میڈیا ہاؤس سے متعلق ایک آڈیو کلپ

[8:59 AM, 3/31/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: میڈیا ہاؤس سے متعلق ایک آڈیو کلپ

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

کچھ دنوں سے ایک آڈیو کلپ راوش کمار یا دہلی کے کسی پروفیسر کی جانب منسوب واٹس ایپ گروپوں میں گردش کررہی ہے۔
مگر ہر ایک ملت کو کوستے ہوئے آگے فارورڈ کررہاہے!
کم از کم تین چار درجن واٹس ایپ گروپوں میں یہ کلپ سننے کو ملی۔
ہر جگہ یہ آڈیو کلپ کے ساتھ ایسے ہی
”شرم آنی چاہئے ہمیں کہ اب غیر بھی مشورے دینے لگے
مگر ہم دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے سوا کچھ نہیں کرتے
ہم میں اتحاد ہی نہیں تو کیا کریں گے؟
ہمیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے فرصت ہی نہیں۔
اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ مسلمانوں!
ورنہ ایک ایک خبر چھپوانے کے لالے پڑ جائیں گے”
کامنٹس اور تبصرے پڑھنے کو ملے
مگر مسئلے کا حل کیا ہے؟
کسی نے اس جانب اشارہ تک نہیں کیا
چند دن کی فکر مندی رہے گی
کچھ احباب کڑھتے اور کوستے رہیں گے، بس پھر ی…
[11:58 AM, 4/1/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: راشن تقسیم کرنے والے افراد و گروہوں سے ایک درخواست!

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

راشن تقسیم کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔
لیکن تقسیم راشن کا کام ایسا ہوگیا کہ سب مل کر کرنے کے بجائے الگ الگ اور انفرادی طور پر یہ کام انجام دیا جارہاہے، جس کی بنیاد پر نتائج خاطرخواہ نہیں آرہے ہیں۔
کسی کی نیت پر شک مناسب نہیں ہے:
مگر کیا کیا جائے ہمارے مزاج کا کہ وہ بھی تو اجتماعیت کی بندش سے آزاد رہنا چاہتا ہے۔

بسا اوقات بازو بازو رہنے والے تین چار افراد یا دو چار گروہ ایک ساتھ مل کر راشن تقسیم کرنے کے بجائے الگ الگ کرتے ہیں، بلکہ مل جل کر تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتے۔
اسی بنا پر برجستہ یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ رہاہے کہ تقسیم راشن کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے۔

راشن تقسیم کرنے والے افراد یا گروہوں کو یا تو مل کر تقسیم کرنا چاہئے یا مل کر نہیں کرسکتے تو کم از کم علاقوں اور محلوں کی تقسی…
[9:16 AM, 4/3/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

رمضان مبارک۔

اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں، نمازوں اور تمام عبادتوں کو قبول کرے۔
ہمارے لئے، ہمارے والدین اور بچوں کے لئے مغفرت و نجات کا ذریعہ بنائے۔
بڑھتی نفرت کو ختم کرنے اور باشندگان ملک کی ہدایت کا سبب بنائے۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

Assalamualaikum

Ramzan Mubarak.

Allah hamare Rozon, Namazon, aur tamam ibadaton ko qubool Kare.
Hamare liye, Hamare Walidain aur Bachon Ke liye maghfirat o najat kA zariya banaye.
Badhti nafrat ko khatam karne aur baashindagan e mulk ki Hidayat ka Sabab banaye.

Shaik Ruknuddin Nadwi Nizami۔
[1:33 PM, 4/7/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ملت اور انسانیت کے بےشمار مسائل ہیں جو الہی تعلیمات کی روشنی میں حل طلب ہیں
نیز ہندوستان کے تناظر میں بالخصوص خود ملت کے نہ صرف تشخص کا مسئلہ ہے بلکہ وجود کا مسئلہ درپیش ہے.

ایک ایک کرکے ملت بیضاء پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں
👈تعلیم سے دور
👈اخلاق سے تہی دامن
👈روزگار سے محروم
👈سطح غربت سے نیچے زندگی
👈سیاسی اعتبار سے پچھڑے
👈تہذیبی یلغار
یہ اور ان جیسے بےشمار مسائل اور چیلنجس درپیش ہیں
ان کی جانب بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ـ
اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے!!
یہ وقت ہو بہو ویسے ہی لگ رہاہے جیسے سقوط غرناطہ و قرطبہ اور بغداد کے وقت تھا
تاریخ کے ان تاریک صفحات کو جنہیں زمانۂ طالب علمی سمجھنے سے قاصر رہا آج بآسانی سمجھ میں آرہے ہیں۔

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری عجب وقت آن پڑا ہے

علماء و مفتیان سے استدعا ہے
علمی اختلاف و آرا کا لحاظ رکھیں
دل…
[8:16 AM, 4/8/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: 👈حج ہوگا تو صرف صاحب استطاعت لوگوں کےلئے
👈عمرہ ہوگا تو صرف صاحب حیثیت لوگوں کےلئے
👈طواف ان لوگوں کےلئے جو وہاں ہیں
البتہ روزگار ساری انسانیت کےلئے ضروری ہے
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں صرف من استطاع الیہ سبیلا کی شرط کی تکمیل کرنے والوں پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کو فرض قرار دیا ہے بس!!
خود رسول اللہ ص نے صلح حدیبیہ کے بعد ایک مرتبہ عمرۃ القضا اور حجۃ الوداع میں عمرہ کے ساتھ حج کیا
بقیہ زندگی
👈انسانی حقوق
👈انسانیت کی بقا
👈ظلم کے خاتمہ
👈حق کی اقامت
👈عدل و قسط قائم کرنے کےلئے وقف کیا
اس سلسلے میں حج و عمرہ سے بھی بڑھ کر میدان جہاد میں زندگی گزاری
نبوت سے پہلے بیروزگاروں کو روزگار فراہم کرنے میں لگادی
پہلی وحی کے موقعے پر خدیجہ رض نے جن الفاظ سے حضور ص کو تسلی دی وہ واقعتاً آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں
👈انک لتصل الرحم
بے شک آپ صل…
[10:02 AM, 4/9/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: تاریخ کا ایک بدترین جملہ
اذا قیل لک انھزم التتر فلا تصدقوہ
عالم اسلام پر جس گھڑی تاتاری حملے ہوئے مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، سروں کے منارے تعمیر کئے گئے،
زمانۂ طالب علمی میں جب کبھی تاریخ کے اس جملے کو پڑھتا تھا تو ذہن قبول کرنے کےلئے قطعی تیار نہیں ہوتا تھا کہ
ایک تاتاری عورت دس دس مسلمان مردوں کا قتل کرتی تھی
سوچنے پہ مجبور ہوتا تھا کہ یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟؟
لیکن آج جب اپنی حالت دیکھتا ہوں تو حرف بحرف اس کی تصدیق نظر آرہی ہے
دل کہتا ہے ایسے ہی کچھ حالات تھے ہوں گے اس وقت بھی!!
ایک طرف سے تاتاری حملے تو دوسری جانب
👈ملت ٹوٹ پھوٹ کا شکار
👈علماء کے مناظروں کا بازار گرم
👈سیاسی قایدین آپس میں رسہ کش
👈کوئی کچھ کہتا تو کوئی کچھ اورکرتا!!
آج ہماری حالت یہ کہ چند غنڈے ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کسی کے گھر میں گھس کر حملہ کرتے یا قتل کرتے ہیں تو …
[3:35 PM, 4/10/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ٹھیک ہے ہم مسلمانوں میں بہت سی کمزوریاں اور برائیاں بھی ہیں، جس کی بنا پر آج کے حالات کو عذاب گردانا جارہاہے، ہوسکتا ہے کہ یہ عذاب ہو!!
مگر اس سے اور خوف طاری ہوگا، آج خوف و مایوسی نکالنے کی ضرورت ہے۔
ویسے غزوۂ بدر کے سلسلے میں
کأنما یساقون الی الموت :موت کی جانب ہانکے جارہے ہیں۔
اور خندق میں
بلغت القلوب الحناجر: کلیجے منھ کو آگئے۔
نیز مسلمانوں کی عمومی صورتحال
تخافون أن یتخطفکم الناس تم ڈر رہے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لیں۔ جیسے الفاظ قرآن میں ملتے ہیں۔

ڈر اور خوف انسانی فطرت اور کمزوری ہے، اس کو ایمان و توکل سے بآسانی نکالا جاسکتا ہے، قرآنی بشارتیں اسی کے لئے ہیں۔

اللہ ہمیں حالات سے نپٹنے اور سازگار بنانے کی توفیق و طاقت عطا کرے۔
[10:11 AM, 4/14/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: رمضان المبارک غزوات، فتوحات، اور ہم

اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اسی ماہ مبارک میں انسانیت کی رہنمائی کے لیے آسمانی کتابیں نازل ہوئیں۔

تاریخِ اسلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک جہاد اور فتوحات کا مہینہ رہا ہے۔
اس ماہِ مقدس میں جہاد کا پرچم بارہا بلند ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو فتح و کامرانی سے نوازا۔

رمضان المبارک غزوات و فتوحات:

👈یجرتِ نبویؐ کے صرف سات ماہ بعد رمضان المبارک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب کی قیادت میں بحر احمر کے ساحل کے قریب، العیص کے مقام کی طرف 30 سواروں پر مشتمل سریہ بھیجا، تاکہ وہ ابوجہل کی سرکردگی میں شام جانے والے قافلے کو روکے۔

👈17 رمضان 2ھ میں رسول اللہ ص کی زیر قیادت صحابۂ کبار کے لشکر نے میدانِ بدر میں مشرک سپاہ سے نبرد آزمائی ک…
[9:29 AM, 5/3/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: السلام علیکم ورحمۃ اللہ

عید مبارک۔۔۔۔

تقبل اللہ منا و منکم۔۔

اللہ تعالٰی آپ کی تمام عبادتوں کو قبول کرے۔
تقویٰ کا اعلی معیار عطا کرے۔
دونوں جہاں کی کامیابی عطا کرے۔۔
عید کی خوشیاں نصیب کرے۔۔
ملک کے تمام باشندگان کے لئے محبت اور بھائی چارہ کا سبب بنائے۔۔۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد ۔
تلنگانہ ، اندیا

Assalamualaikum warahmatullah

Eid Mubarak

Taqabbalallahu minna wa minkum..

Allah ta’ala Aap Ki tamam Ibadaton ko qubool kare,
taqwa ka a’ala meyar ata Kare,
donon Jahan ki kamiyabi ata kare..
Eid ki khushiyan naseeb kare…
Mulk ke tamam bashindon Ke liye muhabbat o Bhai chara ka sabab banaye..

Shaik Ruknuddin Nadwi Nizami
Jamia Islamia Hyderabad
TS. India
9640742565
[5:45 PM, 5/9/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی تیاری

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

ویسے اصولی اعتبار سے تلنگانہ میں مرکزی پارلیمانی انتخابات کے موقع ہی پر اسمبلی انتخابات بھی ہونا طے ہے، مگر پچھلی بار کے سی آر نے بہت سی وجوہات کی بنیاد پر قبل از وقت ہی استعفیٰ دےکر اسمبلی تحلیل کردی اور انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا، اس بار بھی کچھ ایسے ہی امکانات ہیں۔
ہوسکتا ہے کہ پچھلی مرتبہ کے بالمقابل کچھ اور ہی جلد بازی کا مظاہرہ کیا جائے!!
ریاست کے تمام ہی طبقات اپنے اپنے ایجنڈے رکھتے ہیں اور تمام سیاسی پارٹیوں میں اپنے مضبوط نمائندے بھی، جو اپنی کمیونٹی کی مضبوط نمائندگی کرتے بھی رہتے ہیں
اچھا ان کے ایجنڈے کیا ہیں؟ اور کیا ہوسکتے ہیں؟
یہ الگ بات ہے، کیونکہ دیگر طبقات کے یہاں بس جو کچھ ہے یا ہونا چاہئے وہ بس زیادہ سے زیادہ تعلیم، بے روزگاری، معاشی استحکام اور سما…
[7:22 PM, 5/11/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ملک میں اب مساجد کی تعمیر کی ضرورت نہیں!

جی ہاں صحیح پڑھا آپ نے اور دیکھا۔۔۔
ان سخت گیر و نفرت کے ماحول میں مساجد کی تعمیر کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے۔
جو مساجد ہیں بالخصوص تاریخی مساجد، انہیں یکے بعد دیگرے توڑنے اور نام و نشان کو مٹانے کے منصوبے ہیں،
آگے مسلمانوں کی شہریت کا بھی کوئی پتہ نہیں، کیا ہوگا؟
ان حالات میں کیا مساجد کی تعمیر ضروری ہے؟
رمضان میں بہت سے احباب تعمیر مسجد میں تعاون کے لئے شہری علاقوں کا دورہ کرتے نظر آئے ہیں۔
کچے مکانات اور کچی مسجدوں کی عادت ڈالنی ہوگی، پر تعیش زندگی سے کنارہ کشی ہی حالات کا تقاضا ہے
پھر جو مال و وسائل تعمیرات میں صرف کئے جارہے ہیں انہیں ملت کی تعلیم و معیشت کے استحکام کے لئے استعمال کئے جائیں۔۔
عبادتوں کے لئے دیگر طبقات کے عبادت خانوں کو اپنایا جائے
شرک و بت پرستی کے خاتمے اور اس کی جگہ توحید پرستی کی دعوت کو عام کیا جائے۔۔۔
[8:06 PM, 5/15/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: مسلمان اور اسلامی شعائر کا رکھوالا؟

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

ملک میں جس تیزی کے ساتھ ماحول کو بگاڑا جارہاہے اور اسلامی شعائر و مسلمانوں کے مکانات بلکہ وجود پر بلڈوزر چلایا جارہاہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
ہر طرف سے لوگ مسلم دشمنی میں جذباتی اور اندھے بنتے جارہے ہیں، گھروں، دوکانوں، مسجدوں یہاں تک کہ قبرستانوں تک کو نشانہ بنایا جارہاہے۔۔۔۔۔
اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کیا جارہاہے!
مسلم معاشرے کو برائی کا محور قرار دیا جارہاہے!
مسلم لڑکیوں کو ورغلایا جارہاہے!
قتل و خون کی دھمکیاں بلکہ عملی مظاہرہ کیا جارہاہے!
نفرت و تعصب کی حدیں پھلانگی جارہی ہیں۔۔۔۔
ایسے میں
کون ہے جو اسلامی شعائر کا تحفظ کرنے کے لئے میدان میں آ کھڑا ہوگا؟
کون ہے جو مسلمانوں کی حفاظت کے لئے آگے آئے؟
کس کی آڑ میں ملسمان پناہ حاصل کرسکتے ہیں؟
خوف کی نفسیات سے ک…
[11:37 AM, 5/16/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ملت اسلامیہ کی صورتحال

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

ملت اسلامیہ کی کیفیت و حالت انتہائی نازک ہے
ملت اپنے قائدین و علماء پر کسی حال بھروسہ کرنے تیار نہیں ہے
اتنی منتشر ہے کہ اپنے میں سے کسی کی اطاعت کا قلادہ گلے میں ڈالنے کی روادار نہیں ہے
-ہاں یہ بھی ایک ٹریجڈی ہے کہ قائدین، زعماء اور علماء نے اکثر ملت کا سودہ کیا اور بھروسہ چور چور کرتے رہے-
البتہ غیروں میں ”مسیحا” ڈھونڈنے چلتی ہے جس سے اس کا خوب استحصال کیا گیا اور کیا جاتا ہے اور مستقبل میں بھی کیا جاتا رہےگا
علمی، سماجی، معاشی اور سیاسی اور اب تو دینی اور روحانی ہر اعتبار سے ملت در در کی ٹھوکریں کھاتی پھررہی ہے
اپنے پیروں پر آپ کھڑے ہونے کی فکر اور کوشش دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے
(سنجیدہ کوشش، ورنہ ہر کوئی اپنی فکر مندی کا اظہار کررہاہے)
کل تک شیو سینا مسلم دشمن تھی اور آج دوچار ب…
[6:18 PM, 5/17/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: جی کئی ایک مندر ہیں!

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

جی کئی ایک مندر ہیں جہاں کھلے عام نہ صرف برہنہ مورتیاں رکھی ہوئی ہیں اور ان کی بوجا کی جاتی ہے بلکہ “کاماسوترا” مباشرت کرتے نظر آتی ہیں۔۔
مباشرت، لواطت حتی کہ جانوروں سے جماع کراتی مورتیاں بھی تراش کر رکھ دی گئیں۔۔
گوری لنکیشور نامی ایک خاتون
(دیوی) کی ننگی مورتی بِھی ہے ۔۔جسے (میرے خیال میں) حوا کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔۔ جس کی پوجا کرنے سے اولاد ہونے کا عقیدہ ہے۔۔
ان تصاویر کی بات تو قدیم (پراچین کال) تہذیب سے وابستہ ہے۔
حد تو یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ و سائنسی عہد میں تصاویر و مورتیوں کے ساتھ زندہ لوگوں (ناگ سنیاسیوں) کی شرمگاہوں کی پوجا کرنے کا رواج بھی ہے۔۔۔
اور یہ سنیاسیاں بھی ایسے ایسے کرتوت انجام دیتے رہتے اور لوگوں کو اپنی شرمگاہوں کے تقدس اور پوجا کی جانب دعوت دیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ!!
مرد تو مرد ع…
[7:17 PM, 5/18/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: معلوم انبیاء اور صحابہ و صحابیات کی جگہ؟

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

ملک میں ہندتو کی بڑھتی لہر، سرکاری و غیرسرکاری سطح پر فسطائی طاقتوں کے غلبہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کا ایک طبقہ بڑے پیمانے پر متأثر ہورہا ہے، اور آگے ہر میدان میں ہتھیار ڈالتے جانے کا اندیشہ اور امکان ہے۔
حکومتی اور سیاسی سطح پر تو مسلمان اپنوں کی ”خیرخواہی” اور غیروں کی سازشوں کی بنا پر میدان ہارتے نکل گئے۔
اب تعلیمی اور سماجی اثرات سے عوام تو عوام، خواص کا متأثر ہوجانا بھی نظر آرہا ہے۔
کل تک دینی حلقوں، جلسوں اور اجتماعات میں معلوم انبیاء و رسل، صحابہ و صحابیات اور اولیاء اللہ کی سیرتوں اور واقعات کو بیان کیا جارہا تھا۔
اور آج مرعوبیت کا اتنا شکار ہوگئے کہ ہندو دیوی دیوتاؤں اور معبودان باطل کے نام ادب سے لئے جانے لگے۔
ہر کس و ناکس کے سلسلے میں پیغمبر ہونے کے امکان کو بیان کیا جانے لگا۔
اور…
[2:38 PM, 5/19/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: طاقت و قوت کے بغیر۔۔۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

دنیا طاقت کی زبان سمجھتی ہے، اخلاق و کردار، علم و دلیل یا انسانیت کی زبان کسی کو سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔
حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم ہی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے، ہرکس و ناکس کے الامین، الصادق کے القاب سے بلانے کے باوجود رسالت و نبوت کو بڑے بڑے مشرکین قریش میں سے کسی نے تسلیم نہیں کیا حتی کہ رسول اللہ ص سے دو دو ہاتھ اور پنجہ آزمائی کی گئی، جب بدر و احد اور خندق میں ٹکراتے ہوئے اپنے بڑے بڑے سورماؤں کو کھودیا، اس کے بعد ہی حدیبیہ میں آپ کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو آمادہ ہوئے۔۔

حالیہ عرصے میں دنیا کا سوپر پاور امریکہ نے بھی بیس سال تک افغانیوں کو آزمانے لے بعد ہی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہوا۔۔۔۔

بابری مسجد ہو یا گیان واپی یا کوئی اور مدعا و مسئلہ، مسلمان چاہے علم و …
[9:09 AM, 5/23/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: جان و مال کی آزمائش۔۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

موت و حیات کا فلسفہ ہی آزمائش ہے۔۔ زندگی کا آزمائشوں سے لبریز ہونے اور ان آزمائشوں میں کھرے اترنے ہی پر اخروی کامیابی کے منحصر ہونے کا ایقان درحقیقت ایمان کا ایک لازمی حصہ ہے، جس کے بغیر ایمان کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایمان معتبر ہوگا۔۔۔

جان و مال کی آزمائش زندگی کا ایک لازمی جز ہے اور یہ بلا لحاظ ایمان و عقیدہ اور مذہب سب کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔۔

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾
سورۃ المک 67، آیت2

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔

البتہ ایمان و عقیدہ کی بنیاد پر آزما…
[8:29 AM, 5/25/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ایک واقعہ یا ایک حادثہ۔۔۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

کانپور کا واقعہ ہے: سولہ سال اٹھارہ ماہ کا ایک لڑکا اسلام قبول کرتا ہے یا کروایا جاتا ہے اور اس کا نکاح تیس سالہ دو بچوں کی ماں سے کروایا جاتا ہے۔۔
یہ واقعہ کیسے رونما ہوا؟
کون اس کے پیچھے ہے؟
کیا وجوہات ہیں؟
اس قسم کے بہت سے سوالات کے جوابات قوم کے سامنے آنے ہیں۔۔۔
پہلی دفعہ میں یہ واقعہ انتہائی غلط نظر آرہا ہے، جس کسی نے ایسا کیا اس نے غلط کیا اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے کیا۔۔
یہ کس قسم کی دعوت اور دین کا کام کیا جارہا ہے؟ جس سے اسلام بدنام ہورہاہے اور غیروں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسلمان خود نہ صرف تسلیم کر رہاہیں بلکہ ثابت کررہے ہیں کہ مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں، اور اسلام انہی باتوں کا حکم دیتا ہے۔۔۔۔
دو تین باتیں عرض خدمت ہیں:
👈معلومات و جانکاری کے اسباب resources ہمارے پاس کیا ہی…
[9:31 AM, 5/25/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: آٹھ ماہ*
[11:19 AM, 5/26/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: اسلوب و طرز تدریس

شیخ رکن الدین ندوی نطامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

دینی مدارس کے نصاب میں تبدیلی یا ترقی کی بات بالعموم کی جاتی ہے،
کتاب اللہ رہنما اور اصولی کتاب ہمارے ہاں بنیادی کتاب ہے۔۔۔ مگر طرز و اسلوبِ تدریس ہمارا بالعموم منطقی یا فقہی ہوتا ہے۔۔۔
اسی طرح کتب احادیث کی تبویب پر ایک نظر ڈالنے ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ ان میں بھی سامان زیست کی تماتر رہنمائی وافر مقدار میں ہے۔۔ اور ماشاءاللہ سے یہ بھی تطبیقی سے زیادہ منطقی اور فقہی انداز ہی میں پڑھائی جاتی ہیں۔۔۔

کتب فقہ بالخصوص قدوری اور ہدایہ کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ عصر حاضر کے بیشتر معاملات (بیوع، مزارعہ، قضاءت وغیرہ) سے بحث کی گئی، ہدایہ میں مختلف ائمہ کی آراء جس خوش اسلوبی سے بیان کی گئیں ہیں، کہ صاحب کتاب کے علم و فن میں تفوق و گیرائی کا دل سے اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکا۔۔۔
مگر یہاں بھی ”ا…
[10:26 AM, 5/27/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: رہن سنٹروں، سودخوروں سے بچائیے!

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

اخراجات اور معیار زندگی بڑھانے کی فکر و خواہش کے علاوہ حقیقی ضرورتیں بھی ایسی لاحق ہوتی ہیں کہ لوگ مال و متاع رہن پہ رکھنے کےلئے مجبور ہوجاتے ہیں
کسی چیز کی گروی کا مطلب سود یا سودی کاروبار کرنا نہیں ہے، مگر ساہوکار اور سودخوروں کی حرص و طمع لوگوں کا خون چوسنے اور استحصال کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
انسانوں کو بالعموم اور مسلم معاشرے کو بالخصوص ان سب مشکلات سے نکالنے ہی کےلئے رب کائنات اور رسول رحمت نے بہت سارے متبادل فراہم کئے اور سرمایہ داروں، متمول حضرات کو آمادہ کیا کہ وہ صدقات واجبہ اور نافلہ کے ذریعے انسانوں کی مدد و دستگیری کریں، بارہا اس کی ترغیب دی گئی، ”احسن کما احسن اللہ الیک”۔
اور مصارف زکوۃ میں فقراء و مساکین کے ساتھ ساتھ ”الغارم” مقروضوں کی مد بھی رکھی گئی۔
نیز بسا اوقات بلکہ اکثر ای…
[7:37 PM, 5/28/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ایمان اصل یا کفر؟

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

آج ملک میں بڑے پیمانے پر بحث چھڑی کہ سناتن دھرم اصل اور قدیم ہے اس کے صدیوں بعد دیگر مذاہب بالخصوص اسلام تو صرف ساڑھے چودہ سو سال قدیم ہے اس لحاظ سے سناتن (ہندو دھرم، جبکہ ہندو دھرم کوئی چیز نہیں ہے، بدھ، جین اور دیگر مذاہب کا تصور تو پایا جاتا ہے مگر ہندو دھرم کا تصور نہیں ہے بلکہ برہمن واد کو ملک کے تمام طبقات پر بالجبر تھوپ کر ہندو مذہب قرار دیا جارہاہے) دھرم انتہائی قدیم اور اصل مذہب ہے جبکہ اسلام نیا مذہب ہے۔۔
یہودیوں اور عیسائیوں اور ملحدوں کی جانب سے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ قرآن ، تورات و انجیل سے نقل شدہ ہے۔۔
مسلمانوں کے لئے بالخصوص اور ملک کے تمام باشندوں کے لئے بالعموم مدعا یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کون سا مذہب قدیم اور کون سا نیاہے؟۔
بحث کا مدعا یہ ہونا چاہئے کہ اصل کیا ہے ”ایمان” یا…
[7:46 AM, 5/29/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: گستاخئ رسالت اور۔۔۔۔۔۔

کچھ چیزیں اصولی اور قانونی ہوتی ہیں۔
اور کچھ وقتیہ غیرت پر مبنی ہوتی ہیں۔

اصولی اور قانونی مسئلہ دیکھا جائے تو ہم قانون نافذ کرنے کے موقف میں فی الحال نہیں ہیں، نہ ملکی قانون اور نہ اسلامی قانون۔
اس کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی جدوجہد کرنا ہے تاکہ ملک میں اسلامی قانون نافذ ہو اور ہر فرد و طبقہ کے ساتھ عدل ہو، کسی کا حق نہ مارا جائے۔۔۔

اس مرحلہ میں ہمیں دعوت کا پہلو اختیار کرنا ہوگا، ہر چیز کو انگیز کرنا ہوگا، صبر و تدبر کے ساتھ تمام امور کو حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

وقتیہ اور غیرت پرمبنی کام کے لئے کسی قانون یا تعداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
محبت و فدائیت ہی کارنامے انجام دینے کے لئے کافی ہے۔۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
[8:23 PM, 5/31/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: علمائے کرام کی خدمت میں۔۔۔۔

غور فرمائیں۔۔۔۔
مسجدوں میں نہ صرف اعلان کروائیں بلکہ مسجد کے تحت اہتمام کریں۔۔

ملت اسلامیہ میں معاشی پسماندگی بہت ہے، بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے حصول کے لئے پریشان ہیں اور ان کے والدین بچوں کے روزگار کے سلسلے میں فکر مند ہیں۔۔۔

عید الاضحی کے موقع پر شہر حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں قربانی کے جانور کاٹنے کے لئے دیہاتوں سے بہت سے لوگ آتے ہیں جو درحقیقت پیشہ ور نہیں ہوتے اور مسلمان بھی نہیں ہوتے ہیں۔۔
اور تین دن میں اچھی خاصی کمائی کرکے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔۔

ایسے میں کیا ہمارے بیروزگار نوجوان جانور کاٹنے کا اہتمام کریں گے؟۔
تاکہ کام کا کام اور محنت کے دام بھی حاصل ہوں۔۔

کئی ایک فائدے حاصل ہو سکتے ہیں:

👈بچوں کی مالی حالت بہتر ہوسکتی ہے
👈والدین پر اخراجات کا تھوڑا سا بوجھ کم ہو سکے گا۔
👈جب بولے…
[1:00 PM, 6/4/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: گستاخی اور ہمارا فریضہ

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

حکومت فسطائی، پولس نفاق سے لبریز، انتظامیہ دو رخا پن میں منہمک، عدلیہ ظالم کا ساتھ نبھانے والی۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر میڈیا زہر اگلنے والا۔۔۔
ایسے میں ہماری معصومیت یہ کہ
اس ملک کے ”جمہوری اقدار پر مبنی امبیڈکر کے قانون” پر چلنے کا اعتقاد کی حد تک یقین۔۔۔۔۔

گستاخئ رسالتمآب ص کی بات ہو یا مساجد و دینی شعائر کی توہین یا اور کوئی مسلمانوں سے متعلق مسئلہ۔۔
ان سب کا حل کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے؟
👈احتجاج
👈راستہ روکو
👈مارکیٹ بند
👈ایف آئی آر درج
👈جیل بھرو
👈عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا
جبکہ ہر چہار جانب سے دھتکارا جارہا ہو۔
اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے عزائم ہوں۔۔

مستقل حل کیا ہوسکتا ہے اس کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔

کیا اللہ کے رسول ص کے زمانے میں اس قسم کے واقعات رونما ہوتے تھے؟
اگر ہوئے تھے تو آپ …
[9:17 PM, 6/5/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: اللہ قبول کرے
ایک ایک محب رسول کی قربانی اور خون بارگاہ رب العزت کے دربار میں شرف قبولیت حاصل کرلے۔۔۔۔

گستاخئ رسالت کی جرأت وہی کرسکتا/کرسکتی ہے جو زنیم (بداصل) ہے۔۔۔۔
بی جے پی نے نوپور شرما کو ابتدائی رکنیت سے چھے سال تک معطل کردیا۔
یہ درحقیقت مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک میں بڑھتی مخالفت کا ردعمل ہے۔۔

یقیناً ملکی مسلمانوں کی ناراضگی، بڑے پیمانے پر ٹویٹر ترینڈ اور خاص کر کانپور کے مسلمانوں کی قربانی کا بڑا اہم رول رہا۔۔۔

کیا ہی بہتر ہوتا کہ مسلم ممالک ملک سے ایکسپورٹ ہونے والا حرام یا مشکوک گوشت کی خریدی پر بھی نظر ثانی کرتے!!!

ناموس رسالت کا معاملہ ہو یا مسلمانوں پر ظلم و جبر کا مسئلہ۔۔
شریعت مطہرہ میں مداخلت کا امر ہو یا قرآنی آیات کا ایشو یہ تمام امور حکومتی اور سفارتی سطح پر حل کئے جانے چاہئے۔۔۔

اس سلسلے میں خموشی یا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اعرا…
[10:57 AM, 6/7/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ملک میں اکثر و بیشتر کسی نہ کسی مسئلہ میں ہندو مسلم جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔
بات در اصل یہ ہے کہ انسانی سماج میں لڑائی جھگڑے عام اور روزمرّہ زندگی کا ایک حصہ ہیں۔
لیکن یہاں رونما ہونے والا ہر جھگڑا ”ہندو مسلم” کا رنگ لیتا ہے، پھر دونوں کمیونیٹیز کے بیچ، ”تو تو” ”میں میں” سے لے کر پتھراؤ۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے ہندؤں کا جنونی طبقہ تلوار، لاٹھی اور ڈنڈے لہراتے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، اور مسلم مکانوں اور دوکانوں کو نذر ْتش کرجاتے ہیں۔۔
ایک طرف پتھر تو دوسری جانب ڈنڈے، تلوار اور آگ۔۔
طاقت کا توازن دیکھئے۔۔۔۔۔۔۔
خیر!
تعجب خیز معاملہ یہ ہے کہ جب کبھی ایسی کوئی بات رونما ہوتی ہے تو ملک کی پولس کا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ اور کیا ہوتا ہے؟
پولس لاء اینڈ آرڈر اور امن قائم کرنے اور قائم رکھنے کی ذمہدار ہے۔۔
مگر کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ دونوں گروہوں کے درمیان کھڑی ہو …
[12:28 PM, 6/11/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: مواقع کا صحیح استعمال

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

یقیناً ہم کمزور اور جذباتی ضرور ہیں۔
یقیناً ہم اعمال و اخلاق کے اعتبار سے بھی مضبوط نہیں ہیں۔۔
زمانے کے چلتے اسلامی نظم اجتماعیت کے بکھرنے کی وجہ سے ہم ضرور بکھرے اور منتشر ہیں۔۔
طاقت و قوت بھی نہیں ہے۔۔
دولت و اسباب بھی نہیں ہیں۔۔۔

مگر ان سب کمزوریوں کے باوجود رسول اکرم ص سے جذباتی حد تک لگاؤ، محبت اور فدائیت ہے۔۔
رسول اللہ ص کے پاؤں میں کانٹے تک کو گوارا نہیں کر سکتے چہ جائے کہ کوئی توہین و تذلیل کرے۔۔۔
ومکروا ومکر اللہ کے اصول کے تحت:
بکھرے، پچھڑے، منتشر، مقصد زندگی اور نصب العین سے دور مسلمانوں کی عظمت کو بحال کرنے اور کفر و شرک کے علمبرداروں کی طاقت و قوت اور حکومت کے غرور کو نیچا کرنے کا فیصلۂ خداوندی ہے۔۔
اس کو حکمت و تدبر، ہمت و دور اندیشی کے ساتھ اسلام کی قوت و غلبہ، اقامت دین اور قیامِ عدل و قسط کا …
[6:46 AM, 6/13/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: کاموں کی تقسیم ہو۔۔۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

کچھ کام عوامی سطح کے ہوں۔۔
کچھ کام علمی ہوں۔۔
اور کچھ کام حکومتی سطح پر ہوں۔۔
سب ہم ہی نمٹیں گے۔۔۔۔ ممکن نہیں۔

طاقت و قوت کا مظاہرہ عام عوام کا کام نہیں۔۔ یہ کام عوام کرےگی تو ہلاکت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکےگا۔

حکومتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہیں۔
مصنوعات کا بائیکاٹ کرسکتی ہیں۔
باصلاحیت اصحاب علم کو دعوت، مجادلہ کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔
اور وقت آنے پر طاقت و قوت کا استعمال بھی کرسکتی ہیں۔۔

نہتوں کو اس کام سے پرہیز کرنا ہوگا، بالخصوص آج کی حالات میں، کیونکہ اس کا انجام تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

علماء، دانشور حضرات اور عوام طاقت و زور آزمائی اور راست ٹکراؤ کے بغیر گلی، محلوں سے لے کر دلی تک سیرت کے پیغام کو اس طرح عام کرے کہ ہر کچے اور پکے گھر میں اسلام کا کلمہ پہنچ جائے۔
اس سلسلے میں نہ ش…
[9:14 AM, 6/16/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید کہ بخیر و عافیت ہوں گے۔

اسلام اور اہل اسلام کی منافرت سے آگے بڑھ کر ہمیں اقامت دین، قیام عدل و قسط کی بات کرنے کی ضرورت ہے۔۔
آج ملک کے حقیقی مسائل اس سے آگے کے ہیں۔۔
👈انسان انسان کی غلامی میں بندھا ہوا ہے
👈ادیان باطلہ کے بوجھ اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔
👈اونچ نیچ، طبقاتی کشمکش میں مبتلا ہے
👈معاشی مسائل: مہنگائی، کساد بازاری، مارکیٹ مافیا سے انسانیت بلبلا رہی ہے۔
👈تعلیم انسانیت سے عاری ہوچکی ہے۔۔۔
👈نظام عدل ٹھپ پڑا ہوا ہے۔
👈ہر طرف انارکی پھیلی ہوئی ہے۔۔

ایسے میں ہم مسلمانوں کی ذمےداری بحیثیت ”خیر امت” دوہری ہوجاتی ہے۔۔۔
ربعی بن عامر رض کی زبانی
الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادۃ العباد الی عبادۃ الله ، ومن جور الادیان الی عدل الاسلام، ومن ضیق الدنیا الی سعتھا۔۔۔۔
اللہ نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم بندوں کو بندوں کی غل…
[2:08 PM, 6/18/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: اگنی پتھ اور اگنی ویر نئی اسکیم نئی پالیسی

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

مرکزی حکومت نے فوج میں بھرتی کے لئے ایک نئی اسکیم ”اگنی پتھ” کا اعلان کیا۔۔
فوج میں ملازمت صرف چار سال کی مدت کے لئے ہوگی، چار سال بعد ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑے گا، صرف پچیس فیصد ہی کی تقرری موجودہ طویل میعاد کے اصول کے مطابق برقرار رہےگی یا مستقل کردی جائے گی۔۔۔
ماباقی سبکدوش نوجوان فوجیوں کے لئے دیگر میدانوں میں ملازمت کے دروازے کھلے ہوں گے۔

عجیب منطق مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کی جارہی ہے۔۔۔۔۔
اور سابق (نوٹبندی، جی ایس ٹی) کی طرح سے ہی اس کے فوائد گنوائے جارہے ہیں۔۔

پس پردہ بہت سی وجوہات ہیں اور ہوسکتی ہیں:
👈مرکزی حکومت پر اخراجات کا بوجھ کم ہو۔
👈اسرائیل کی طرح ملک کا ہر نوجوان فوجی تربیت پانے والا بنے۔
👈خاص اپنی فکر کے لوگ باضابطہ فوجی تربیت حاصل کر سکیں۔
👈راشٹرواد کی جڑیں مض…
[9:47 PM, 6/21/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ہندو راشٹر اور گریٹر اسرائیل

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

بالموم ہمارے ملک میں ہندو راشٹر اور عرب ممالک میں گریٹر اسرائیل کے قیام اور اس کے وقت کی قربت کے سلسلے میں بہت چرچے ہوتے رہتے ہیں،
اور بڑے بڑے علمائے کرام بھی اس بات کو بڑے پر زور اور پر اعتماد انداز میں بیان کرتے رہتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل قائم ہوگا ، اس کی سرحدیں یہاں وہاں تک رہیں گی!!!!
اور حدیث میں اس بات کی پیشین گوئی کی گئی۔۔۔
نیز بھارت میں بھی یہی بات کئی سالوں سے دوہرائی جارہی ہے کہ یہاں ہندو احیاء پسند تنظیمیں ہندو راشٹر کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہیں۔۔۔
اور اب تو معاملہ یہ ہے کہ ملک کا صدر، وزیراعظم، وزیر داخلہ، دفاع، تعلیم، مالیہ، خارجہ، الغرض تمام کی تمام مرکزی وزارتیں ان کے پاس ہیں، نیز کئی ایک ریاستوں میں ریاستی حکومتیں بھی انہی کی ہیں۔۔۔
2024 میں باضابطہ اس کا اعلان کیا جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
جی! یہودیوں کا نصب العین گریٹر اسرائیل کا قیام ہے اور آر ایس ایس کا ہندو راشٹر قائم کرنا ہے۔۔۔
عیسائی حضرات تو ایکدم سے یہودیوں کی جوتیوں میں بیٹھے ہیں، خود سے کچھ سوچنے کی صلاحیت ان کے پاس ہے ہی نہیں۔۔۔۔ اسی طرح جس طرح یہاں کی دوسری غیر مسلم آبادیاں برہمنوں کی جوتیوں میں گری پڑی ہیں۔۔۔۔۔

ہر ایک کا اپنا نصب العین واضح ہے۔۔۔
اور اگر واضح نہیں ہے تو بس مسلمانوں کا نصب العین واضح نہیں ہے۔
بلکہ یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں میں سے اکثریت بالخصوص خواص علمائے دین ہی کے پاس کوئی نصب العین نہیں ہے۔۔۔

تقاریر تو عمدہ ہوتی ہیں
اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
سورۃ آل عمران3، آیت139

تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

الاسلام یعلو و لا یعلیٰ علیہ۔۔۔
اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں

لیکن ؟؟؟

اسلام اپنی حکمرانی چاہتا ہے، رسول اللہ ص نے بالفعل اسلام کو نافذ کیا ہے۔
اور صحابۂ کرام کی ایک بڑی جماعت نے اس مشن اور نصب العین کو جاری رکھا، عملاً خلافت راشدہ کی مثال دنیا کے سامنے پیش کی۔
باوجود اس کے آج نصب العین غیر واضح یا اس سے تجاہل مجرمانہ غفلت کی حد تک!!!
اب رونے دھونے کے سوا کوئی کام باقی بھی رہے گا؟!
دنیا کا دستور، سنت اللہ تو یہی ہے کہ جو جس کام کے لئے محنت و جدوجہد کرے گا، اس کو اس کا پھل ملےگا۔۔۔
لوگ اپنے نصب العین ۔۔گرچہ غلط اور سو فیصد غلط۔۔ کے لئے کوشش کررہے ہیں تو ان کو ان کا پھل ملےگا ہی۔۔۔
اور ہم اپنے نصب العین ”ان اقیموا الدین و لا تتفرقوا۔۔ دین قائم کرو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔۔.’ سے مجرمانہ غافل، تو ہمیں ہمارے اپنے کئے کا پھل ملےگا۔۔۔

یہودیوں اور ہندو احیاء پسندوں کو جتنا یقین گریٹر اسرائیل اور ہندو راشٹر کے قیام کا ہے، اس سے کہیں زیادہ ایمان اور یقین ہے کہ یہ سلطنتیں قائم نہیں ہو سکتیں ۔۔۔ ان شاءاللہ۔

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟﴿۱۹﴾
سورۃ آل عمران3، آیت19

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے.

وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾
سورۃآل عمران3، آیت85

اس فرماں برداری ( اسلام ) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔

اسلام کے سوا کوئی اور نظام حیات نہ انسانوں کے حق میں مفید ہوسکتا ہے اور نہ وہ قائم رہ سکتا ہے،،، یہودیت و برہمنیت تو انسانیت کے دشمن ہیں۔
ان کا قیام گویا توحید باری تعالیٰ اور رسالت محمدی ص کے منافی ہے۔۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
21/6/2022
[9:51 PM, 6/21/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: بالعموم
[11:05 AM, 6/22/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: عہد جو اسکولوں میں پڑھایا جاتاہے۔۔

شیخ رکن الدین ندوی نظامی

نرسری سے اسکولوں میں روزانہ صبح صبح بچوں کی اسمبلی ہوتی ہے، جس میں مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں، ہلکی سی ورزش، اخبار کی سرخیاں، دعائیہ کلمات، دیش بھکتی کے گیت وغیرہ۔۔۔۔
ان سب میں اہم وہ عہد ہوتا ہے جو سب کو پڑھایا بلکہ لیا جاتا ہے، ملک کی تمام زبانوں میں اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔۔۔۔
India is my country.
All Indians are my brothers and sisters.
I love my country and I am proud of its rich and varied heritage.
I shall always strive to be worthy of it.
I shall respect my parents, teachers, and elders; and treat everyone with courtesy.
To my country and my people, I pledge my devotion.
In their well-being and prosperity alone lies my happiness.

ایک بہترین عہد ہے، نرسری تا دسویں جماعت تک مکمل تیرہ سال یہ عہد پڑھایا، رٹایا جاتا ہے ۔۔۔۔
لیکن جب یہی بچہ پولس میں داخل ہوجاتا ہے تو اس عہد کی دھجیاں اڑاتا نظر آتا ہے۔۔۔ امیروں کے ساتھ ایک رویہ غریبوں کے ساتھ دوسرا۔۔
اپنوں کے ساتھ ایک سلوک دوسروں کے ساتھ دوسرا۔۔۔
پولس کی ایک مثال دی گئی ورنہ ہمارے ملک میں ہر منصب و عہدہ پر فائز سرکاری ملازم اونچ نیچ، اپنے پرائے کا شکار ہے۔۔۔
اور یہی لڑکا جب کوئی پولیٹیشن، سیاسی رہنما بنتا ہے تو اس کی رگ رگ میں اس عہد کی مخالفت کا خون کھولتا رہتا ہے۔۔۔ اور اپنی سیاسی منفعت و مفاد پرستی کی خاطر ہر قسم کے فساد اور توڑ پھوڑ کو حلال کرلیتا ہے۔۔۔۔۔
مذہبی بڑوں بالخصوص پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کی شان میں ہتک کرنا گویا بعض کا شیوہ بن جاتا ہے۔۔۔
جمعہ کے پر امن احتجاجی ریلی میں پتھراؤ کروانا، گولیاں چلانا، ملزموں کو قید و بند کی سلاخوں مین بند کرکے بےتحاشا مارنا، گھروں پر بلڈوزروں کو چلانا گویا دیش کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف اور عزت و توقیر کی نیت سے کیا جارہا ہو۔۔۔۔

اور یہی طلباء اگنی پتھ اسکیم کی مخالفت کرتے ہیں یا کوئی اور احتجاج پر اتر آتے ہیں تو تیرہ سال رٹایا ہوا عہد نہ صرف بدعہدی میں بدل جاتا ہے بلکہ ایک ایک حرف پر آگ لگائی جاتی ہے۔
ٹیچرس کی محنت اکارت جاتی ہے۔
والدین کے ارمان خاک میں مل جاتے ہیں۔
اور ہموطنوں کی مشکلات دوگنی سہ گنی کردی جاتی ہیں۔۔۔
پانچ دن کے توڑ پھوڑ میں پانچ ہزار کروڑ کا نقصان کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
یہ کیسی دیش بھکتی ہے؟
یہ کیسی وطن پرستی ہے؟

کون ان نوجوانوں کو قاتل، دنگائی، فسادی اور نفرت کی آگ میں جلابھنا بنا رہے ہیں؟
ملک کا سمت سفر کہاں سے کہاں جارہا ہے؟۔۔۔۔۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
22/6/2022
[7:44 AM, 6/24/2022] Ruknuddin Saheb Nadwi: ملک کو کس کے رحم کرم پہ چھوڑے جارہےہو؟

شیخ رکن الدین ندوی نظامی
جامعہ اسلامیہ حیدرآباد

2014 پارلیمانی انتخابات شاید ملک کی تاریخ میں انتہائی بدبختانہ انتخابات رہے
ایک مخصوص ذہنیت و جذبات کا ٹولہ مرکز پر قبضہ جمانے تقریباً چار سو سے زائد
انتخابی جلسے کرتےہوئے ایک سو تیس کروڑ عوام کو بےوقوف بناتا، ہتھیلی میں جنت بتاتا، سبز باغ دکھاتا دلی پارلیمنٹ میں جا براجمان ہوا۔
پنج سالہ میقات میں پسماندہ طبقات بالخصوص دلت اور آدیواسی اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر جور و جبر اور ظلم و ستم ڈھانے کےلئے انتہائی زہریلے اور خونی ٹولے کو سانڈ کی طرح کھلی چھوٹ دےدی، جس کے نتیجے میں مرکزی پشت پناہی کے گھمنڈ میں بدمست ہاتھی کی طرح کھلے عام گھروں میں گھس کر، سڑکوں، بازاروں، دوکانوں اور عبادت گاہوں میں سینکڑوں کا اجتماعی قتل کیا
👈کبھی گاؤکشی کے نام پر
👈کبھی زمین و جائداد کے مسئلے کو بنیاد بنا کر
👈کبھی اپنی تہذیب و عقیدے کو بالجبر تھوپنے کےلیے

معاشی ترقی کے مختلف اسکیمات (پانچ ٹریلین ڈالر ایکونومی) کو متعارف کرواتے ہوئے عوام کو دھوکہ سے لوٹ لیاگیا
👈کبھی نوٹ بندی
👈کبھی جی ایس ٹی
👈بسا اوقات بینکوں کو مرج اور کولاپس کرکے
👈اور سیاہ تاریخ کا بدترین باب ریزرو بینک کا محفوظ خزانہ ہتھیا کر۔

اقلیتوں کے حقوق سے کھلواڑ کرتے ہوئے اکثریت کو لوٹا اور بےوقوف بنایا گیا
👈کبھی کشمیر کے خصوصی موقف دفعہ 370 اور 35A کو بیک جنبش قلم ختم کرکے
👈کبھی آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دیتے ہوئے این آر سی کروا کر
👈کبھی پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ پر بحث کرواتے ہوئے
👈کبھی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے حق میں سپرم کورٹ کے ذریعے ناجائز فیصلہ دلوا کر
👈اکثر جمہوری آئینی حقوق چھین کر۔

2019 انتخابات میں مرکزی حکومت سے عوام بد ظن ہورہی تھی مگر عوامی ذہنیت کو پھیرنے اور جیتنے کےلئے دو حربے اپنائے گئے
👈ایک ای وی ایم سٹنگ
👈دوسرے پلوامہ حملہ
جس سے لوگوں کو قریب کیا گیا اور اس سلسلے میں باور کروایا گیا کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے تو ممکن ہے۔

اس طرح دوسری میقات میں ملک مکمل قربان و کنگال ہونے، سماجی تانا بانا ٹوٹنے، کشت و خون کی ہولی کھیلنے کےلئے مکمل تیار ہوگیا۔

میقات دوم کے ایک سال میں پارلیمنٹ میں غلبہ و اکثریت کی طاقت سے سی اے اے منظور کروایاگیا
شہریت ترمیمی بل کی آڑ میں تعلیمی اداروں کی ساکھ مٹی میں ملائی گئی
عوام کو بالخصوص خواتین کو سڑکوں پر اترنا پڑا
بےروزگاری مہنگائی اپنے عروج کو پہنچی
دلی اسمبلی انتخابات کی ہار کا بدلہ فسادات کے ذریعے لیاگیا
سینکڑوں کا خون بہا
ہزاروں مکانات خاکستر ہوگئے
کروڑوں کا نقصان ہوا
اور سب سے بڑھ کر سماج میں خوف اور عدم اعتماد کے ساتھ دوریاں پیدا ہوئیں۔

اسی درمیان عالمی وبا کے نتیجے میں ملک کی صورتحال یکسر بدل گئی
منظرنامہ بدل گیا
لوگ گھروں میں محصور ہوگئے
کاروبار ٹھپ پڑگئے
بھوک مری عام ہونے لگی
مزدور ہجرت پہ مجبور ہوگئے
دانے دانے کےلئے ترسنے لگے
کروڑوں لوگ بےروزگاری کا شکار ہوگئے۔

عین اس موقعے پر ملک کو ملت اسلامیہ نے اپنے سارے مسائل و مشکلات کےباوجود سنبھالا
خود بھوکے رہے اوروں کا پیٹ بھرتے رہے

ضروریات زندگی کی فراہمی کے بجائے مرکزی حکومت نے لوگوں کا مذاق اڑایا
ایک لاکھ پچھہتر ہزار کروڑ کا اعلان کرکے پٹرول کی قیمت بڑھائی گئی
بیس لاکھ کروڑ کے غیر معقول پیکیج کے ذریعے ایک سو تیس کروڑ عوام کا ٹھٹھا کیاگیا۔

اور اب تازہ ترین صورتحال لداخ سرحد پر چین انڈیا کا تنازعہ
عین لڑائی کی حالت میں مرکزی حکومت نے یہ کہہ کر کہ فوج ذمےدار ہے اپنا دامن چھڑالیا
یہ ملک کو کس کے رحم کرم پہ چھوڑےجارہےہو؟
پس اپنے آپ میں ایک سوال ہے
فاین تذھبون؟

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو21/جون/2020




Comments are closed