۰) کو کئی مفسرین اور اخلاقی فلسفیوں نے اسلام کے فلسفہ اخلاق کا خلاصہ قرار دیا ہے اور غالباً اسی لیے یہ آیت جمعہ و عیدین کے خطبوں میں سلف صالحین کے دور ہی سے پڑھی جاتی رہی ہے۔ اس میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ سب سے پہلا حکم عدل کا ہے جو اسلامی اخلاق کا اہم ترین عنوان ہے۔ عدل کا مطلب ہے ہر ایک کو وہ پورا حق دینا جس کا وہ مستحق ہے۔ دوسرا حکم احسان کا ہے، یعنی دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کی کوشش کرنا، دوسرو ں کے جذبات کا لحاظ رکھنا، خیر خواہی، حسن سلوک، مروت اور فیاضی کا معاملہ کرنا اور اس کے لیے ایثار و قربانی سے کام لینا۔ امام راغب اصفہانیؒ نے احسان کی تعریف کرتے ہوئے یہی بات لکھی ہے۔ والإحسان أن یعطي أکثر مما علیه و یأخذ أقل مما له. فالإحسان زائد علی العدل[2](احسان یہ ہے کہ جو کچھ اس پر واجب ہے اس سے زیادہ دے اور جو اس کا حق ہے اس سے کم لے۔ احسان عدل سے زیادہ ہے)۔ تیسرا حکم صلہ رحمی کا ہے۔ یعنی ضرورت مند قریبی رشتے داروں کا اپنے مال اور اپنے دیگر وسائل میں حق تسلیم کرنا اور ان کی ضرورت کے موقع پر ان کے کام آنا۔ اس آیت کریمہ میں تین باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ فحش یعنی بے حیائی کی باتوں سے، منکرات یعنی ہر اس برائی سے جسے لوگ برا جانتے اور سمجھتے ہیں اور بغی سے، جو مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں “اپنی حد سے تجاوز کرنا اور دوسرے کے حقوق پر دست درازی کرنا”[3]ہے ۔

اس آیت میں اسلامی اخلاق کا جو جامع تعارف کرایا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی اخلاق کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔ حقوق کی ادائیگی اس کا نمایاں ترین اظہار ہے۔ اسی کا نام عدل ہے۔ حقوق کی تفصیل قرآن وحدیث میں آئی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا، والدین کا، عزیز و اقارب کا، پڑوسیوں کا، دوسرے مسلمانوں کا، دیگر تمام انسانوں کا، اور پھر چرند پرند اور دیگر مخلوقات کا، سب کا حق انسان پر ہے۔ خود اس کے نفس کا حق ہے۔ بچوں اور آنے والی نسلوں کے بھی حقوق ہیں۔ ان سارے حقوق کو بالکل درست ادا کرنا عدل ہے جب کہ حقوق کی ادائیگی کے معاملے میں فیاضی کا رویہ اختیار کرنا احسان ہے۔

متعدد نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی احکام کا وہ حصہ جس کا تعلق انسان اور انسان کے مابین معاملات سے ہے، وہ شارع کے نزدیک خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مشہور حدیث ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے ایک ایسی عورت کا ذکر ہوا جو نفل نماز و روزہ اور صدقات کا خوب اہتمام کرتی تھی، لیکن پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: هي في النار (وہ جہنم میں ہے) اس کے مقابلے میں ایک اور عورت جو نفل نماز و روزہ اور صدقے تو زیادہ نہیں کرتی تھی، لیکن پڑوسیوں کو تکلیف نہیں دیتی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا هي في الجنة (وہ جنت میں ہے)۔[4] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں) [5] ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ (وہ شخص مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پروسی محفوظ نہ ہو)[6] اذیت رسانی کے سلسلے میں اسلامی اخلاق اس قدر حساس ہیں کہ اس معاملے میں کسی بے احتیاطی یا غیر ذمے دارانہ روش کو بھی روا نہیں رکھا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک بہت ہی چونکا دینے والا فرمان کتب احادیث میں نقل ہوا ہے کہ من تطبَّبَ ولم يُعلمْ منهُ طبٌّ فهوَ ضامِنٌ (جو کسی کا علاج کرے حالانکہ اسے طبیب کے طور پر نہ جانا جاتا ہو[ یعنی وہ باقاعدہ معالج نہ ہو] تو [موت یا مرض کے بڑھنے کی صورت میں] وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔)[7]

 اس طرح ایذا رسانی سے گریز اور اس کے مقابلے میں فیض رسانی، یہ اسلامی اخلاق کا خلاصہ ہے۔ ایفائے عہد پر تو قرآن و حدیث میں اتنا زور ہے کہ یہ اسلامی اخلاق کا نہایت اہم عنوان قرار پاتا ہے۔ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔الاسراء ۳۴) آپ ﷺ نے یہ اعلان بھی فرمایا کہ لا إيمانَ لِمَن لا أمانةَ له، ولا دِينَ لِمن لا عهدَ له (جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس مین عہد کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں)[8]

 یہاں اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں ہے، بس چند مثالیں بیان کی گئی ہیں، جن سے آگے کی بحث کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اخلاقی حساسیت کا زوال

اسلام کے اخلاقی تصور کی اس جامعیت، ہمہ گیری اور بلندی کو سامنے رکھ کر جب ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو اخلاقی حساسیت کا بحران، ایک بڑے بحران کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے اخلاقی نظریات تو بعض مستثنیات کے ساتھ اسلام کے اس عظیم تصور سے ہم آہنگ ہیں، لیکن اس کی اخلاقی حساسیت گھٹ کر چند امور تک سمٹ گئی ہے۔ مثال کے طور پر مسلم معاشرہ جنسی اخلاق کے معاملے میں آج بھی بے حد حساس ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ معاشرے میں کچھ افراد سے برائیوں کا صدور ہو لیکن معاشرہ ایسی برائیوں کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ کسی کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ کسی فحش کام کا مرتکب ہوا ہے تو معاشرے میں وہ نہایت ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔ ہم جنس پرستی کی کھلے عام حمایت مسلم معاشرے میں ممکن نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے خوش حال شہری معاشروں میں اب لیو ان ریلیشن شپ، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ، ہم جنس خاندان وغیرہ جیسی لعنتوں کا فروغ عام ہوگیا ہے، لیکن مسلم معاشرہ ان سے محفوظ ہے۔ جنسی جرائم تو دور کی بات ہے، فحش نگاری، غیر ساتر لباس، مرد و زن کا آزادانہ اختلاط وغیرہ جیسی باتیں بھی کم سے کم دین دار مسلمانوں کے درمیان قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ الحمد للہ مسلم معاشرے کی ایک نمایاں خوبی ہے۔ اس معاملے میں غالباً ہم عام ملکی معاشرے سے بھی زیادہ بااخلاق ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمان خاندان آج خاندانی زوال کی اُس عالمی وبا سے محٖفوظ ہیں جس نے ہر جگہ خاندان اور خاندانی قدروں کو بری طرح روند کر رکھ دیا ہے۔

یہی حساسیت کھانے پینے اور لباس وغیرہ سے متعلق اسلامی تعلیمات کے سلسلے میں بھی ہے۔ دین اور دینی تعلیمات سے بیگانہ مسلمان بھی حرام جانوروں کا گوشت نہیں کھاتے بلکہ حلال ذبیحہ کے سلسلے میں بھی حساس ہوتے ہیں۔ شراب نوشی اور منشیات سے عام طور پر معاشرہ نفرت کرتا ہے اور ان کے سلسلے میں حساس ہوتا ہے۔ان معاملات میں بھی مسلم معاشرے دیگر معاصر معاشروں سے ممتاز ہیں۔

دوسرے درجے میں حساسیت مالیاتی اخلاق کے بعض امور کے سلسلے میں ہے۔ چوری، رشوت خوری، غبن جیسی برائیوں کا ارتکاب تو ہوتا ہے لیکن معاشرہ ان کے معاملے میں حساس ہے۔ اگر کسی کے غبن یا رشوت خوری کی اطلاع سوسائٹی کو ہوجائے تو وہ سوسائٹی میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ والدین سے بدسلوکی کرنے والا بھی معاشرے کے غیظ و غضب کا نشانہ بنتا ہے۔

یہ سب یقینًا اچھے پہلو ہیں۔ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اخلاقی حساسیت اِن چند باتوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ جنسی، غذائی اور مالیاتی اخلاق سے ہٹ کر اخلاقیات کے دیگر شعبے بری طرح بے حسی کا شکار ہیں۔ دیگر معاملات میں اسلام کی تعلیمات سب کو معلوم ہیں۔ عام طور پر ان تعلیمات کے سلسلے میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔ ان پر خطبات اور مواعظ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن اس کے باوجود معاشرے میں ان امور کے سلسلے میں کوئی حساسیت نہیں پائی جاتی۔ علم اور شعور کی سطح پر اُن کے سلسلے میں اسلام کی اخلاقی تعلیمات کو تسلیم تو کیا جاتا ہے، لیکن لاشعور کی سطح پر انہیں اخلاقی مسئلے کے طور پر محسوس نہیں کیا جاتا۔

مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب ‘ آداب معاشرت’ [9] میں بعض اُن نہایت اہم اخلاقی تعلیمات کی تفصیل بیان کی ہے جن کو مسلم معاشرہ بھول چکا ہے یا مولانا کے الفاظ میں جنھیں عوام، علمائے ظاہر اور مشائخ تینوں طبقات میں سے اکثر نے “اعتقاداً دین سے خارج اور بے تعلق قرار دے رکھا ہے” اور”علماً و عملاً یہ جز بالکلیہ نسیاً منسیاً ہوچلا ہے”۔[10]

مثال کے طور پر ایفائے عہد کو جو اہمیت اسلام نے دی ہے، اُس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔ ہر مسلمان کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس نے جہاں جہاں بھی عہد و پیمان کیے ہیں، اُن کی سختی سے پابندی کرے۔ تجارتی معاہدے، ملازمت کے کنٹریکٹ، تنظیموں کی رکنیت، حکومتوں اور حکومتی اداروں کے ساتھ مختلف معاملات، یہ سب معاہدے ہی ہیں، جن پر باقاعدہ دستخط کیے جاتے ہیں اور جن کی پابندی کا عہد کیا جاتا ہے۔ لیکن معاشرے میں عام طور سے یہ احساس مفقود ہے کہ ان معاہدوں کی خلاف ورزی کوئی بڑا اخلاقی جرم ہے۔ گھر کی تعمیر کے وقت پڑوسی کی یا سرکار کی زمین میں دراندازی اب عام ہوچکی ہے۔ عوامی وسائل کے استعمال میں خیانت کی بعض صورتیں تو دینی حلقوں میں بھی خاصی عام ہوچکی ہیں اور ان کے سلسلے میں اخلاقی حساسیت مفقود ہے۔ گندگی پھیلانے کو اخلاقی عیب اب مسجدوں کے اندر بھی نہیں سمجھا جاتا۔ سڑکوں پر تھوکنا، کچرا پھینکنا یا اپنے رویے سے پڑوسی یا ساتھ بیٹھنے والے کے لیے اذیت کا باعث بننا، وقت کی پابندی نہ کرنا، تاخیر کرکے دوسرے لوگوں کو انتظار کی زحمت دینا اور ان کا وقت ضائع کرنا وغیرہ کا بھی یہی حال ہے۔ ان سب باتوں پر تقریریں ہوتی ہیں لیکن کوئی بھی انہیں سنگین اخلاقی عیب نہیں سمجھتا۔ بلند آواز لاؤڈ اسپیکر پر پروگراموں کی بھرمار، جلسوں کے لیے راستوں کو روک کر ٹریفک کی دشواری پیدا کردینا اور قربانی کے بعد خون و غلاظت کا ہر طرف پڑا ہونا، اس طرح کے غیر اخلاقی اعمال تو دین کے حوالے سے انجام پاتے ہیں اور ہمارے نزدیک آج بھی محض سیاسی یا فرقہ وارانہ تعلق کا مسئلہ ہیں۔ بلکہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو انہیں دینی و ملی حمیت کے مظاہر سمجھنے لگتے ہیں۔ اس پر اعتراض کیا جائے تو غیر مسلموں کے مماثل غیر اخلاقی رویوں کے ذریعہ ان رویوں کی توجیہ کی جاتی ہے۔ یعنی ان مسائل کو دینی و اخلاقی مسائل نہیں محسوس کیا گیا۔ ماحولیاتی اخلاق کے سلسلے میں تو شعور کی بھی کمی ہے۔

اخلاقی حساسیت کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ کسی اخلاقی مسئلے کو ہمارا ضمیر اخلاقی مسئلے کے طور پر قبول کرے۔ اسے علمی اصطلاح میں اخلاقی اکتشاف (ethics spot) کہتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ امور میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے سلسلے میں ہمارا اجتماعی شعور ابھی اخلاقی اکتشاف کا مرحلہ ہی طے نہیں کرپایا ہے۔ یعنی دین کی واضح تعلیمات کے علم و ادراک کے باوجود یہ مسائل اخلاقی مسائل کے طور پر ہمارے لاشعور میں جگہ نہیں بناسکے۔

اخلاقی حساسیت کی ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ اخلاقی اثر کی شدت (moral intensity)کو ہم محسوس کریں۔ انسانی شعور مختلف اخلاقی مسائل کو مختلف درجوں اور خانوں میں رکھتا ہے۔ جس مسئلے کو زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے اس کے سلسلے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ اسلامی شریعت نے اس معاملے کو ہمارے وجدان پر نہیں چھوڑا ہے۔ اوپر اسلام کا ایک اصول آچکا ہے کہ جو برائی لوگوں کے لیے اذیت کا سبب بنے وہ زیادہ بڑی برائی ہے۔ ہمارے فقہا نے مقاصد شریعت کی درجہ بندی کی ہے۔ جان کی حفاظت کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ کسی کی جان بچانے کے لیے نماز بھی توڑی جاسکتی ہے، روزہ افطار کیا جاسکتا ہے۔ جان کی حفاظت کی خاطر نامحرم کو دیکھنا بلکہ چھونا بھی ممنوع نہیں ہے۔ طبیب قابلِ ستر اعضا کو بھی ضرورتاً دیکھ سکتا ہے۔ لیکن کیا ہمارے معاشرے کی اخلاقی حس اسلام کے اس مزاج سے ہم آہنگ ہے؟

ایک نمایاں اور تازہ مثال کورونا کی حالیہ وبا ہے۔علمی و فکری اور فتوے کی سطح پر دنیا بھر کے علما اور دینی اداروں نے متفقہ طور پر یہی بات کہی کہ وبا کے دوران احتیاط لازم ہے۔ بے احتیاطی کے ذریعے اپنی اور دوسروں کی جانوں کے لیے خطرہ پیدا کرنا جائز نہیں۔ جان کی حفاظت شریعت کے مقاصد میں شامل ہے، اس لیے ایسا رویہ اپنانا درست نہیں جس کے ذریعہ وبا کے پھیلاؤ میں مدد ہوتی ہو۔ مساجد کے سلسلے میں بھی یہ بات بار بار آتی رہی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزلْنَا أَوْ فَلْيَعْتَزلْ مَسْجدَنَا [11](جس نے کچی پیاز یا لہسن کھایا ہے وہ ہم سے دور رہے (یا یہ کہا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے) یہ ممانعت اس لیے ہے کہ بدبو سے ساتھی نمازی کو تکلیف ہوسکتی ہے۔کیا اسلام کا یہ حساس اخلاقی مزاج، اس بات کا روادار ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی بے احتیاطی سے دوسروں کے لیے وبائی مرض کا خطرہ پیدا کردیں؟ سفر کرنے والے اور بہت سے دیگر لوگ تو کوارنٹین اور احتیاطوں سے متعلق حلف ناموں پر بھی دستخط کرتے رہے۔ لیکن ان سب کے باوجود، دین دار حلقوں میں بھی کئی جگہ یہ صورت حال ہے کہ اس مسئلے کو سرے سے اخلاقی مسئلہ ہی نہیں سمجھا گیا، زیادہ سے زیادہ احتیاط اور بے احتیاطی کا مسئلہ سمجھا گیا۔ ہر مسجد میں، ہر نماز میں ایسے متعدد دین دار مسلمان مل جائیں گے جو بغیر ماسک کے بلاتکلف نماز میں کھانس اور چھینک رہے ہیں۔ حالانکہ روزانہ اموات کی خبریں آتی رہیں۔ بہت سی قیمتی جانیں تلف ہوگئیں۔ ہزاروں خاندان قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے۔ ہزاروں افراد شدید بیماری کے نہایت اذیت ناک مرحلوں سے گزرے اور ہزاروں کو زندگی بھر کے روگ لاحق ہوگئے اور پوری دنیا طرح طرح کے مسائل کی شکار ہوئی، لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ اخلاقی حساسیت پیدا نہیں کرسکا۔ بے شک اس مسئلے کا ایک پہلو جہالت و ناخواندگی بھی ہے، جس کی وجہ سے مرض کے پھیلاؤ اور انفرادی احتیاطوں کے درمیان سائنسی تعلق کو کم پڑھے لکھے لوگ سمجھ نہیں پائے، لیکن تعلیم یافتہ لوگوں کے رویوں کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے؟

اس تازہ مثال سے اخلاقی حساسیت کے مسئلے کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اخلاقی حساسیت کے لیے صرف معلومات کافی نہیں ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی برائی کے بارے میں معلومات عام ہونے، اس کے برائی ہونے پر اتفاق رائے ہونے اور اس کے بارے میں قرآن و حدیث کی تعلیمات معلوم ہونے کے باوجود، معاشرے کے لاشعور میں وہ برائی اخلاقی عیب کے طور پر جگہ نہ بناسکے۔

وراثت کے سلسلے میں شرعی احکام سے لاپروائی، عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق کی ادائیگی سے غفلت، جہیز اور شادی بیاہ کی رسوم وغیرہ جیسی برائیوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ عدم حساسیت سے غذا پاتی ہیں۔

گذشتہ دنوں مسلم معاشرے کی اخلاقی صورت حال کے بارے میں دو بڑے اہم مطالعات سامنے آئے۔ ایک اسٹڈی جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو پروفیسر، شہرزادہ ایس رحمٰن اور حسین عسکری نے کی[12]۔ یہ مقالہ گلوبل اکنامک جرنل میں شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے قرآن کی بعض اخلاقی تعلیمات کو لے کر اشارہ اسلامیت(Islamicity index) تشکیل دیا اور اعداد و شمار اور حقائق کو بنیاد بناکر ۲۰۸ ملکوں کا جائزہ لیا۔ اس جائزے کے مطابق اسلام کی ان اخلاقی تعلیمات پر سب سے زیادہ عمل جس ملک میں ہوتا ہے وہ یورپی ملک آئر لینڈ ہے۔ اس کے بعد ڈنمارک، لکسمبرگ، سویڈن، نیوزی لینڈ، سنگاپور وغیرہ ہیں۔ پہلا اسلامی ملک جو اس رینکنگ میں جگہ بناسکا وہ ۳۳ ویں نمبر پر ملیشیا ہے۔ سعودی عرب ۹۱ ویں مقام پر جب کہ ساری بڑی مسلم آبادیاں ۱۰۰ کے بعد، انڈونیشیا (۱۰۴) پاکستان (۱۴۱) بنگلہ دیش (۱۴۵) ہیں۔

دوسری اسٹڈی ہمارے ہی ملک میں ڈاکٹر جاوید جمیل نے کی۔[13] انھوں نے مختلف اعداد و شمار کے ساتھ مسلم معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا دوسرے معاشروں سے موازنہ کیا اور ایک بڑی اہم کتاب Muslims Most Civilised, Not Yet Enough لکھی۔ اس میں انھوں نے مختلف اعداد و شمار کے حوالوں سے بعض اخلاقی کیفیتوں کا جائزہ لیا اور ثابت کیا کہ دنیا میں سب سے بااخلاق اور مہذب معاشرے مسلمان معاشرے ہیں۔

ان دونوں مطالعات پر کئی پہلوؤں سے تنقیدیں بھی ہوئی ہیں۔عسکری اور شہرزادہ نے جن باتوں کو قرآنی اخلاقیات کے طور پر لیا ہے وہ بھی بحث طلب ہیں۔ لیکن ان سے ایک سرسری جائزہ ضرور ہمارے سامنے آتا ہے۔ بظاہر دونوں کے نتائج ایک دوسرے سے متصادم ہیں، لیکن غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اصل فرق اُن اخلاقی اوصاف کا ہے جن پر دونوں نے اپنے اپنے تجزیوں کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر جاوید جمیل نے زیادہ تر جنسی اور خاندان سے متعلق اخلاقی امور پر توجہ دی ہے۔ چناں چہ جنسی حملے، عصمت دری، اسقاط حمل، قحبہ گری، پورنو گرافی، عورتوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ناجائز بچے، شراب اور منشیات جیسے مسائل کو اپنی اسٹڈی کا مرکز بنایا ہے۔ ان پہلوؤں سے، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، مسلمان معاشرہ اخلاقی حساسیت رکھتا ہے۔

جب کہ عسکری اور شہر زادہ کی اسٹڈی میں زیادہ تر معاشی اور معاملات سے متعلق اخلاق کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جس میں شفافیت، تجارتی معاہدوں کی پابندی، ملازمین کے ساتھ بہتر سلوک، معاشی عدل، و غیرہ جیسے امور شامل ہیں۔ یہ ان معاملات میں شامل ہے جن کے سلسلے میں حساسیت کا فقدان ہے۔

یہ مطالعات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اخلاقی حساسیت ہمارا ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔ جن امور پر سماج حساس ہے ان کے سلسلے میں اخلاقی حالت اچھی ہے اور جہاں حساسیت کی کمی ہے وہاں اخلاقی گراوٹ ہے۔

اخلاقی حساسیت نہ ہونے کے اسباب

کسی اخلاقی مسئلے کے سلسلے میں معاشرے میں حساسیت کیوں ختم ہوتی ہے؟ اس سوال کے متعدد جواب ہوسکتے ہیں۔ کچھ اہم اسباب کی ذیل کی سطروں میں نشان دہی کی جارہی ہے۔

۱۔اخلاقی نقطہ کور (moral blindspot)

بعض اخلاقی مسائل کے سلسلےمیں حساسیت اس لیے نہیں ہوتی کہ سماج میں اُس مسئلے کی موجودگی نظر نہیں آتی یا ارباب حل و عقد اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ بعض اوقات یہ ہوتی ہے کہ مسئلہ اتنا تکلیف دہ اور درد ناک ہوتا ہے کہ اس سے اغماض ہی میں عافیت محسوس ہوتی ہے اور ہم شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپالیتے ہیں۔ بسا اوقات سیاسی اسباب مسئلے کی موجودگی کے اعتراف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ موجودہ حالات میں تین طلاق اور حلالہ جیسے مسائل کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ان مسائل کے ساتھ جو گندی سیاست وابستہ ہوگئی ہے اس کی وجہ سے بعض مسلمان سرے سے اس مسئلے کی موجودگی ہی کے منکر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی تین طلاق دیتا ہے اور نہ حلالہ کراتا ہے۔ حالانکہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔

۲۔اصلاح کی زبان

 اخلاقی حساسیت کو کم کرنے میں دین داری کے اُس روایتی تصور اور روایت پرست علما کی اُس روش کا بھی بڑا رول ہوتا ہے جس کے تحت مچھر چھانے جاتے ہیں اور اونٹ نگلے جاتے ہیں۔ مثلاً اخلاقیات کی روح کے بجائے محض مظاہر پر غیر متوازن اصرار کے نتیجے میں بہت سے اخلاقی محاسن بری طرح دب جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں مصلحین کا بڑا زور اس بات پر ہوتا تھا کہ ٹی وی نہ دیکھا جائے یا گھر میں ٹی وی نہ رکھا جائے۔ ظاہر ہے کہ اصل اخلاقی عیب وقت کا ضیاع اور فحش بینی ہے۔ ٹی وی تو محض آلہ ہے جس کا مفید استعمال بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ظاہر پر اصرار نے اصل اخلاقی عیب کو نظروں سے اوجھل کردیا۔ جب یہ اخلاقی برائی نئے روپ یعنی کمپیوٹر اور موبائل کے دوش پر آئی تو تیزی سے معاشرے میں اس کے فروغ میں کوئی چیز مانع نہ رہ سکی۔

 بعض زبان زد عام اصطلاحات بھی حساسیت کو کم کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں مثلاً یہ کہنا کہ قرآن میں چھوٹی چھوٹی باتوں کے سلسلے میں بھی اخلاقی احکام موجود ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قرآن کا کوئی حکم چھوٹا نہیں ہوسکتا۔ ہماری حساسیت کی کمی کی وجہ سے وہ حکم چھوٹا لگتا ہے اور اسے چھوٹا کہنے سے اس عدم حساسیت کو مزید تقویت ملتی ہے۔ مصلحین کی زبان اور لب و لہجہ اخلاقی شعور میں ترتیب و درجہ بندی کا ایک تصور لاشعور میں جاگزین کردیتا ہے۔ اگر یہ تصور دین کی ترجیحات کے مطابق نہ ہو تو اہم مسائل پر حساسیت کم ہوجاتی ہے۔

۳۔غیر متوازن عصبتیں اور شک و ردعمل کی نفسیات

اخلاقی حساسیت نہ ہونے کا ایک سبب بعض عصبیتیں اور جذباتی رد عمل بھی ہوتے ہیں جو معاشرے میں عام ہوتے ہیں۔ صدیوں سے مسلمان ظالم استعماری طاقتوں کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں، ان کی تہذیبی جارحیت کا مقابلہ کرتے رہے ہیں اور طرح طرح کے مظالم کا شکار بھی بنائے جاتے رہے ہیں۔ اس صورت حال نے ردِّ عمل کی جو نفسیات پیدا کی، اس کا اثر اخلاقی حساسیت پر بھی پڑا ہے۔ وہ اخلاقی اوصاف، جو اِس جارح حریف تہذیب کے مقابلے میں ہمارا امتیاز ہیں، اُن کے سلسلے میں حساسیت بڑھ گئی، جب کہ وہ اسلامی اوصاف جن کا مطالبہ اس جارح تہذیب کی جانب سے بھی ہوتا ہے یا وہ ہمارے اور ان کے درمیان مشترک ہیں، ان کے سلسلے میں شک، تردد اور بے یقینی کے جذبات پروان چڑھے۔ حریت، مساوات، آزادی اظہار وغیرہ عین اسلامی قدریں ہیں، لیکن چوں کہ غالب مغربی تہذیب بھی ان قدروں کا مطالبہ کرتی ہے اس لیے ان قدروں کے سلسلے میں حساسیت کم ہوگئی۔ اگر حریت، مساوات اور آزادی اظہار غیر اسلامی حکمرانوں کے مقابلے میں مطلوب ہو تو وہ پسندیدہ قدریں بن جاتی ہیں، لیکن اپنے اکابر، مذہبی قائدین، اداروں وغیرہ کے مقابلے میں ناپسندیدہ بن جاتی ہیں۔ خواتین کو جو آزادی اور حقوق اسلام دیتا ہے، اُن کا ذکر بھی فیمنزم محسوس ہونے لگتا ہے۔ صفائی ستھرائی اور سلیقہ و نظافت کی اسلامی قدر کو اشراف پرستی (Aristocracy) سمجھا جانے لگتا ہے۔ ملک کی مخصوص فرقہ وارانہ صورت حال اور فرقہ پرستی کی حکومتی سرپرستی کا ردعمل عدل و انصاف جیسی اہم اسلامی قدر کے سلسلے میں عدم حساسیت پیدا کردیتا ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ عدل و انصاف کا ہر مطالبہ بلکہ فرقہ وارانہ امن کی کوششیں بھی مداہنت محسوس ہونے لگتی ہیں۔ یہ سب غالب تہذیبوں کے سلسلے میں تہذیبی احساس کمتری اور مدافعانہ ذہن کی پیداوار رویے ہیں، جو بعض اخلاقی مسائل کے سلسلے میں ہماری حساسیت ختم کردیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید نے عدل کے سلسلے میں خاص طور یہ حکم دیا ہے کہ یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔سورہ مائدہ، آیت: ۸)

۴۔حکومتوں اور بیرونی عوامل کو ہر خرابی کا ذمہ دار سمجھنا

صدیوں کا ظلم و استحصال اور اس کے خلاف مزاحمت یہ نفسیات بھی پیدا کرتے ہیں کہ ہم اپنے ہر مسئلے کی جڑ بیرون میں تلاش کرنے لگتے ہیں اور کسی مسئلے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جن معاملات میں ہم با اختیار ہیں ان میں بھی خود کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں اور اپنی ہر کم زوری کے لیے ظالم استحصالی قوتوں کو ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ بہت نقصان دہ اور مہلک نفسیات ہے۔ اسی مزاج نے سازشوں کی تھیوریوں (conspiracy theories) کو ہماری صفوں میں بہت مقبول بنایا ہے، جس پر اس سے قبل (جون اور جولائی ۲۰۲۰ کے اشارات میں) ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔

 ہم اپنی تعلیمی پس ماندگی کے لیے صرف حکومتوں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ معاشی بدحالی کے لیے عصبیتوں کا رونا روتے ہیں۔ جو ادارے خالصتًا ہمارے کنٹرول میں ہیں ان کی بدحالی کا ناطہ بھی بیرونی عوامل سے جوڑتے ہیں۔ گویا ہماری بدحالی کے لیے ہمارے سوا دنیا کے سارے عوامل ذمہ دار ہیں۔

 اس طرز فکر کے نتیجے میں یہ سوچ بن گئی ہے کہ ہر خرابی کی جڑ دوسروں میں یا بیرون میں نظر آنے لگی۔ ہمارے اندر کوئی بھی سدھار ہمارے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ اُسی وقت آئے گا جب حکومت سدھرے گی۔ ملک سے رشوت ختم ہونی چاہیے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا ہمارے لیے رشوت دینا یا لینا بھی برا نہیں ہے۔ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی چوں کہ سب کررہے ہیں اس لیے ہمیں بھی کرنی چاہیے۔ وبا کے دوران جن جگہوں پر لوگ ماسک پہن رہے ہیں وہاں ہمیں بھی پہننا چاہیے اور جہاں نہیں پہن رہے ہیں وہاں ہم کیوں پہنیں؟ یہ بھی رد عمل کی نفسیات ہی کی ایک قسم ہے کہ ہمارے رویے ہمارے ضمیر اور ہمارے اخلاقی اصولوں کے ذریعہ تشکیل پانے کے بجائے بیرونی قوتوں کے رد عمل میں تشکیل پانے لگتے ہیں۔ ان قوتوں کی زیادتیاں ہمیں اپنے اخلاقی اصولوں کے تئیں بے حس بنادیتی ہے۔

اخلاقی حساسیت کیسے پروان چڑھائی جائے؟

 اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ اس ضمن میں بعض اشارات اوپر کی بحث میں آچکے ہیں۔ سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مصلحین اُن اخلاقی مسائل کے تئیں جن کے سلسلے میں عدم حساسیت محسوس ہوتی ہے، حساسیت کی اہمیت کو سمجھیں۔ مسلمان معاشرہ اسی وقت اسلام کا عملی نمونہ بنے گا جب اسلامی اخلاق کے تمام پہلو اس کے عملی رویے کا حصہ بنیں۔ جن پہلوؤں پر معاشرے میں حساسیت کا فقدان ہے، ان پر مصلحین کو زیادہ حساس، بیدار اور فعال ہونا پڑے گا۔

 اس بیداری اور فعالیت کا پہلا مظہر یہ ہونا چاہیے کہ یہ مسائل مصلحین کی تقریروں، تحریروں، اصلاحی مہمات اور عملی کاوشوں میں زیادہ اہمیت کے ساتھ جگہ حاصل کریں۔ امت کے اندر جاری اصلاحی ڈسکورس کا ٹھوس تجزیہ شاید اسی نتیجے پر پہنچائے کہ جن مسائل پر حساسیت کا فقدان ہے، ہمارے ڈسکورس میں بھی ان پر توجہ کم ہے۔ اور حساسیت نہ ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے۔

 کسی سماج میں اخلاقی حساسیت کا گہرا تعلق، سماج کے معززین، علماء، سماجی قائدین وغیرہ کے ذاتی کردار اور ان کے ذاتی رویوں سے بھی ہوتا ہے۔ جو رویے ان کے نزدیک سخت ناپسندیدہ اور مکروہ ہوتے ہیں وہ بالآخر پورے سماج میں مکروہ بن جاتے ہیں۔ مذکورہ مسائل پر اخلاقی حساسیت پیدا کرنے کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ مذہبی قائدین، دینی جماعتیں اور دیگر سماجی قائدین ان کے سلسلے میں بہت زیادہ حساس ہوجائیں۔ اور اپنے رویوں سے ہرگز یہ ظاہر ہونے نہ دیں کہ وہ ان مسائل کو کم اہم سمجھتے ہیں۔ دوسرے کی زمین میں دراندازی کی اُن کی جانب سے ویسی ہی شدید مذمت ہو جیسی مثلاً زنا کے مجرم کی ہوتی ہے۔ جہیز کا مطالبہ کرنے والے کو ان کے درمیان ویسی ہی ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑے جیسی چور اچکوں اور پاکٹ ماروں کو کرنی پڑتی ہے۔

 اصلاح کا یہ عمل منصوبہ بند، سائنٹفک اور مہماتی جدوجہد چاہتا ہے۔ اس پر آئندہ کسی وقت ہم تفصیل سے تجاویز پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ ■

حواشی و حوالہ جات:

 Rest James R (1986) Moral Development, Advances in Research and Theory; Praeger, New York.

 راغب الاصفہانی؛ المفردات فی غریب القرآن؛ مکتبہ نزار مصطفی الباز؛ جلد ۱، ص ۱۵۶

 مولانا سید ابوالاعلی مودودی؛ تفہیم القرآن؛ جلد دوم ؛ ص ۵۶۶ (سورہ نحل ، حاشیہ ۸۹)

 مسند احمد، رواہ ابو ہریرہؓ؛ صححہ الالبانی

صحیح بخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده؛ رواہ عبد اللہ بن عمروؓ

صحيح مسلم ؛ کتاب الایمان، باب بیان تحریم ایذاء الجار، رواہ ابوہریرۃؓ

 نسائی، کتاب القسامہ و الدیات، باب صفت شبہ العمد ،حسنہ الالبانی

مسند احمد، رواہ انس بن مالکؓ، صححہ الالبانی

 مولانا اشرف علی تھانوی (1953) آداب معاشرت؛ علمی کتب خانہ، اردو بازار، دہلی

 ایضاً ص ۲

صحیح البخاری؛ کتاب الاطعمۃ، باب مایکرہ من الثوم والبقول؛ رواہ جابر بن عبد اللہؓ

Scheherazade S. Rehman and Hossein Askari (2010) How Islamic are Islamic Countries; Global Economy Journal; Vol. 10 Issue 3 Article 1

 Dr. Javed Jamil (2016) Muslims Most Civilised, Yet Not Enough, Mission Publications, New Delhi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *