ملک کے موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں اور امت مسلمہ کے مسائل کا حل

ملک کے موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں اور امت مسلمہ کے مسائل کا حل

بصیرت آن لائن کا روبرو پروگرام
اسپانسر : حضرت مولانا و مفتی محمد اسجد قاسمی صاحب احمد آباد گجرات
مہمان خصوصی :
حضرت مولانا احمد بیگ ندوی صاحب ( آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر و سابق استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ )
تلخیص : طاہر ندوی
مشرقی سنگھ بھوم جھارکھنڈ

ملک کے موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے کیا ذمہ داری ہو سکتی ہے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے حضرت مولانا احمد بیگ ندوی صاحب نے کہا کہ یہ ملک اپنے اخلاقی، دینی، ملی، قومی، تمدنی، سیاسی سماجی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے بدترین دور سے گزر رہا ہے، بالخصوص قوم مسلم کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں، قوم مسلم ایک ایسی جگہ پر کھڑی ہوئی ہے کہ ارتداد کی دہلیز بالکل قریب ہے۔
ایسے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داری کیا ہونی چاہئے اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے علماء کرام کو کیا کرنا چاہئے اس کے لئے چند باتیں ہیں اگر ان پر عمل درآمد ہو سکے تو ممکن ہے ملک کے حالات بدل جائیں اور قوم مسلم کے مسائل کا حل نکل آئے ۔

پہلی ذمہ داری : افراد سازی کا کام کرنا
یہ ایک ایسا کام ہے جس پر قوموں کی ترقی اور بقا کا انحصار ہوتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا حکمت انقلاب یہ ہے کہ آپ نے افراد سازی کا کام کیا ۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

یہ افراد سازی مختلف پہلوؤں سے ہونی چاہئے صرف مذہبی نقطہ نظر سے نہیں ابھی کے جو حالات ہیں اور مختلف میدان ہیں مثلاً سیاسی میدان، سماجی میدان، اقتصادی میدان، تعلیمی میدان، نظریاتی میدان تمام میدانوں میں افراد سازی کا کام کیا جائے ۔

دوسری ذمہ داری : تعلیمی نظام کو اسلامئی زیشن کرنا

ابھی جو نظام ہے چاہے مدرسوں کا ہو، اسکول کالجز کا ہو اس نظام کو اسلامئی زیشن کرنے کی ضرورت ہے، اس ملک کے اندر جو وقت کے تقاضے ہیں جس قسم کے افراد درکار ہیں وہ مدارس پیدا نہیں کر پا رہے ہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے بعض حضرات کو اگر یہ بات گراں محسوس ہو رہی ہو تو میں معذورت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ ابھی مدارس کے اندر جو تعلیمی نظام چل رہا ہے وہ نظام تبدیلی کا انتظار کر رہا ہے وقت کے تقاضے کے تحت مدارس کا نظام اور اسکولوں کا نظام تبدیل کیا جائے اس ملک کے اندر جنھوں نے وقت کے تقاضے کے تحت تعلیمی نظام کا اور افراد سازی کا کام کیا آج وہ پورے ملک پر حاوی ہیں اور پورے ملک کا زمام کار سنبھال رہے ہیں ۔

تیسری ذمہ داری : مظلوم طبقے کو لے کر مداخلت اور احتجاجات کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرنا ۔

بہت سے علماء نے اب تک احتجاج کو قبول ہی نہیں کیا ہے وہ جواز کے مسئلے تلاش کر رہے ہیں کہ شرعی طور پر احتجاج کرنا اس کا جواز کہاں سے ہے جبکہ اللہ نے فرما دیا ہے “والذين إذا اصابهم البغي هم ينتصرون ” یہ دلیل ہے ، احتجاج ایک ڈیموکریٹک ملک میں بہت بڑا ہتھیار ہے علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس تعلق سے عوام کو بیدار کریں اور ان کو آمادہ کریں ۔

چوتھی ذمہ داری : سیاست کے اندر شمولیت اختیار کرنا
“کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء ، اذا ھلک نبی خلفه نبی ( متفق علیہ) سیاست ہی سب سے مہلک ہتھیار ہے جو قوم قوم مسلم کے لئے زہر ناگ ہے اگر سیاست کے ذریعے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں تو روکنے کا سب سے بڑا ہتھیار بھی سیاست ہے لیکن ہتھیار کو اختیار کرنے کے تعلق سے ہماری جو روش رہی ہے بہت معذرت کے ساتھ کہ وہ مجرمانہ روش رہی ہے ہم ایک طرح سے فکری بحران کا شکار رہے ہیں جبکہ دوسری قوموں نے سنگھ پریوار نے 1951 میں جن سنگھ کی پارٹی بنا چکے تھے جبکہ مسلمانوں نے کہا کہ کانگریس ہی مسلمانوں کی پارٹی ہے اور بعد میں یہ بھی کہتے نظر آئے کہ یہ ہمارے بزرگوں کی پارٹی ہے اللہ معاف کرے ۔

پانچویں ذمہ داری : دین کا جو قرآنی تصور ہے اس کو دنیا کے سامنے اور بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے پیش کرنا ۔
آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں جیسا کہ قرآن میں کہا گیا ” افتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض فما جزاء من يفعل ذلك منكم الا خزي في الحياة الدنيا ” ۔
چھٹی ذمہ داری : امت میں خود اعتمادی پیدا کرنا
ابھی امت ایک طرح سے مایوسی کا شکار ہے، حوصلے ٹوٹ چکے ہیں، ہر طرف مایوسی ہے، بڑے بڑے علماء میں بھی مایوسی ہے، بڑے بڑے علم و فن کے ماہر، خطابت کی دنیا کے شہسوار وہ سب مایوسی کا شکار ہیں اس مایوسی کو دور کرنا سب سے پہلے ہم اپنے دلوں سے مایوسی کے زنگ کو دور کریں اس کے بعد امت کے اندر جو مایوسی پھیلی ہوئی ہے اس کو دور کرنا یہ علماء کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔

ساتویں ذمہ داری : امت کو حالات سے باخبر رکھنا ۔
ابھی جو ملک میں حالات چل رہے ہیں، سیاسی طور پر ثقافتی طور پر اور ہمارے دشمنوں کی جو منصوبہ بندی اور پلاننگ ہیں، ان کے ناپاک ارادے ہیں جو تقریباً سو برس سے اپنے دماغ میں پرورش دے کر اس مرحلے میں پہنچے ہیں وہ مسلمانوں کو اس ملک سے کھرچ کر پھینک دینا چاہتے ہیں تو ملک کے حالات سے باخبر کرنا بھی علماء کی اہم ترین ذمہ داری ہے ۔
مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے اپنی مختلف تقریروں میں یہ بات کہی ہے کہ اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی بلکہ سو فیصد تہجد گزار بنا دیا جائے لیکن اس کے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے، ملک کےاحوال سے ان کو واقف نہ کرایا جائے تو ممکن ہے اس ملک میں تہجد گزار تو دور پانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہو جائے اور آج صورت حال یہی ہے ۔

آٹھویں ذمہ داری : وقت کے تقاضے کے مطابق کام کیا جائے ۔
وقت کے تقاضے کیا ہیں ؟ ابھی کس چیز کی ضرورت ہے ؟ معلوم ہوا کہ ہمارے لوگ ربیع الاول کے مہینے میں جلسے ہی کر رہے ہیں، محرم الحرام کے مہینے میں جلسے ہی کر رہے ہیں، کیا اس کی ضرورت ہے ؟ ابھی اربوں روپے برباد ہو رہے ہیں اس کو مثبت کاموں میں لگایا جائے، تعمیری کاموں میں لگایا جائے، اسلامک طرز پر اسکول کھولے جائیں، وکلا کے افراد تیار کئے جائیں، میں معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہم نے وقت کے تقاضوں کے تحت افراد تیار نہیں کئے، غزوہ تبوک میں تین اصحابِ رسول جو وقت کے تقاضے سے ہم آہنگ نہ ہو سکے وہ پیچھے رہ گئے کعب ابن مالک کے سارے بدری صحابی تھے لیکن اس مقام بلند کے باوجود، حب رسول کے باوجود، عبادت و ریاضت کے باوجود وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق جنگ میں شریک نہ ہوئے ان کی گرفت ہوئی اور بہت زبردست گرفت ہوئی تو آج ہماری بھی گرفت ہوگی اگر ہم نے وقت کے تقاضوں کے رفتار کو نہیں پہچانا تو یقیناً ہم گرفت میں آئیں گے۔
آخری ذمہ داری : سازشوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے ۔
دیکھئے! تین کام ہوتے ہیں (1) اہم کام (2) کم اہم (3) غیر اہم
ہم اپنا جائزہ لیں ستر اسی سال پیچھے جائیں اور دیکھیں کتنا اہم کیا اور کتنا غیر اہم اگر اس کا جائزہ لیں تو تصویر بالکل صاف ہو جائے گی ہمارا بیشتر کام وہ ہے جو غیر اہم ہے، کم اہم چھوڑ دیجئے، اہم کام کرنا تھا اس لئے آنکھیں بند کرلیں آج ہمارے سامنے جو پریشانیاں ہیں وہ ظاہر ہے، ماضی میں جو غلطیاں ہوئی ان کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔
بہر حال اگر آج بھی اپنی روش میں تبدیلی لے آتے ہیں، امت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے پوری جرات کے ساتھ، ہمت و حوصلے کے ساتھ، اللہ پر توکل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو ان شاءاللہ اللہ حالات کو بدل دے گا” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم ” اللہ ایمان کی کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *