خطبہ جمعہ : بموقع “مضبوط خاندان مضبوط سماج” مہم = Friday Sermon: The “Strong Family Strong Society” campaign

Friday Sermon: The “Strong Family Strong Society” campaign

خطبہ جمعہ : بموقع “مضبوط خاندان مضبوط سماج” مہم

مرکزی مہم : مضبوط خاندان – مضبوط سماج ریاستی دعوتی مہم کے اختتام پر وابستگان مہاراشٹر کے نام پیغام

https://www.facebook.com/JIHMaharashtra/videos/824937464730246

ہم ’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘ سے معاشرے میں آئے گی مثبت تبدیلی: مولانا رضوان احمد

February 14, 2021JIH EditorNews0

جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام 19 تا 28 فروری، 2021 کے دوران چلائی جانے والی ملک گیر مہم ’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘ایک قابل مبارکباد قدم ہے۔ تاہم بہتر نتائج کے لئے اس مہم کو سماج کی نچلی سطح اور شہری و دیہی علاقوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔ ان تاثرات کا اظہار ریاست بہار کے سینئر صحافیوں نے 11 فروری کو پٹنہ واقع دفتر حلقہ میں ہوئی ایک مشاوراتی میٹنگ میں کیا۔
میٹنگ کی صدارت جماعت اسلامی ہند بہار کے امیر حلقہ مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کی۔
اس موقع پر مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ خاندان کی بہتری کے لئے ضروری ہے کہ افراد خانہ کی بہتررہنمائی اور تربیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شوہر اور بیوی کے تعلقات سے خاندان وجود میں آتا ہے۔ افراد خانہ بہتر ہوں گے تو سماج، معاشرہ، عدلیہ، حکومت، بہتر ہوں گے۔
امیر حلقہ نے بتایا کہ ’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘مہم کے دوران تین سطحوں پر کام کیا جائے گا جن میں جماعت اسلامی کے کیڈرکے خاندان، مسلم معاشرہ اور ہندوستانی سماج شامل ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاندان کی جن کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے اور مہم کو کامیاب بنانے کے لئے جو مشورے دئے ہیں، اگر ان پر لگاتار کام کیا جائے اور سماج کی ہر اکائی توجہ دے تو تین چار سال میں بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔
مولانا رضوان احمد نے بتایا کہ مہم کے بعد فالو اپ پروگرام چلایا جائے گا۔ ساتھ ہی مہم کے نتائج سے مختلف مذہبی اداروں، ملی تنظیموں، دانشور طبقوں اور خواتین کے گروپس کے ساتھ تبادلہ خیال کرکے مستقبل کے لئے ایک ٹھوس حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ انشاء اللہ خاندان کے درمیان رونما ہونے والے مسائل، تنازعات کو حل کرنے کے لئے فیملی کونسلنگ سنٹر قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مہم کی بہار کنوینر ڈاکٹر زیبائش فردوس نے مہم کے دوران ہونے والی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وابستگان جماعت اور مسلم معاشرے کے خاندانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سیمپل کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی و علاقائی زبان کے اخباروں میں ’مضبوط خاندان مضبوط سماج‘ کے تحت مضامین شائع کرائے جائیں گے جن کے موضوعات اسلام کا پسندیدہ خاندانی نظام، رحم مادر میں بچیوں کا قتل،جہیز اور وراثت کا اسلامی نقطہ نظر،صنفی تفریق، اسلام میں بیٹی بچاو، بیٹی پڑھاوکا تصوروغیرہ ہوں گے۔ساتھ ہی سوشل میڈیا پر مہم سے متعلق معروف شخصیات کے انٹرویو نشر کئے جائیں گے، بین المذاہب سمینار کا انعقاد کیا جائے گا، مہم کے عنوان پر جمعہ کے خطبات ہوں گے اور نوجوانوں کے لئے خوشگوار ازدواجی زندگی کے عنوان پر Tea Party اور Get Together جیسے پروگرام کئے جائیں گے۔
محترمہ فردوس نے توقع ظاہر کی کہ اس مہم سے ملک میں موجودہ سماجی برائیوں کو مل جل کر دور کرنے کا موقع ملے گا،مسلم معاشرے اور ہندوستانی سماج کے درمیان کی دوریاں اور غلط فہمیاں رفع ہوں گی،ایک دوسرے پر اعتماد بحال ہوگا، سدبھاو اور بھائی چارہ کا ماحول قائم ہوگا،خاندان اور سماج میں امن و سکون اور خوشحالی لانے کا ہدف پورا ہوگانیز موجودہ سماجی مسائل کو دور کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات کوبطور حل پیش کیا جائے گا۔
مشاورتی میٹنگ میں شریک صحافیوں نے مہم کو کامیابی سے ہمکنا ر کرنے کے لئے جو مشورے دئے، وہ اس طرح ہیں — سروے کے دائرے میں جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کو بھی شامل کیا جائے، گھرکے ملازم و ملازمہ سے بھی سوالات پوچھے جائیں، کیڈر کو ہدایت دی جائے کہ وہ سلم ایریا میں بھی جائیں، ضعیف والدین جو ملازم و ملازمہ پر منحصر ہیں، ان کا بھی سروے کرایا جائے، سروے میں پوچھے جا رہے سوالات کی تعداد کو کم کیا جائے اور اسے جامع بنایا جائے، سوال پوچھنے کا زاویہ بدلا جائے، سروے میں نوٹ بھی لکھا جائے، سروے کو سائنٹفک بنایا جائے، الگ الگ شعبہ کے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے، سوال پوچھنے کی تکنیک کو بہتر بنایا جائے، خواتین کی تعمیری اور تربیتی جماعت بنائی جائے، خواتین کے مقام و مرتبہ کو واضح کیا جائے،وغیرہ۔
میٹنگ میں سینئر صحافی ریاض عظیم آبادی، روزنامہ پندار سے ڈاکٹر ریحان غنی، محمد عتیق الرحمان شعبان،فوٹوگرافر شیث احمد، انقلاب سے جاوید اختر، زریں فاطمہ، قومی تنظیم سے راشد احمد، عمران صغیر، فوٹوگرافر مشتاق احمد آزاد، ہمارا نعرہ سے انوارالہدیٰ،نوکر شاہی ڈاٹ کام سے ارشادالحق،بہار لوک سنواد ڈاٹ نیٹ سے شیث احمد، ہمارا سماج سے نعمت اللہ، سیماب اختر،تاثیر سے امتیاز کریم، تصدیق سے ساجد پرویز، آواز بہار سے ضیاء الحسن،جسارت بہار سے انواراللہ، ہندوستان سماچار سے محمد افضل حسن، عوامی نیوز سے عبدالواحد رحمانی، روشنی زندگی سے نواب عتیق الزماں اور دور جدید سے شہروز طارق رضا موجود تھے

Jamaat-e-Islami Hind Women’s Wing launches nationwide campaign ‘Strong Family Strong Society’, to fix deteriorating family structure, uphold core values

Posted on 17 February 2021 by Admin_markazJIH WOMEN WING PC -STRONG FAMILY STRONG SOCIETY

Leaders of JIH WOMEN’S WING addressing a PC, held at PCI, New Delhi on ‘STRONG FAMILY STRONG SOCIETY’.

New Delhi, 17th Feb. 2021: The Women’s Wing of Jamaat-e-Islami Hind (JIH) is conducting a countrywide 10-day campaign ‘Strong Family Strong Society’ to restore the core values of the family and the society, commencing from Friday.

Speaking at a press conference today, here at the Press Club of India, JIH Women’s Wing Co-Secretary Mrs. Rahmathunnisa said, “family, the basic building block of the society as well as the foundation of civilization is under tremendous threat of being weakened and disintegrated because of the rapid and rising incidents of the family conflict, domestic violence, woman abuse and divorce. Hence, as Indian citizens, we need to strengthen the core of our society by fixing its basic unit, family.”

Commenting on the present deteriorating situation of the family system , Mrs. Rahmathunnisa, said, “the National Commission for Women has recently reported an exponential rise in domestic violence during the Covid-19 lockdown. Other survey reports say that the increase in domestic violence is at a 10-year high record. Divorce rates increased and cases registered against family disputes have skyrocketed. This data is just the tip of the iceberg and cases of women subject to verbal, physical, sexual and psychological violence and abuse are becoming extremely common. Our children, youth and senior citizens also face difficulties of different kinds.  The youth today wants to evade the responsibilities of marriage and family life. The rising trends of live-in relationship, homosexuality, abortion of unwanted pregnancies as well as the virtual revolt against all value systems of family and society pose a clear and present danger towards the health of a vibrant society.”

Stating the aims and objectives of the campaign, to be run between 19th Feb and 28th Feb. 2021, Mrs. Rahmathunnisa has said that the Women’s’ Wing is conducting the campaign to create awareness for strengthening the family and home, warn people about the dangers of seeking happiness outside the institution of marriage, respecting and protecting the rights of the old and highlight the shared family values of every culture. “The deterioration in moral values is not because of religion but because of abandoning it,” she added.

All India Convener of the campaign Mrs.Shaista Rafat highlighted some of the activities envisaged during the campaign. She said: “We wish to reach out to both the Muslim community as well as the wider society. We have grass-root level programmes as well as some state-level and national-level programmes. We will be conducting corner meetings, family get-togethers, competitions, family quiz, and interfaith dialogues. Some of our programmes will also be online in the form of international webinars, and daily online interactive sessions with experts. Letters will be sent to community leaders, Imams of mosques and various religious scholars to draw their attention towards this theme. We will also approach the women commission, education institutions, family counsellors and lawyers as part of the campaign.”

The campaign committee members Ms.Juweria Farheen and Ms.Fatima Tanveer also addressed the media.

URDU VERSION 

HINDI VERSION 

Related

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *