اپنے اندر ابراہیم سا ایماں پیدا کیجئے

محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر

ابتلاء و آزمائشیں ایمان کا لازمی عنصر ہے۔ جہاں ایمان و یقین ہوگا وہاں آزمائشیں ہوں گی، امتحانات ہوں گے، مجاہدے ہوں گے، قربانیاں ہوں گی۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کے شروع کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا کہ بس وہ یہ کہہ دیں ” ہم ایمان لے آئے” اور انہیں آزمایا نہ جائے؟ حالانکہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں‘‘۔( العنکبوت )
آزمائشوں سے انسان کی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔ امتحانات سے کھرے اور کھوٹے کی پرکھ ہوتی ہے اور قربانیوں سے اس کا مقام و مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور جس درجے کا ایمان باللہ اور تعلق مع اللہ ہوگا امتحانات اور آزمائشیں اسی درجے کی ہوگی۔

انبیاء علیہم السلام کی زندگی آزمائشوں سے بھری پڑی ہیں کیوں کہ وہ اللہ کے سب سے زیادہ مقرب تھے۔ اسی لئے انہیں آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالا گیا، سخت امتحانات لئے گئے، بڑی سے بڑی قربانیوں اور مجاہدوں سے انہیں گزارا گیا تاکہ ان کی امت پر جو حالات آئے، آزمائشیں آئے یہ امت ان کی قربانیوں سے، ان کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کرے اور استقامت اور مضبوطی کے ساتھ اپنے دین و ایمان پر قائم رہے۔

موجودہ دور میں مسلمانانِ بھی انہیں ابتلاء و آزمائشوں سے دوچار ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ آزمائشیں مزید بڑھ گئیں ہیں۔ لیکن یہ آزمائشیں اور یہ حالات ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ وقتی اور عارضی ہیں۔ ایسے حالات میں ہمیں انبیاء علیہم السلام کی زندگی میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے اس طرح کے حالات میں کیسی کیسی قربانیاں دیں اور کس طرح ان امتحانات میں سر خرو ہوئے۔

قرآن کریم میں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کو جگہ جگہ بیان فرمایا گیا ہے تاکہ مشکل حالات میں ہم آپ کی سیرت و سوانح سے فایدہ اٹھا کر دنیا و آخرت کی زندگی میں کام یاب ہو جائیں۔
سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ، آپ کی سیرت ، آپ کا اسوہ ، آپ کا ایمان و استقامت ، آپ کی توحید پرستی اور آپ کی دعوت و تبلیغ موجودہ حالات میں ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ قرآن نے آپ کے کردار کو ایک مثالی کردار کی حیثیت سے متعارف کرایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے کئی امتحانات لئے اور ان تمام امتحانات کو آپ نے بخوشی قبول فرمایا اور پورا بھی کرکے دکھایا۔

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت ایک ایسے زمانے میں ہوتی ہے جہاں ہر طرف کفر و شرک کی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ لادینیت اور لا مذہبیت کا دور تھا۔ خدا فراموش کرکے اور خود کو فراموش کرکے زندگی جی رہے تھے۔ وقت کا بادشاہ ” نمرود ” خدا کا انکار اور خود خدائی کا دعویدار تھا ۔ ایسے حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھیں کھولیں۔ سن شعور کو پہنچے تو گھر کو بت کدہ پایا اور باپ کو بت پرست ، بت ساز اور بت فروش۔ یہ دیکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ نے دعوت کا کام اپنے گھر سے شروع کیا اور صاف لفظوں میں فرمایا کہ میرے ابا آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سن سکتی ہے نہ دیکھ سکتی ہے نہ کچھ فایدہ پہنچا سکتی ہے۔ آپ نے بڑی محبت اور بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے والد کو توحید کی دعوت دی۔ ایک اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا۔ آپ نے دین کی اساسیات کی طرف بلایا۔ توحید و رسالت اور آخرت کا واضح تصور پیش کیا لیکن ان کے والد کی طرف سے دھمکی آمیز باتیں سننے کو ملی کہ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا یہاں تک باپ نے اپنے ہی بیٹے کو گھر سے باہر نکال دیا۔

آپ کی دعوت اور قربانی کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ آپ نے بیک وقت اپنے والد اور قوم دونوں کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر مثلاً الانعام ، الانبیاء ، الشعراء ، العنکبوت اور الصافات وغیرہ میں اس کے تذکرے موجود ہیں۔ لیکن آپ کی قوم بھی بڑی سرکش اور ہٹ دھرم ثابت ہوئی۔ بت پرستی کی جڑیں ان میں رچ بس گئی تھیں۔ چنانچہ آپ کی قوم بحث و مجادلے پر اتر آئی۔ اپنے معبودوں سے ڈرانے اور دھمکانے لگی۔ آپ علیہ السلام نے کہا کہ تمہارے یہ معبود کسی کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے ہر چیز اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔

آپ کی دعوت اور قربانی کا تیسرا مرحلہ یہ تھا کہ آپ اپنی قوم سے نکل کر بادشاہِ وقت ” نمرود ” کے دربار میں حاضر ہوئے اور وقت کے سپر پاور کو وحدہ لاشریک کی دعوت دی لیکن طاقت کے نشے میں چور ہو کر اس نے بھی انکار کر دیا اور خود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا۔ آپ نے اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی اس نے انکار کر دیا۔ آپ نے اللہ کی خالقیت کی دعوت دی اس نے انکار کردیا۔ جب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تو اس نے آپ علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کی ٹھان لی۔ چنانچہ بادشاہ نے بغاوت کے جرم میں آپ کو قید کرکے زندہ جلائے جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ اللہ کے اس خلیل نے خود کو آگ کے حوالے تو کر دیا لیکن اپنی قوم کے عقائد ونظریات کو قبول کرنا گوارا نہیں کیا۔
قربانیوں کا یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آگ تو آتش عشق میں جل کر ٹھنڈی ہو گئی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے گھر ، اپنی قوم اور وطن کو خیرباد کہا اور فلسطین ہجرت کر گئے پھر وہاں سے مصر تشریف لے گئے پھر اپنی بیوی ( ہاجرہ ) اور بچے ( اسماعیل ) کو مکہ کے چٹیل میدان میں حکم خداوندی کی خاطر چھوڑ کر چلے گئے۔ پھر آپ سے ایک عظیم قربانی کا مطالبہ کیا گیا کہ آپ اپنے لخت جگر ، نور نظر ، بڑھاپے کا سہارا ، جان سے زیادہ عزیز حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات نے دیکھا کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے اپنے لخت جگر کی شہ رگ پر چھری چلا کر یہ عظیم قربانی بھی پیش کر دی۔ یہ ساری قربانیاں یکے بعد دیگرے آپ دیتے رہے اور اللہ کا یہ خلیل ہر قربانی میں کام یاب ہوتا رہا۔
ان تمام قربانیوں کے بعد آپ علیہ السلام کو دنیا کی امامت کا منصب عطا کیا گیا۔ آپ کی سیرت و کردار کو مثالی کردار کہا گیا اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے آپ کی شخصیت کو نمونہ بنا کر پیش کیا گیا۔
موجودہ حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے اندر ابراہیم سا ایماں پیدا کرے۔ آپ کی سیرت و سوانح کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی کا رخ متعین کرے۔ آپ کے جیسا ایمان و یقین پیدا کرے۔ اللہ کی وحدانیت کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ معبودانِ باطلہ کا سختی سے انکار کرے۔ عقیدہ آخرت کو واضح انداز میں بیاں کرے۔ اللہ کی خاطر ہر مصیبت کو برداشت کرلے۔ اللہ کے دین کے لئے ہر طرح کی قربانی کو دل سے گلے لگا لے۔ اپنے اندر اسوہ ابراہیمی کو زندہ کرے۔ شرک و کفر سے بے نیازی کا اعلان کرے۔ اپنے اندر کامل اطاعت الٰہی کا جذبہ ، عبادت گزاری ، صداقت و وفا شعاری ، مہمان نوازی ، حلم و بردباری ، استغفار و انابت ، شکر و دعا اور والدین کے اچھا سلوک کرے تو ان شاءاللہ یہ مشکل حالات گزر جائیں گے۔ شرط ہے اپنے اندر ابراہیم سا ایماں پیدا کرنا پھر دیکھئے کہ آگ ہمارے لئے گلستاں پیدا کرے گی۔




Comments are closed