Social Media

now browsing by category

 

Eik Mazloom MardeMujahid Ka UmmateMuslima key Naam Paigham!

*پانچ سالہ قید وبند کے ایمان افروز محسوسات*

ڈاکٹر صلاح سلطان

*(ڈاکٹر صلاح سلطان مصر کے زبردست عالم، داعی اور مربی ہیں، پانچ سال قبل فوجی باغیوں نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا، تو ہزاروں اسلام پسندوں کے ساتھ ڈاکٹر صلاح سلطان بھی جیل میں بند کردئے گئے، پانچ سال گزرنے پر انہوں نے جیل کے اندر سے اپنے احساسات رقم کر کے بھیجے، کچھ حذف واختصار کے ساتھ اس ایمان افروز تحریر کا ترجمہ پیش ہے۔ محی الدین غازی)*

جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں کھلا ہوا ظلم سہتے سہتے پانچ سال گزر گئے، ان برسوں میں ایسی ایسی سختیاں اور اتنے ظلم وستم ہوئے کہ پانچ سال کئی صدیوں کی طرح لگے، لیکن اس عرصے میں اللہ کے اتنے انعام اور ایسے کرم ہوئے کہ لگا ایک حسین دور تھا جو لمحوں میں گزر گیا۔

جرم وخیانت کے ہاتھوں نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا وہ تو سارا کا سارا اللہ کے ریکارڈ میں محفوظ ہورہا ہے، وہ داستان ایسی ہولناک ہے کہ اس کا کوئی ایک حصہ بھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے ہمیں وہ جمیل صبر عطا کیا، وہ بے لوث استقامت دی، اور وہ زبردست حوصلہ دیا کہ جس سے ایمان والوں کی آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پاک کے حوالے کردیا، ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات سے فضل وکرم، فرحت ومسرت اور فوز ونصرت کا انتظار ہے۔ وہ ہمارا مولی ہے، اور ظالموں کا تو کوئی مولی ہی نہیں ہے۔

پانچ برس کی یہ کچھ تصویریں ہیں، جو میں بھیج رہا ہوں ان کے لئے بھی جو عشرت کدوں میں بیٹھ کر ہم پر ہنستے ہیں اور ان کے لئے بھی جو ہم سے محبت کرتے ہیں۔

پہلی تصویر: ظالموں نے ہمیں قیدخانوں کی مضبوط دیواروں اور آہنی سلاخوں کے درمیان ہر طرح سے مقید کردیا، ایسے میں رب رحمان نے ہم پر آسمان سے رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دئے، سیکھنے کی طلب اور بندگی کے شوق ہمارے پر بن گئے، اور ہم اللہ سے قریب ہونے کے لئے بیتاب ہوئے اور عرش کے گرد پرواز کرنے لگے۔ جیلوں میں محض ہمارے جسم رہ گئے، ہماری روحیں اور ہمارے دل ودماغ مقام علیین کی بلندیوں کا لطف لیتے رہے۔

دوسری تصویر: انہوں نے ہم پر جھوٹی تہمتیں لگائیں، عدالتی کارروائیوں کے ڈرامے رچے، اور ہمارے خلاف سزائے موت اور عمر قید کے فیصلے کئے، ہم نے پیکر تسلیم ورضا بن کر ہر آزمائش کا سامنا کیا، سو اللہ نے ابدی محبت سے ہمیں ڈھانپ دیا، پمارے دل اللہ سے ملنے کے لئے بے تابی سے اچھلنے لگے، اور “جو اللہ سے ملنے کی چاہ رکھتا ہے، اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے” ہم میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹا۔

ہم اپنے بھائیوں کی آنکھوں میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہوجانے کی مسکراہٹ اپنی آنکھوں سے دیکھتے، اور اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھتے کہ ظالم ججوں، جھوٹے گواہوں، اور جیل کے جلادوں کے چہروں پر نحوست اور بے اطمینانی چھائی رہتی ہے۔ ان پر غصے اور نفرت کی پرچھائیاں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ خدا کی قسم ہمارے سینوں کی کیفیت تو ایسی ہے کہ جیسے یہ نہایت وسیع وعریض باغات ہوں، جن میں ہرے بھرے درخت ہوں، ان میں لذیذ ترین پھل ہوں اور خوشبو بکھیرتے حسین وجمیل پھول کھلے ہوں۔

تیسری تصویر: انہوں نے ہمارے ہاتھوں سے قرآن چھین لئے، ایک عرصے تک ہمیں کتاب وقلم سے محروم رکھا، لیکن وہ بھول گئے کہ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس کی آیتیں سینوں میں محفوظ رہتی ہیں۔ ہم اپنے سینوں میں بسی ہوئی قرآنی آیتوں اور اپنے دماغوں میں آباد سنتوں کی رفاقت میں ایک خوب صورت زندگی گزارنے لگے، ہم قرآن میں پڑھتے تھے ” ہم نے اسے اپنی پاس سے رحمت سے نوازا اور خاص اپنے پاس سے اسے علم سکھایا” اس عرصے میں ہم نے اپنے اوپر رب کریم کی اس خاص نوازش کو خوب خوب محسوس کیا۔ کتابوں کے لئے ہم نے اللہ سے خوب دعا کی، پس اللہ نے کتابوں کی آمد کا راستہ بھی کھول دیا، ہم نے اس دور میں سچ مچ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں سے محبت کا لطف خوب خوب اٹھایا، کار خیر اور نفع غیر کی بے پناہ لذت پائی، میں کبھی ایک دن کبھی دو دن اور کبھی تین دن میں قرآن ختم کرلیتا، میری یہ زندگی سنت نبوی کے انوار میں اور فقہ وشریعت اور زبان وادب کے مدرسوں کے سائے میں گزری، میں نے اپنی زندگی کے ان پانچ سالوں میں علم ومعرفت کی اس قدر روشنی پائی جو اس سے پہلے کے پچیس سالوں سے کہیں زیادہ تھی۔ جن لوگوں نے ہم سے قرآن پاک اور کتابیں چھین کر ضبط کئے تھے، وہ جہالت اور حماقت دونوں سے دوچار ہوئے، اور آخرت کی سزا سے پہلے اسی دنیا میں اس سے بڑی آفت کوئی اور نہیں ہوسکتی ہے۔

چوتھی تصویر: انہوں نے ہم سے بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کا لطف چھینا، ہمیں ہمارے اساتذہ اور طلبہ سے دور کیا، سمندروں، دریاؤں اور پرندوں اور گلستانوں کے مناظر ہم سے محجوب کئے گئے، لیکن خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں، ہم خوابوں میں اپنے بیوی بچوں اور اپنے اساتذہ اور شاگردوں کی رفاقت سے بھرپور نہایت شان دار زندگی کا لطف اٹھاتے رہے۔ میری پسندیدہ ریاضت تیراکی ہے، اللہ نے مجھے خوابوں میں خوب صورت ترین دریاؤں اور سمندروں کے ساحلوں میں تیراکی کے مزے کرائے، جہاں کوئی گندگی نہیں ہوتی تھی، اللہ نے ہمیں ایسے ایسے لذیذ کھانے کھلائے جیسے آزادی کے زمانے میں ہم نے کبھی نہیں کھائے تھے، حالانکہ میں نے دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے، اور انواع واقسام کے کھانے کھائے ہیں، واللہ ایسا لگتا کہ ہم اللہ کی جنت کے کھانے کھارہے ہیں۔ یہی نہیں ہم نے ایسی ہریالی ایسے پھل اور ایسے خوش نما باغات دیکھے جو دنیا میں ہم نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری مظلوم آہوں کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ان کا حال ہوچھو جو دن رات ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہے، ان کے گھروں میں کس طرح بغض ونفرت کی آگ لگی ہوئی ہے، گھر کا سکون کس طرح رخصت ہوگیا ہے، اور ان کے گھر کس طرح خود ان کے لئے تعذیب خانے بنے ہوئے ہیں۔

پانچویں تصویر: یہ ظالم ہمارے سلسلے میں حیرانی کا شکار رہے، انہوں نے ہمیں پیشہ ور اور نہایت خطرناک مجرموں کے ساتھ رکھا، ان کی بدکلامی، ان کی بے تحاشا سگریٹ نوشی اور ان کی ایک ایک حرکت ہمارے لئے سخت اذیت کا باعث تھی، لیکن ہم نے ان کے لئے محبت کے پر بچھائے، ان کو خوب صورتی کے ساتھ سمجھایا، اللہ کے فضل سے انہوں نے توبہ کی، اور بہترین توبہ کی، اور قرآن وسنت یاد کرنے میں ایسا لگے کہ آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں، یہ دیکھ کر ان ظالموں نے ہمیں وہاں سے ہٹادیا، اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ رکھ دیا۔

میری تمنا
جیل کی ان تصویروں کے ساتھ میری کچھ تمنائیں بھی منسلک ہیں:

کتنا اچھا ہو اگر ہم ایک منصوبہ پوری امت کے لئے لے کر اٹھیں، ہم فلسطین میں آزادی اور دفاع کی جدوجہد کرنے والوں کو چھوڑ نہ دیں کہ وہ تنہا غاصب صہیونی دشمنوں اور ان کی پشت پناہ صلیبی اور ملحد مغربی قوتوں کا سامنا کریں ، ہم اس منصوبے کو فلسطینی اسیروں کی آزادی سے لے کر مسجد اقصی، قدس اور فلسطین کی آزادی کا منصوبہ بنادیں، اس طرح کہ یہ ایک اسلامی، عربی اور انسانی قضیہ ہوجائے، اور اس میں تمام اسلامی قومی اور عالمی انصاف پسند دھارائیں شامل ہوجائیں، اسے مسلمان مددگار بھی ملیں اور غیر مسلم مددگار بھی ملیں۔

اور کتنا اچھا ہو اگر پوری امت کو اسلام سے قریب کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے کا مشن ہم سب کا مشن بن جائے۔

میری قوم کے لوگو، یہ مشن وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی کے لئے وقت میں ذرا بھی وسعت نہیں بچی ہے، ایک دن کی بھی تاخیر کی گنجائش نہیں ہے، ایک ہی دن میں سیاسی میدان میں امت پر جبر واستبداد کا شکنجہ اور زیادہ کس جائے گا، معاشی میدان میں سود اور کرپشن میں اور اضافہ ہوگا، سماجی سطح پر بدکاری اور اباحیت اور بڑھے گی، صحافت میں جھوٹ اور بے حیائی اور بڑھے گی، خاندانوں میں تفریق اور بیزاری کی کیفیت میں اور شدت آئے گی، فرد میں لالچ اور خود غرضی کا زہر اور سرایت کرجائے گا، ملکی سطح پر پسماندگی بڑھے گی اور اخلاق میں اور گراوٹ آئے گی، اور دنیا بھر میں صہیونی اور صلیبی اور اشتراکی قوتوں کا قبضہ اور بڑھتا جائے گا۔ ان بڑے بڑے گناہوں کے ساتھ ہم اللہ کا سامنا کیسے کریں گے؟

مجھے عظیم دین اسلام کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں ہے، بندوں کے رب نے قرآن وسنت اور اس پیغام کی حامل جماعت کی حفاظت کے ساتھ اس دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوا ہے، لیکن مجھے ڈر ہے اپنے بارے میں، اپنے بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں، کہ کہیں قیامت کے دن یہ نہ کہا جائے: “کیا ہم نے تمہیں وہ زندگی نہیں دی تھی، جس میں نصیحت لینے والا نصیحت لے لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا؟”

بار الہا، ہم پر اور ہماری امت پر جو حالت چھائی ہوئی ہے اسے دور کردے، اور ہم سے وہ کام لے لے جو تجھے سب سے زیادہ پسند ہو۔

What is going on in CBI? and Prime Minister’s Office in INDIA?

 

Muslims in India

تمام مسلم باشندوں سے گزارش ہے کہ ہمارے ملک میں چاروں طرف سازشوں کا دور چل پڑا ہے، RSS اور BJP ہر روز ہندو سماج کو گھر گھر جا کر مسلمانوں کے خلاف زہر پلا رہے هیں ہردن ملک کے کسی نہ کسی گوشے میں مسلمانوں پرکسی بھی بہانے سے ظلم و سزائے موت دی جا رہی ہے. RSS کے لوگ مسلمانوں پر زیادتی کے موقع تلاش کر رہے ہیں .اس طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے حقوق کو جانیں جو کہ ہمیں بھارت کے آئین نے دیا ہے

کیونکہ اس ملک کی ایک ایک انچ زمین پرہمارا بھی برابرکا حق ہے.
اگر کوئی بھی شخص آپ سے برا سلوک کرتا ہے یا آپ سے مسلم ہونے کی وجہ سے مار پیٹ یا گالی گلوج کرتا ہے تو آپ خاموش نہ بیٹھیں کیونکہ آپکی یہی خاموشي ان ملک کے غداروں کے حوصلوں کو مضبوط کرتی ہے .آپ ایک عزت دار شہری ہونے کا فرض نبھائے اور ایسے ملک کے دشمنوں کے خلاف شکایت درج کرائیں.

1. آل انڈیا مسلم پرسنل لا آف بورڈ یعنی AIMPLB ایک ایسی تنظیم ہے جو کئی سالوں سے مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہے.
اگر کسی مسلمان بھائی کو کوئی بھی پریشانی ہو تو آپ اس ادارے میں کال کرسکتے ہیں جہاں آپ کو مکمل مفت قانونی مدد ملے گی اور وکالت بھی فراہم کی جاے گی.

AIMPLB (دہلی)
رابطہ: 911126322991
فیکس: 911126314784
ای میل: aimplboard@gmail.com

خدمت (دہلی)
اقلیتی مدد لائن
1800112001 (ٹول فری)
09002354354

. اور بھی بہت سے مسلم ادارے ہیں جن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
CAVE(A.R.Agwan)
011-29946037
9911526380

MCED (غفار شیخ)
0240-2321223 /24
09422206541

مسلم یویو مانچ
(وسیم عرفانی)
01477-220137

مسلم وقف بورڈ:

آندھرا پردیش
(ایم جے اکبر)
09440810006
040-66106248

آسام
(نقیب الزمان)

09864021968
0361-2235285

بہار
(سید شیر علی)
07739323777
0612-2230581

گجرات
(اے.آئ سید)
09909908299
079-23235467

مدھ پردیش
(شوکت محمد خان)
09425004331
0755-2543175

اتر پردیش
(ظفر احمد فاروقی)
09455557777
0522-2239378

دہلی
(ایس ایم علی)
09650131666
011-23274417
Khadim haji Aas muhammad,9639662627
جتنا ممکن ہو اس کا اشتراک کریں تاکہ کسی بھی مسلم بھائی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو.

اچھی خبر:

آخر کسی نے کچھ توشروع کیا …
مشکل میں پھنسے مسلمانوں کےلئے ہلپ لائن کھولا ہے
راشٹروادی مسلم منچ نے پہلے ہی دن 742 کال موصول کیا
اگر کوئی لڑکا مسلمان لڑکی کو پریشان کر رہا ہے تو اسے کیسے بچائے … اس کی معلومات بھی دی جا رہی ہے.

تقریبا500کارکنوں کی ٹیم کسی بھی مسلم کی مدد کے لئے24گھنٹہ تیار ہے

آصف احمد قومی صدر راشٹروادی مسلم فورم کا کہنا ہے، “مسلمانوں کے درمیان ?بھاي چارا بڑھانے کے مقصد سے اس ہیلپ لائن کی شروعات کی گئی تھی. پریشانی کے بارے میں معلومات دینا اور ساتھ ہی کسی نامعلوم شہر میں مشکل میں پھنسے مسلمانوں کو قانونی اور دیگر مدد کرنااسکا مقصد ہے، ہم فوری طور پر کالر کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے. ”

آصف احمد کم از کم اب آپ مسلمانوں کے لئے زمینی سطح پر کچھ کرنے کی جرات کرتے ہیں .. اس کا شکریہ.

دوستوں کی تعداد بنائیں اور مسلم بھائیوں کے ساتھ ان کا اشتراک کریں. 9610426063
7677437443
822 9870024
9045966061
8890095786
9529380372
9024514986
9680526142

شیر رکنا نہیں چاہئے

[بھائی آپکے پاس جتنے بھی گروپ ہیں برائے مہربانی سب کو بھیجیں
مسلم میڈیا گروپ 9826026117
براے مہربانی چار گروپ میں ضرور بھیجیں

National Dastak

https://www.youtube.com/channel/UC7IdArS3MibBKFsqckq8GhQ

Journalism For Sale.

MeToo Campaign

What is India’s caste system?

What is India’s caste system?

https://www.bbc.com/news/world-asia-india-35650616

A GOOD MESSAGE ABOUT LAST PROPHET OF ALLAH ! “MOHAMMED” !

A GOOD MESSAGE ABOUT LAST PROPHET OF ALLAH ! “MOHAMMED” !

As the United States Supreme Court judges sit in their chamber, to their right, front, and the left sides are friezes depicting the 18 greatest lawgivers of the world.

The second frieze to the right features a person holding a copy of the Quran, the Islamic holy book. It is intended to recognize Prophet Muhammad as one of the greatest lawgivers in the world, along with Moses, Solomon, Confucius, and Hammurabi, among others.

Here is what the Supreme Court’s website says about this frieze:

Muhammad (c. 570 – 632) The Prophet of Islam. He is depicted holding the Qur’an. The Qur’an provides the primary source of Islamic Law. Prophet Muhammad’s teachings explain and implement Qur’anic principles. The figure above is a well-intentioned attempt by the sculptor, Adolph Weinman, to honor Muhammad, and it bears no resemblance to Muhammad. Muslims generally have a strong aversion to sculptured or pictured representations of their Prophet.

In the year in which the frieze of Prophet Muhammad was erected, Franklin D. Roosevelt was president, and Charles Evans Hughes was the Chief Justice. It is not known how the court deliberated on this architectural contribution. No one at that time thought it inappropriate to include Prophet Muhammad as one of the greatest lawgivers of the world at the chambers of the United States Supreme Court. This was despite the fact that American society at that time was not as diverse as it is today. Women had just acquired the right to vote, and Japanese-Americans were about to be sent to concentration camps.

While the learned people in our country knew of the contribution of Prophet Muhammad, our neighbors today are given regular doses of misinformation about the Prophet and Sharia, the path of the Prophet, more commonly described as Islamic law.

Prophet Muhammad’s Peace And Justice Movement

Prophet Muhammad envisioned a just and peaceful society. With a mass peace movement, he achieved this goal during his life. He hated war and always preferred a peace treaty with his opponents, even if it was not favorable to his and his followers’ interests. He established his first peace sanctuary in the city of Madinah without any war whatsoever. While he did fight to defend that peace sanctuary, it is critical to note that the total time of actual fighting defending his people was not more than six days in his life of 63 years. He struggled to secure a peace that ensured justice and liberation for all people, especially for those most marginalized and oppressed.

Here are some of the Prophet’s notable contributions

  • He taught that there is one God for all mankind.
  • He taught Muslims to believe in all of the prophets and all divinely revealed scriptures, especially Biblical ones.
  • As the Prophet established a peace sanctuary called Madinah after his migration from Makkah, he negotiated treaties with the Jews and the pagans of Madinah. Muslims consider these treaties to be the first written surviving constitution in the world. The constitution guaranteed freedom of religion, self-governance, and legal autonomy in all matters. It called for the common defense of Madinah, and declared the Jews, pagans, and Muslims of that treaty to be one nation, or “one Ummah.”
  • He prohibited hunting and the cutting of trees in the peace sanctuary of Madinah.
  • He declared killing non-combatants to be illegal, placed severe restrictions on how warfare could be conducted, and even paid compensation for the killing of some dogs by one of his commanders.
  • The Prophet’s teachings and the Quran are the two major sources of Sharia. Some of his precepts include the following:
    • Moral behavior: personal cleanliness; emphasis on preservation and nourishment of all life forms, including plants and animals; rituals and spirituality of prayers; fasting and charity; righteous conduct and good deeds; and rights of parents, children, spouses, and neighbors.
    • Interpersonal relations: teaching to enhance human relations and to avoid breaking relationships; encouraging mutual consultation in all affairs; prohibiting bigotry and racism; and emphasizing kindness and hospitality toward others, especially the weak and the poor.
    • Financial guidelines: encouraging charity, rights of the poor, respect for workers, and rejection of exploitation; and circulation of wealth among all classes.
    • Personal rules and laws regarding privacy, gender relations, marriage, divorce, and inheritance.
    • Criminal laws implementing the many of the Ten Commandments. (The only one of the Ten Commandments not having a parallel statement in the Quran is the one having to do with keeping the Sabbath.) Less than two percent of Quranic verses deal with the criminal law of Islam, which is a part of the Sharia but not the totality of it.
  • The Prophet asked his judges to make things easy for people, not difficult.
  • He declared all sins forgivable as long as a person asks God’s forgiveness and that of the one who has been wronged.
  • The Prophet gave special emphasis to honoring treaties, standing up for justice, and opposing oppression.

Why Muslims Often Demand Sharia In The Muslim World

In the Muslim world, many Muslims are sick and tired of their corrupt leaders. As such, they demand Sharia, envisioning a return to a just and peaceful system like the time when a caliph would submit himself without any immunity to a judge on an equal footing with his accuser. The United Nations gives all nations the right to self-determination. That is how even in the U.S.-brokered constitutions of Afghanistan and Iraq there is importance given to Sharia principles.

Unfortunately, the brutal and often biased implementation of criminal law in some Muslim countries has given Sharia a bad name. The Prophet would be horrified to see this merciless brutality in the name of Islam by some Muslims.

It Is Against Sharia To Impose Sharia On Anyone!

Almost all the Sharia with which Muslim Americans deal relates to personal religious life, ethics, morality, and human relationships. Practicing Muslims live Sharia every day as they pray, fast, eat Halal (permissible in Islam) food, practice charity, raise families, and serve communities. Sharia is like Halacha, which is practiced by Jews in America. Jews in America even operate Jewish courts in the U.S., called Beth Din. Muslim Americans do not operate any such courts.

Muslim Americans are subject to U.S. laws, just like any other citizens. No Muslim has called for the replacement of the U.S. Constitution with Sharia. Sharia is neither a constitution nor is it all law. It is actually against Sharia to impose Sharia on anyone. Further, Sharia only applies to Muslims, not to non-Muslims.

Muslims have been demanding equal protection under the U.S. Constitution since their rights are regularly violated in the current Islamophobic environment in which we are living, where Muslims are continuously targeted and subjected to bigotry and prejudice.

America’s Founding Fathers were wise people. Today’s Islamophobes can learn a great deal from them. In the Treaty of Peace and Friendship (1796) between the United States and Tripoli they stated:

“As the government of the United States of America is not in any sense founded on the Christian Religion, as it has in itself no character of enmity against the laws, religion or tranquility of Musselmen (Muslims)…”

Further Reading

For more Muslim perspectives about Sharia please visit Sharia101.org.
Please also read Rose Wilder Lane’s Discovery of Freedom. She is the daughter of Laura Ingalls Wilder, of Little House on the Prairie fame. She considered Prophet Muhammad, Prophet Abraham, and the American Revolution to be the three major sources of freedom in the world.
Muhammad: A Prophet For Our Time, by Karen Armstrong, published by HarperCollins
Muhammad: His Life Based on the Earliest Sources, by Martin Lings, published by Inner Traditions.

Social Media Manager

EX. BJP WORKER EXPOSED BJP-MODI-RSS-IT CELL

EX. BJP WORKER EXPOSED BJP-MODI-RSS-IT CELL

what is fake news.