Press and Media

now browsing by category

 

Comparison of Bitcoin and Gold

Is Gold a Better Investment Than Bitcoin?

Since 2011, gold has consistently declined in value, from $1,800 to $1,200, by more than 33 percent. In contrast, since 2011, Bitcoin has increased from $30 to $4,200, up 13,900 percent in the past seven years.

According to Innes, an inverse correlation has been spotted between cryptocurrencies and gold. He stated that as major cryptocurrencies like Bitcoin drop in value, the price of gold rises.

However, as shown in the yearly chart of gold, the price of gold has not increased in the past year while the cryptocurrency market suffered its fifth biggest correction to date. In fact, since January, the price of gold has dropped from $1,360 to $1,220.

Eik Mazloom MardeMujahid Ka UmmateMuslima key Naam Paigham!

*پانچ سالہ قید وبند کے ایمان افروز محسوسات*

ڈاکٹر صلاح سلطان

*(ڈاکٹر صلاح سلطان مصر کے زبردست عالم، داعی اور مربی ہیں، پانچ سال قبل فوجی باغیوں نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا، تو ہزاروں اسلام پسندوں کے ساتھ ڈاکٹر صلاح سلطان بھی جیل میں بند کردئے گئے، پانچ سال گزرنے پر انہوں نے جیل کے اندر سے اپنے احساسات رقم کر کے بھیجے، کچھ حذف واختصار کے ساتھ اس ایمان افروز تحریر کا ترجمہ پیش ہے۔ محی الدین غازی)*

جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں کھلا ہوا ظلم سہتے سہتے پانچ سال گزر گئے، ان برسوں میں ایسی ایسی سختیاں اور اتنے ظلم وستم ہوئے کہ پانچ سال کئی صدیوں کی طرح لگے، لیکن اس عرصے میں اللہ کے اتنے انعام اور ایسے کرم ہوئے کہ لگا ایک حسین دور تھا جو لمحوں میں گزر گیا۔

جرم وخیانت کے ہاتھوں نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا وہ تو سارا کا سارا اللہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہورہا ہے، وہ داستان ایسی ہولناک ہے کہ اس کا کوئی ایک حصہ بھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے ہمیں وہ جمیل صبر عطا کیا، وہ بے لوث استقامت دی، اور وہ زبردست حوصلہ دیا کہ جس سے ایمان والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پاک کے حوالے کردیا، ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات سے فضل وکرم، فرحت ومسرت اور فوز ونصرت کا انتظار ہے۔ وہ ہمارا مولی ہے، اور ظالموں کا تو کوئی مولی ہی نہیں ہے۔

پانچ برس کی یہ کچھ تصویریں ہیں، جو میں بھیج رہا ہوں ان کے لئے بھی جو عشرت کدوں میں بیٹھ کر ہم پر ہنستے ہیں اور ان کے لئے بھی جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔

پہلی تصویر: ظالموں نے ہمیں قیدخانوں کی مضبوط دیواروں اور آہنی سلاخوں کے درمیان ہر طرح سے مقید کردیا، ایسے میں رب رحمان نے ہم پر آسمان سے رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دئے، سیکھنے کی طلب اور بندگی کے شوق ہمارے پر بن گئے، اور ہم اللہ سے قریب ہونے کے لئے بیتاب ہوئے اور عرش کے گرد پرواز کرنے لگے۔ جیلوں میں محض ہمارے جسم رہ گئے، ہماری روحیں اور ہمارے دل ودماغ مقام علیین کی بلندیوں کا لطف لیتے رہے۔

دوسری تصویر: انہوں نے ہم پر جھوٹی تہمتیں لگائیں، عدالتی کارروائیوں کے ڈرامے رچے، اور ہمارے خلاف سزائے موت اور عمر قید کے فیصلے کئے، ہم نے پیکر تسلیم ورضا بن کر ہر آزمائش کا سامنا کیا، سو اللہ نے ابدی محبت سے ہمیں ڈھانپ دیا، پمارے دل اللہ سے ملنے کے لئے بے تابی سے اچھلنے لگے، اور “جو اللہ سے ملنے کی چاہ رکھتا ہے، اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے” ہم میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹا۔

ہم اپنے بھائیوں کی آنکھوں میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوجانے کی مسکراہٹ اپنی آنکھوں سے دیکھتے، اور اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھتے کہ ظالم ججوں، جھوٹے گواہوں، اور جیل کے جلادوں کے چہروں پر نحوست اور بے اطمینانی چھائی رہتی ہے۔ ان پر غصے اور نفرت کی پرچھائیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ خدا کی قسم ہمارے سینوں کی کیفیت تو ایسی ہے کہ جیسے یہ نہایت وسیع وعریض باغات ہوں، جن میں ہرے بھرے درخت ہوں، ان میں لذیذ ترین پھل ہوں اور خوشبو بکھیرتے حسین وجمیل پھول کھلے ہوں۔

تیسری تصویر: انہوں نے ہمارے ہاتھوں سے قرآن چھین لئے، ایک عرصے تک ہمیں کتاب وقلم سے محروم رکھا، لیکن وہ بھول گئے کہ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس کی آیتیں سینوں میں محفوظ رہتی ہیں۔ ہم اپنے سینوں میں بسی ہوئی قرآنی آیتوں اور اپنے دماغوں میں آباد سنتوں کی رفاقت میں ایک خوب صورت زندگی گزارنے لگے، ہم قرآن میں پڑھتے تھے ” ہم نے اسے اپنی پاس سے رحمت سے نوازا اور خاص اپنے پاس سے اسے علم سکھایا” اس عرصے میں ہم نے اپنے اوپر رب کریم کی اس خاص نوازش کو خوب خوب محسوس کیا۔ کتابوں کے لئے ہم نے اللہ سے خوب دعا کی، پس اللہ نے کتابوں کی آمد کا راستہ بھی کھول دیا، ہم نے اس دور میں سچ مچ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں سے محبت کا لطف خوب خوب اٹھایا، کار خیر اور نفع غیر کی بے پناہ لذت پائی، میں کبھی ایک دن کبھی دو دن اور کبھی تین دن میں قرآن ختم کرلیتا، میری یہ زندگی سنت نبوی کے انوار میں اور فقہ وشریعت اور زبان وادب کے مدرسوں کے سائے میں گزری، میں نے اپنی زندگی کے ان پانچ سالوں میں علم ومعرفت کی اس قدر روشنی پائی جو اس سے پہلے کے پچیس سالوں سے کہیں زیادہ تھی۔ جن لوگوں نے ہم سے قرآن پاک اور کتابیں چھین کر ضبط کئے تھے، وہ جہالت اور حماقت دونوں سے دوچار ہوئے، اور آخرت کی سزا سے پہلے اسی دنیا میں اس سے بڑی آفت کوئی اور نہیں ہوسکتی ہے۔

چوتھی تصویر: انہوں نے ہم سے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کا لطف چھینا، ہمیں ہمارے اساتذہ اور طلبہ سے دور کیا، سمندروں، دریاؤں اور پرندوں اور گلستانوں کے مناظر ہم سے محجوب کئے گئے، لیکن خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں، ہم خوابوں میں اپنے بیوی بچوں اور اپنے اساتذہ اور شاگردوں کی رفاقت سے بھرپور نہایت شان دار زندگی کا لطف اٹھاتے رہے۔ میری پسندیدہ ریاضت تیراکی ہے، اللہ نے مجھے خوابوں میں خوب صورت ترین دریاؤں اور سمندروں کے ساحلوں میں تیراکی کے مزے کرائے، جہاں کوئی گندگی نہیں ہوتی تھی، اللہ نے ہمیں ایسے ایسے لذیذ کھانے کھلائے جیسے آزادی کے زمانے میں ہم نے کبھی نہیں کھائے تھے، حالانکہ میں نے دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے، اور انواع واقسام کے کھانے کھائے ہیں، واللہ ایسا لگتا کہ ہم اللہ کی جنت کے کھانے کھارہے ہیں۔ یہی نہیں ہم نے ایسی ہریالی ایسے پھل اور ایسے خوش نما باغات دیکھے جو دنیا میں ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری مظلوم آہوں کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ان کا حال ہوچھو جو دن رات ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے، ان کے گھروں میں کس طرح بغض ونفرت کی آگ لگی ہوئی ہے، گھر کا سکون کس طرح رخصت ہوگیا ہے، اور ان کے گھر کس طرح خود ان کے لئے تعذیب خانے بنے ہوئے ہیں۔

پانچویں تصویر: یہ ظالم ہمارے سلسلے میں حیرانی کا شکار رہے، انہوں نے ہمیں پیشہ ور اور نہایت خطرناک مجرموں کے ساتھ رکھا، ان کی بدکلامی، ان کی بے تحاشا سگریٹ نوشی اور ان کی ایک ایک حرکت ہمارے لئے سخت اذیت کا باعث تھی، لیکن ہم نے ان کے لئے محبت کے پر بچھائے، ان کو خوب صورتی کے ساتھ سمجھایا، اللہ کے فضل سے انہوں نے توبہ کی، اور بہترین توبہ کی، اور قرآن وسنت یاد کرنے میں ایسا لگے کہ آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، یہ دیکھ کر ان ظالموں نے ہمیں وہاں سے ہٹادیا، اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ رکھ دیا۔

میری تمنا
جیل کی ان تصویروں کے ساتھ میری کچھ تمنائیں بھی منسلک ہیں:

کتنا اچھا ہو اگر ہم ایک منصوبہ پوری امت کے لئے لے کر اٹھیں، ہم فلسطین میں آزادی اور دفاع کی جدوجہد کرنے والوں کو چھوڑ نہ دیں کہ وہ تنہا غاصب صہیونی دشمنوں اور ان کی پشت پناہ صلیبی اور ملحد مغربی قوتوں کا سامنا کریں ، ہم اس منصوبے کو فلسطینی اسیروں کی آزادی سے لے کر مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کی آزادی کا منصوبہ بنادیں، اس طرح کہ یہ ایک اسلامی، عربی اور انسانی قضیہ ہوجائے، اور اس میں تمام اسلامی قومی اور عالمی انصاف پسند دھارائیں شامل ہوجائیں، اسے مسلمان مددگار بھی ملیں اور غیر مسلم مددگار بھی ملیں۔

اور کتنا اچھا ہو اگر پوری امت کو اسلام سے قریب کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے کا مشن ہم سب کا مشن بن جائے۔

میری قوم کے لوگو، یہ مشن وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے وقت میں ذرا بھی وسعت نہیں بچی ہے، ایک دن کی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں ہے، ایک ہی دن میں سیاسی میدان میں امت پر جبر واستبداد کا شکنجہ اور زیادہ کس جائے گا، معاشی میدان میں سود اور کرپشن میں اور اضافہ ہوگا، سماجی سطح پر بدکاری اور اباحیت اور بڑھے گی، صحافت میں جھوٹ اور بے حیائی اور بڑھے گی، خاندانوں میں تفریق اور بیزاری کی کیفیت میں اور شدت آئے گی، فرد میں لالچ اور خود غرضی کا زہر اور سرایت کرجائے گا، ملکی سطح پر پسماندگی بڑھے گی اور اخلاق میں اور گراوٹ آئے گی، اور دنیا بھر میں صہیونی اور صلیبی اور اشتراکی قوتوں کا قبضہ اور بڑھتا جائے گا۔ ان بڑے بڑے گناہوں کے ساتھ ہم اللہ کا سامنا کیسے کریں گے؟

مجھے عظیم دین اسلام کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں ہے، بندوں کے رب نے قرآن وسنت اور اس پیغام کی حامل جماعت کی حفاظت کے ساتھ اس دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے اپنے بارے میں، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں، کہ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہا جائے: “کیا ہم نے تمہیں وہ زندگی نہیں دی تھی، جس میں نصیحت لینے والا نصیحت لے لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا؟”

بار الہا، ہم پر اور ہماری امت پر جو حالت چھائی ہوئی ہے اسے دور کردے، اور ہم سے وہ کام لے لے جو تجھے سب سے زیادہ پسند ہو۔

Role of Muslims in Freedom of India From British Rule!

Hidden Truth of the Indian Freedom!
*(Must read and convey to every citizen of India)*

A renowned Indian journalist, Writer and regular columnist in The Hindustan Times, Sardar Khuswant Singh Narrates the following;
“Indian Freedom is written on Muslim’s blood, their participation in the freedom struggle is much more than their percentage of population”.

There are 95300 freedom fighters’ names written on India Gate, Delhi out of which 61945 are Muslims, implying that 65% freedom fighters are Muslims. Unfortunately, the sacrifices of Muslims in the freedom struggle does not find adequate mention or else it is purposely concealed!

Every Indian should know this;

In fact the first freedom struggle is led by Hyder Ali, and his son Tipu Sultan on 1780s and 1790s. Mysorean rockets were the first iron-cased rockets, successfully deployed for military use. Hyder Ali, and his son Tipu Sultan, used these rockets and cannons effectively against the British invaders during 1780s and 1790s.

Begum Hazrat Mahal; the unsung heroine of the first war of Independence shot herself the British ruler Sir. Henry Lawrence and defeated the British army in a decisive Battle at Chinhat on June 30 1857.

Moulavi Ahamadullah Shah is in the lead of organising the first freedom struggle.

Ashfaqulla Khan was hanged in a conspiracy case against the British Raj at the young age of 27.

Maulana Abul Kalam Azad, a great Indian Islamic scholar and the a strong believer in unity in diversity lead the Indian National Congress during the Indian independence movement.

On Picketing of liquor shops struggle led by Mahatma Gandhi, 10 are Muslims out of 19 participants.

Last Mogul Emperor Badur Shah Zafar leads the first war of independence in 1857.

Rajiv Gandhi while visiting the Bahadur Shah’s grave: “Although you (Bahadur Shah) do not have land in India, you have it here, your name is alive… I pay homage to the memory of the symbol and rallying point of India’s first war of independence….”

M.K.M Ameer Hamza, donated multi million rupees for Indian National Army (INA). He also head the Azad library reading propaganda of INA and now is living poor in a rented house at Ramanadhapuram Tamil Nadu.

Memon Abdul Habeeb Yusuf Marfani, donated almost his entire fortune of Rs 1 crore to the Indian National Army, a princely sum in those days by emptying his entire asset! to Netaji’s INA.

Shah Nawaz Khan was a soldier, politician, Chief officer and commander, in the Indian National Army (INA).

Netaji’s ministry had 19 ministers 5 of them were Muslims Mother Beevimma; a Muslim lady donated over 30 lakhs rupees for Indian freedom struggle. Abul Kalam Azad, Jinnah and Nawab of Bihar are the three who had initially made the plan of receiving independence. how!

Suraiya Tayyabji (a Muslim lady) designed current Indian National Flag. No one used holy places in the war for freedom war except the Muslims. Muslims used the Masjid for freedom struggle; when Imam was addressing about Indian freedom in Hooly Masjid, United province, British Army shot all the Muslims in the Masjid;

Muslims ruled India for over 800 years; they didn’t steal anything from India as British, Dutch, French did;

Muslims lived here, ruled, died and buried here. Their families and generations live here. They developed India giving it 25% GDPs with tons of knowledge in literature, Architecture, judicial and political structure, government body and management structure.

Tamil Nadu: Ismael Shaheb, Maruda Nayagam, fought against British for 7 continuous years and made the British a hell fear. We all know V.O.C (kapalotiya Tamilzhan) The first Sailor sailed aginst West Indian Company in Indian freedom war. How many of us know that Fakkir Muhammed Rawther, was the one who donated the ship!. When VOC was arrested; Muhammed Yaseen has been shot dead by British police in the demonstration to get the release of VOC. Tiruppur Kumaran (“Kodi kata kumaran”) who participated in the Indian independence movement; With Kumaran 7 other participants were arrested; all were Muslims, Abdul latheef, Akbar Ali, Mohideen Khan, Abdul Rahim, Vavu Shaheb, Abdul Lateef.

The story of Indian Muslims’ sacrifice is an endless depiction of undeniable facts.

In the present atmosphere of hatred and enmity these facts have to be publicised and this post must reach millions of Indians.

Again a Shameful Act in World’s Largest Democracy? Failure of Governance in India.

What is going on in CBI? and Prime Minister’s Office in INDIA?

 

Is it Media War? Or War on Media?

And yet another pen is broken!

BODY OF KHASHOGGI

THE WASHINGTON POST
REPORTER

BODY FOUND
DISMEMBERED

MAINSTREAM MEDIA
BLACKOUT.  https://youtu.be/8IRZ9YdN4NA

National Dastak

https://www.youtube.com/channel/UC7IdArS3MibBKFsqckq8GhQ

Journalism For Sale.

The Sarkari Musalman

MeToo Campaign