LifeStyle

now browsing by category

 

Eik Mazloom MardeMujahid Ka UmmateMuslima key Naam Paigham!

*پانچ سالہ قید وبند کے ایمان افروز محسوسات*

ڈاکٹر صلاح سلطان

*(ڈاکٹر صلاح سلطان مصر کے زبردست عالم، داعی اور مربی ہیں، پانچ سال قبل فوجی باغیوں نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا، تو ہزاروں اسلام پسندوں کے ساتھ ڈاکٹر صلاح سلطان بھی جیل میں بند کردئے گئے، پانچ سال گزرنے پر انہوں نے جیل کے اندر سے اپنے احساسات رقم کر کے بھیجے، کچھ حذف واختصار کے ساتھ اس ایمان افروز تحریر کا ترجمہ پیش ہے۔ محی الدین غازی)*

جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں کھلا ہوا ظلم سہتے سہتے پانچ سال گزر گئے، ان برسوں میں ایسی ایسی سختیاں اور اتنے ظلم وستم ہوئے کہ پانچ سال کئی صدیوں کی طرح لگے، لیکن اس عرصے میں اللہ کے اتنے انعام اور ایسے کرم ہوئے کہ لگا ایک حسین دور تھا جو لمحوں میں گزر گیا۔

جرم وخیانت کے ہاتھوں نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا وہ تو سارا کا سارا اللہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہورہا ہے، وہ داستان ایسی ہولناک ہے کہ اس کا کوئی ایک حصہ بھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے ہمیں وہ جمیل صبر عطا کیا، وہ بے لوث استقامت دی، اور وہ زبردست حوصلہ دیا کہ جس سے ایمان والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پاک کے حوالے کردیا، ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات سے فضل وکرم، فرحت ومسرت اور فوز ونصرت کا انتظار ہے۔ وہ ہمارا مولی ہے، اور ظالموں کا تو کوئی مولی ہی نہیں ہے۔

پانچ برس کی یہ کچھ تصویریں ہیں، جو میں بھیج رہا ہوں ان کے لئے بھی جو عشرت کدوں میں بیٹھ کر ہم پر ہنستے ہیں اور ان کے لئے بھی جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔

پہلی تصویر: ظالموں نے ہمیں قیدخانوں کی مضبوط دیواروں اور آہنی سلاخوں کے درمیان ہر طرح سے مقید کردیا، ایسے میں رب رحمان نے ہم پر آسمان سے رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دئے، سیکھنے کی طلب اور بندگی کے شوق ہمارے پر بن گئے، اور ہم اللہ سے قریب ہونے کے لئے بیتاب ہوئے اور عرش کے گرد پرواز کرنے لگے۔ جیلوں میں محض ہمارے جسم رہ گئے، ہماری روحیں اور ہمارے دل ودماغ مقام علیین کی بلندیوں کا لطف لیتے رہے۔

دوسری تصویر: انہوں نے ہم پر جھوٹی تہمتیں لگائیں، عدالتی کارروائیوں کے ڈرامے رچے، اور ہمارے خلاف سزائے موت اور عمر قید کے فیصلے کئے، ہم نے پیکر تسلیم ورضا بن کر ہر آزمائش کا سامنا کیا، سو اللہ نے ابدی محبت سے ہمیں ڈھانپ دیا، پمارے دل اللہ سے ملنے کے لئے بے تابی سے اچھلنے لگے، اور “جو اللہ سے ملنے کی چاہ رکھتا ہے، اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے” ہم میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹا۔

ہم اپنے بھائیوں کی آنکھوں میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوجانے کی مسکراہٹ اپنی آنکھوں سے دیکھتے، اور اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھتے کہ ظالم ججوں، جھوٹے گواہوں، اور جیل کے جلادوں کے چہروں پر نحوست اور بے اطمینانی چھائی رہتی ہے۔ ان پر غصے اور نفرت کی پرچھائیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ خدا کی قسم ہمارے سینوں کی کیفیت تو ایسی ہے کہ جیسے یہ نہایت وسیع وعریض باغات ہوں، جن میں ہرے بھرے درخت ہوں، ان میں لذیذ ترین پھل ہوں اور خوشبو بکھیرتے حسین وجمیل پھول کھلے ہوں۔

تیسری تصویر: انہوں نے ہمارے ہاتھوں سے قرآن چھین لئے، ایک عرصے تک ہمیں کتاب وقلم سے محروم رکھا، لیکن وہ بھول گئے کہ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس کی آیتیں سینوں میں محفوظ رہتی ہیں۔ ہم اپنے سینوں میں بسی ہوئی قرآنی آیتوں اور اپنے دماغوں میں آباد سنتوں کی رفاقت میں ایک خوب صورت زندگی گزارنے لگے، ہم قرآن میں پڑھتے تھے ” ہم نے اسے اپنی پاس سے رحمت سے نوازا اور خاص اپنے پاس سے اسے علم سکھایا” اس عرصے میں ہم نے اپنے اوپر رب کریم کی اس خاص نوازش کو خوب خوب محسوس کیا۔ کتابوں کے لئے ہم نے اللہ سے خوب دعا کی، پس اللہ نے کتابوں کی آمد کا راستہ بھی کھول دیا، ہم نے اس دور میں سچ مچ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں سے محبت کا لطف خوب خوب اٹھایا، کار خیر اور نفع غیر کی بے پناہ لذت پائی، میں کبھی ایک دن کبھی دو دن اور کبھی تین دن میں قرآن ختم کرلیتا، میری یہ زندگی سنت نبوی کے انوار میں اور فقہ وشریعت اور زبان وادب کے مدرسوں کے سائے میں گزری، میں نے اپنی زندگی کے ان پانچ سالوں میں علم ومعرفت کی اس قدر روشنی پائی جو اس سے پہلے کے پچیس سالوں سے کہیں زیادہ تھی۔ جن لوگوں نے ہم سے قرآن پاک اور کتابیں چھین کر ضبط کئے تھے، وہ جہالت اور حماقت دونوں سے دوچار ہوئے، اور آخرت کی سزا سے پہلے اسی دنیا میں اس سے بڑی آفت کوئی اور نہیں ہوسکتی ہے۔

چوتھی تصویر: انہوں نے ہم سے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کا لطف چھینا، ہمیں ہمارے اساتذہ اور طلبہ سے دور کیا، سمندروں، دریاؤں اور پرندوں اور گلستانوں کے مناظر ہم سے محجوب کئے گئے، لیکن خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں، ہم خوابوں میں اپنے بیوی بچوں اور اپنے اساتذہ اور شاگردوں کی رفاقت سے بھرپور نہایت شان دار زندگی کا لطف اٹھاتے رہے۔ میری پسندیدہ ریاضت تیراکی ہے، اللہ نے مجھے خوابوں میں خوب صورت ترین دریاؤں اور سمندروں کے ساحلوں میں تیراکی کے مزے کرائے، جہاں کوئی گندگی نہیں ہوتی تھی، اللہ نے ہمیں ایسے ایسے لذیذ کھانے کھلائے جیسے آزادی کے زمانے میں ہم نے کبھی نہیں کھائے تھے، حالانکہ میں نے دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے، اور انواع واقسام کے کھانے کھائے ہیں، واللہ ایسا لگتا کہ ہم اللہ کی جنت کے کھانے کھارہے ہیں۔ یہی نہیں ہم نے ایسی ہریالی ایسے پھل اور ایسے خوش نما باغات دیکھے جو دنیا میں ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری مظلوم آہوں کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ان کا حال ہوچھو جو دن رات ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے، ان کے گھروں میں کس طرح بغض ونفرت کی آگ لگی ہوئی ہے، گھر کا سکون کس طرح رخصت ہوگیا ہے، اور ان کے گھر کس طرح خود ان کے لئے تعذیب خانے بنے ہوئے ہیں۔

پانچویں تصویر: یہ ظالم ہمارے سلسلے میں حیرانی کا شکار رہے، انہوں نے ہمیں پیشہ ور اور نہایت خطرناک مجرموں کے ساتھ رکھا، ان کی بدکلامی، ان کی بے تحاشا سگریٹ نوشی اور ان کی ایک ایک حرکت ہمارے لئے سخت اذیت کا باعث تھی، لیکن ہم نے ان کے لئے محبت کے پر بچھائے، ان کو خوب صورتی کے ساتھ سمجھایا، اللہ کے فضل سے انہوں نے توبہ کی، اور بہترین توبہ کی، اور قرآن وسنت یاد کرنے میں ایسا لگے کہ آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، یہ دیکھ کر ان ظالموں نے ہمیں وہاں سے ہٹادیا، اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ رکھ دیا۔

میری تمنا
جیل کی ان تصویروں کے ساتھ میری کچھ تمنائیں بھی منسلک ہیں:

کتنا اچھا ہو اگر ہم ایک منصوبہ پوری امت کے لئے لے کر اٹھیں، ہم فلسطین میں آزادی اور دفاع کی جدوجہد کرنے والوں کو چھوڑ نہ دیں کہ وہ تنہا غاصب صہیونی دشمنوں اور ان کی پشت پناہ صلیبی اور ملحد مغربی قوتوں کا سامنا کریں ، ہم اس منصوبے کو فلسطینی اسیروں کی آزادی سے لے کر مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کی آزادی کا منصوبہ بنادیں، اس طرح کہ یہ ایک اسلامی، عربی اور انسانی قضیہ ہوجائے، اور اس میں تمام اسلامی قومی اور عالمی انصاف پسند دھارائیں شامل ہوجائیں، اسے مسلمان مددگار بھی ملیں اور غیر مسلم مددگار بھی ملیں۔

اور کتنا اچھا ہو اگر پوری امت کو اسلام سے قریب کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے کا مشن ہم سب کا مشن بن جائے۔

میری قوم کے لوگو، یہ مشن وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے وقت میں ذرا بھی وسعت نہیں بچی ہے، ایک دن کی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں ہے، ایک ہی دن میں سیاسی میدان میں امت پر جبر واستبداد کا شکنجہ اور زیادہ کس جائے گا، معاشی میدان میں سود اور کرپشن میں اور اضافہ ہوگا، سماجی سطح پر بدکاری اور اباحیت اور بڑھے گی، صحافت میں جھوٹ اور بے حیائی اور بڑھے گی، خاندانوں میں تفریق اور بیزاری کی کیفیت میں اور شدت آئے گی، فرد میں لالچ اور خود غرضی کا زہر اور سرایت کرجائے گا، ملکی سطح پر پسماندگی بڑھے گی اور اخلاق میں اور گراوٹ آئے گی، اور دنیا بھر میں صہیونی اور صلیبی اور اشتراکی قوتوں کا قبضہ اور بڑھتا جائے گا۔ ان بڑے بڑے گناہوں کے ساتھ ہم اللہ کا سامنا کیسے کریں گے؟

مجھے عظیم دین اسلام کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں ہے، بندوں کے رب نے قرآن وسنت اور اس پیغام کی حامل جماعت کی حفاظت کے ساتھ اس دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے اپنے بارے میں، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں، کہ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہا جائے: “کیا ہم نے تمہیں وہ زندگی نہیں دی تھی، جس میں نصیحت لینے والا نصیحت لے لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا؟”

بار الہا، ہم پر اور ہماری امت پر جو حالت چھائی ہوئی ہے اسے دور کردے، اور ہم سے وہ کام لے لے جو تجھے سب سے زیادہ پسند ہو۔

ShaadateHaq

1. شہادتِ حق:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBSXI2U3BlMlZmdkk
2. بنائو اور بگاڑ:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBZEtUTlVyT3ZhQnM
3.سلامتی کا راستہ:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBeGxvelRMSDEzNVk
4. اسلام اور جاہلیت:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBeTdRVWFyRkU3N2M
5. دینَ حق:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBZExUWV9rUGE5SUE
6. توحید و رسالت:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBYllLU1ZuNmlRZE0
7. تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBckhaUzV2c21XbXc
8. اسلام کا اخلاقی نظام:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBMXF5MGZvbk1tdHM
9. اسلام کا اخلاقی نقطئہ نظر:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBMXF5MGZvbk1tdHM
10. مسلمانوں کا ماضی، حال، اور مستقبل کا لائحہ عمل:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBQ0NROWk4YVEwV3c
11. جہادِ فی سبیل اللہ:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBRmtIOEFmQkVHSFE
12. اسلام کا معاشرتی نظام:
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBTjlOWTRhREpBcGM
13. اسلام کا سیاسی نظام
https://drive.google.com/open?id=0B6eel2b_U2FBWFU2SjZVeGNmZGc

National Dastak

https://www.youtube.com/channel/UC7IdArS3MibBKFsqckq8GhQ

Journalism For Sale.

MeToo Campaign

How to keep your brain active?

  1. https://youtu.be/-rByuKlHUYE

What is India’s caste system?

What is India’s caste system?

https://www.bbc.com/news/world-asia-india-35650616

A GOOD MESSAGE ABOUT LAST PROPHET OF ALLAH ! “MOHAMMED” !

A GOOD MESSAGE ABOUT LAST PROPHET OF ALLAH ! “MOHAMMED” !

As the United States Supreme Court judges sit in their chamber, to their right, front, and the left sides are friezes depicting the 18 greatest lawgivers of the world.

The second frieze to the right features a person holding a copy of the Quran, the Islamic holy book. It is intended to recognize Prophet Muhammad as one of the greatest lawgivers in the world, along with Moses, Solomon, Confucius, and Hammurabi, among others.

Here is what the Supreme Court’s website says about this frieze:

Muhammad (c. 570 – 632) The Prophet of Islam. He is depicted holding the Qur’an. The Qur’an provides the primary source of Islamic Law. Prophet Muhammad’s teachings explain and implement Qur’anic principles. The figure above is a well-intentioned attempt by the sculptor, Adolph Weinman, to honor Muhammad, and it bears no resemblance to Muhammad. Muslims generally have a strong aversion to sculptured or pictured representations of their Prophet.

In the year in which the frieze of Prophet Muhammad was erected, Franklin D. Roosevelt was president, and Charles Evans Hughes was the Chief Justice. It is not known how the court deliberated on this architectural contribution. No one at that time thought it inappropriate to include Prophet Muhammad as one of the greatest lawgivers of the world at the chambers of the United States Supreme Court. This was despite the fact that American society at that time was not as diverse as it is today. Women had just acquired the right to vote, and Japanese-Americans were about to be sent to concentration camps.

While the learned people in our country knew of the contribution of Prophet Muhammad, our neighbors today are given regular doses of misinformation about the Prophet and Sharia, the path of the Prophet, more commonly described as Islamic law.

Prophet Muhammad’s Peace And Justice Movement

Prophet Muhammad envisioned a just and peaceful society. With a mass peace movement, he achieved this goal during his life. He hated war and always preferred a peace treaty with his opponents, even if it was not favorable to his and his followers’ interests. He established his first peace sanctuary in the city of Madinah without any war whatsoever. While he did fight to defend that peace sanctuary, it is critical to note that the total time of actual fighting defending his people was not more than six days in his life of 63 years. He struggled to secure a peace that ensured justice and liberation for all people, especially for those most marginalized and oppressed.

Here are some of the Prophet’s notable contributions

  • He taught that there is one God for all mankind.
  • He taught Muslims to believe in all of the prophets and all divinely revealed scriptures, especially Biblical ones.
  • As the Prophet established a peace sanctuary called Madinah after his migration from Makkah, he negotiated treaties with the Jews and the pagans of Madinah. Muslims consider these treaties to be the first written surviving constitution in the world. The constitution guaranteed freedom of religion, self-governance, and legal autonomy in all matters. It called for the common defense of Madinah, and declared the Jews, pagans, and Muslims of that treaty to be one nation, or “one Ummah.”
  • He prohibited hunting and the cutting of trees in the peace sanctuary of Madinah.
  • He declared killing non-combatants to be illegal, placed severe restrictions on how warfare could be conducted, and even paid compensation for the killing of some dogs by one of his commanders.
  • The Prophet’s teachings and the Quran are the two major sources of Sharia. Some of his precepts include the following:
    • Moral behavior: personal cleanliness; emphasis on preservation and nourishment of all life forms, including plants and animals; rituals and spirituality of prayers; fasting and charity; righteous conduct and good deeds; and rights of parents, children, spouses, and neighbors.
    • Interpersonal relations: teaching to enhance human relations and to avoid breaking relationships; encouraging mutual consultation in all affairs; prohibiting bigotry and racism; and emphasizing kindness and hospitality toward others, especially the weak and the poor.
    • Financial guidelines: encouraging charity, rights of the poor, respect for workers, and rejection of exploitation; and circulation of wealth among all classes.
    • Personal rules and laws regarding privacy, gender relations, marriage, divorce, and inheritance.
    • Criminal laws implementing the many of the Ten Commandments. (The only one of the Ten Commandments not having a parallel statement in the Quran is the one having to do with keeping the Sabbath.) Less than two percent of Quranic verses deal with the criminal law of Islam, which is a part of the Sharia but not the totality of it.
  • The Prophet asked his judges to make things easy for people, not difficult.
  • He declared all sins forgivable as long as a person asks God’s forgiveness and that of the one who has been wronged.
  • The Prophet gave special emphasis to honoring treaties, standing up for justice, and opposing oppression.

Why Muslims Often Demand Sharia In The Muslim World

In the Muslim world, many Muslims are sick and tired of their corrupt leaders. As such, they demand Sharia, envisioning a return to a just and peaceful system like the time when a caliph would submit himself without any immunity to a judge on an equal footing with his accuser. The United Nations gives all nations the right to self-determination. That is how even in the U.S.-brokered constitutions of Afghanistan and Iraq there is importance given to Sharia principles.

Unfortunately, the brutal and often biased implementation of criminal law in some Muslim countries has given Sharia a bad name. The Prophet would be horrified to see this merciless brutality in the name of Islam by some Muslims.

It Is Against Sharia To Impose Sharia On Anyone!

Almost all the Sharia with which Muslim Americans deal relates to personal religious life, ethics, morality, and human relationships. Practicing Muslims live Sharia every day as they pray, fast, eat Halal (permissible in Islam) food, practice charity, raise families, and serve communities. Sharia is like Halacha, which is practiced by Jews in America. Jews in America even operate Jewish courts in the U.S., called Beth Din. Muslim Americans do not operate any such courts.

Muslim Americans are subject to U.S. laws, just like any other citizens. No Muslim has called for the replacement of the U.S. Constitution with Sharia. Sharia is neither a constitution nor is it all law. It is actually against Sharia to impose Sharia on anyone. Further, Sharia only applies to Muslims, not to non-Muslims.

Muslims have been demanding equal protection under the U.S. Constitution since their rights are regularly violated in the current Islamophobic environment in which we are living, where Muslims are continuously targeted and subjected to bigotry and prejudice.

America’s Founding Fathers were wise people. Today’s Islamophobes can learn a great deal from them. In the Treaty of Peace and Friendship (1796) between the United States and Tripoli they stated:

“As the government of the United States of America is not in any sense founded on the Christian Religion, as it has in itself no character of enmity against the laws, religion or tranquility of Musselmen (Muslims)…”

Further Reading

For more Muslim perspectives about Sharia please visit Sharia101.org.
Please also read Rose Wilder Lane’s Discovery of Freedom. She is the daughter of Laura Ingalls Wilder, of Little House on the Prairie fame. She considered Prophet Muhammad, Prophet Abraham, and the American Revolution to be the three major sources of freedom in the world.
Muhammad: A Prophet For Our Time, by Karen Armstrong, published by HarperCollins
Muhammad: His Life Based on the Earliest Sources, by Martin Lings, published by Inner Traditions.

Cooking Books

Cooking or cookery is the practice or skill of preparing food by combining, mixing, and heating ingredients.Cooking  is the art, technology, science and craft of preparing food for consumption. Food that has been prepared in a particular way is called cooking.Cooking techniques and ingredients vary widely across the world, from grilling food over an open fire to using electric stoves, to baking in various types of ovens, reflecting unique environmental, economic, and cultural traditions and trends.

The ways or types of cooking also depend on the skill and type of training an individual cook has. Cooking is done both by people in their own dwellings and by professional cooks and chefs in restaurants and other food establishments. Cooking can also occur through chemical reactions without the presence of heat, such as in ceviche, a traditional South American dish where fish is cooked with the acids in lemon or lime juice.

Preparing food with heat or fire is an activity unique to humans. It may have started around 2 million years ago, though archaeological evidence for it reaches no more than 1 million years ago.

The expansion of agriculture, commerce, trade and transportation between civilizations in different regions offered cooks many new ingredients. New inventions and technologies, such as the invention of pottery for holding and boiling water, expanded cooking techniques. Some modern cooks apply advanced scientific techniques to food preparation to further enhance the flavor of the dish served.

What Will Happen to Your Body If You Walk Every Day

https://www.forbes.com/video/5191376222001/

Discover Your Abilities

Take a Test 

Let us guide you through the Ticket to Work Program! We currently have four Employment Specialists dedicated to helping you reach your goals toward self-sufficiency.

Some of the one-on-one, personal services we currently offer include:
Career counseling
Cover letter and resume assistance
Job search assistance
Interview preparation
Benefits planning referral
Job retention services
Job accommodation planning

With the proper resources, we believe your abilities and potential are limitless. Our Employment Specialists work directly with a Vocational Rehabilitation Counselor who is also a Certified Rehabilitation Counselor to provide you with the resources necessary for you to succeed in the workforce as a self-sufficient individual. In order to reach your success, our services are most appropriate for people who:
Have access to a computer and the internet
Have access to a telephone
Have access to a printer
Are willing to dedicate the time necessary to the job search
Are motivated to make things happen for themselves
Want to earn enough to eventually come off of benefits and be self-sufficient

By joining us in working with the Ticket to Work program, you partner with us in providing the best services to you to assure success. Unfortunately, we are currently not able to accept applicants who are enrolled in classes or interested in a virtual or telecommuting position. Some of the benefits the Ticket to Work program provides are:

A Trial Work Period where you can see if you are able to work without risking losing your benefits
Medical reviews are suspended while you are meeting the requirements of the Ticket to Work program
Medicare & Medicaid can be maintained for an extended period of time

If you are ready to Discover Your Ability and meet an Employment Specialist, please click the Application tab above so we can get you started! We look forward to working with you to reach your goals!

Know your abilities and skills in English Language. Discover your Abilities, Grow and Enhance your personality Discover yourself.